اعلیٰ عدلیہ محفوظ،زیریں عدلیہ نشانے پر!

اعلیٰ عدلیہ محفوظ،زیریں عدلیہ نشانے پر!
اعلیٰ عدلیہ محفوظ،زیریں عدلیہ نشانے پر!

  

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے فرمایا ہے کہ کوئی مال کا لال پیدا نہیں ہوا جو عدالت کا فیصلہ اِدھر سے اُدھر کرا سکے۔ یہ بھی کہا کہ دو فیصد وکلا نے سسٹم کو مفلوج کر رکھا ہے،مگر ہم عدالتوں کو ہائی جیک نہیں کرنے دیں گے۔مَیں ان کا یہ بیان پڑھ رہا تھا تو میرے سامنے سوشل میڈیا پر ایک لہولہان شخص کی تصویر پڑی تھی۔

بتایا گیا تھا یہ ایک سول جج ہیں،جنہیں ایک وکیل نے کرسی مار کر خون میں نہلا دیا۔ تفصیل پڑھی تو معلوم ہوا سول جج صاحب کا نام خالد محمود وڑائچ ہے، جو جڑانوالہ میں تعینات ہیں۔ عمران نامی ایک وکیل نے اپنی مرضی کا فیصلہ نہ دینے پر طیش میں آ کر کرسی اٹھائی اور جج صاحب کو دے ماری،جو اُن کے سر پر لگی، چہرے پر بھی زخم آئے اور انہیں فوری طور پر طبی امداد دینے کے لئے ہسپتال لے جایا گیا، ملزم وکیل حسب ِ روایت فرار ہو گیا۔ بار کونسل نے اس کی رکنیت معطل کر دی اور جڑانوالہ بار نے اُس کا کچہری میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا۔

اب یہ وکیل بھی کسی ماں کا لال ہے،جس نے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے ایک جج کا سر کھول دیا۔مجھے یقین ہے کہ جج صاحب کو انصاف نہیں ملے گا،وکیل اول تو گرفتار نہیں ہو گا، ہوا تو اُس کے ساتھ وکیلوں کی فوج ظفر موج عدالت جائے گی اور اُس کی ضمانت کرا لے گی۔ نہ تو اعلیٰ عدالت کے جج سول جج کی حمایت میں آئیں گے اور نہ ہی مستقل بنیادوں پر اس کرسی مار وکیل کا لائسنس معطل رکھا جا سکے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے جن دو فیصد وکلا کا ذکر کیا ہے، وہ 98فیصد پر بھاری ہیں۔یہی وکیل ہیں جو الیکشن جتواتے ہیں اور یہی وکیل ہیں، جنہیں سینئر وکلا بوقت ِ ضرورت عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

اگر بار کونسلوں نے ان کی سرزنش شروع کر دی تو وکلا سیاست اپنی موت آپ مر جائے گی،سو ایسے اتھرے وکلا کی بڑی ڈیمانڈ ہے اور انہیں تھپکی دینے والے یہی98فیصد وکلا ہیں، سو خاطر جمع رکھیں جج صاحب کو انہی زخموں کے ساتھ اسی تنخواہ پر کام کرنا پڑے گا، وگرنہ دوسرا راستہ پھر گھر کا ہی ہے۔ یہ آج کا احوال نہیں،بلکہ عرصے سے یہی کچھ ہوتا چلا آ رہا ہے۔

مجھے کل سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں دو روز کے لئے ایک ایسے جج صاحب کو تعینات کیا گیا، جن کے خلاف ماضی قریب میں مزاحمتی تحریک چل چکی تھی اور خاصا دنگا فساد ہوا تھا،انہیں صرف اِس لئے دو روز ملتان بنچ میں بھیجا گیا کہ وہ وکلا کا ردعمل چیک کریں، چنگاری بجھ گئی ہے یا بھڑک رہی ہے؟ چونکہ بار کے انتخابات ہو چکے ہیں اور نئے عہدیدار آ گئے ہیں،اِس لئے جج صاحب کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ اپنے آزمائشی دن گزار کر چلے گئے۔اب غالباً انہیں مستقل بنچ میں تعینات کیا جائے گا…… تو صاحبو! جہاں صورتِ حال یہ ہو وہاں ایک سول جج کی کیا مجال ہے کہ وکلاء کے ”احکامات“ کی حکم عدولی کا رسک لے سکے، اگر ایسا کرے گا، تو پھر اُسے لہولہان چہرے کے ساتھ نشانِ عبرت بنا دیا جائے گا۔

ہر چیف جسٹس نے جب بھی کسی بار سے خطاب کیا تو یہ جملہ ضرور کہا کہ بار اور بینچ انصاف کی گاڑی کے دو پہیئے ہیں، ان میں ہم آہنگی کے بغیر انصاف نہیں ہو سکتا، حالانکہ ہر چیف جسٹس صاحب یہ جانتے ہیں کہ بار اور بینچ میں ہمیشہ ٹھنی رہی ہے، ہم آہنگی تو چھو کر نہیں گزری۔ عدلیہ پر دباؤ پڑتا ہے کہ وہ فوری انصاف نہیں کر رہی تو وقت کا چیف جسٹس ایک جوڈیشل پالیسی بنا دیتا ہے، ججوں کو حکم دیا جاتا ہے اس کے مطابق مقدمات کو وقت مقررہ میں انجام تک پہنچائیں۔ زیریں عدلیہ کے جج صاحبان ایسے حکم پر عجیب عذاب میں آ جاتے ہیں، وہ وکلاء کو شہادتوں، بحث اور دیگر مراحل محدود مدت میں طے کرانے کا حکم دیتے ہیں تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوئی جج بالکل ہی سیدھا ہو جائے تو اس کے کس بل نکالنے کے لئے دو فیصد وکلاء کو آگے کر دیا جاتا ہے۔

کسی ایک جج کو نشانِ عبرت بنا کر باقیوں کو پیغام مل جاتا ہے،پالیسی وہی ہے جو وکلاء کہیں گے، باقی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں محفوظ بیٹھے ہوئے جج صاحبان انہیں بچانے نہیں آئیں گے۔

جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی بھی جانتے ہیں کہ انہوں نے عدالتوں کو ہائی جیک نہ ہونے دینے کی بابت جو ریمارکس دیئے ہیں،وہ صرف زیب داستان کے لئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عدلیہ ہائی جیک ہو چکی ہے۔

ہم بدقسمتی سے صرف سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ہی کو عدلیہ سمجھتے ہیں، حالانکہ اصل عدلیہ تو وہ ہے جو ضلع اور تحصیل کی سطح پر کام کر رہی ہے۔ جہاں لاکھوں مقدمات زیر التواء ہیں اور سول جج و سیشن جج صاحبان تلوار کی دھار پر بیٹھ کر مقدمات سنتے اور فیصلے کرتے ہیں۔

کیا آپ نے آج تک سنا ہے کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے کسی جج صاحب کو کسی وکیل یا وکلاء نے کرسی مارنے یا جوتا دکھانے کی جرأت کی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں عدالتوں کے پاس اختیارات ہیں۔ قانون فوری حرکت میں آ جاتا ہے، لیکن ایک سول جج وکلاء کے سامنے چیونٹی کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔ اس پر تشدد ہو جائے تو ضلعی پولیس بھی بار کے صدر کی اجازت سے حرکت میں آتی ہے وگرنہ مقدمہ درج کرتے ہوئے اس کے پر بھی جلتے ہیں کہ کہیں کالے کوٹ کا طوفان اس کی طرف ہی نہ آ جائے۔ مَیں نے خود دیکھا ہے کہ کسی سول جج سے وکلاء نے بدتمیزی کی، اسے عدالت سے باہر نکال کر اس کی عدالت کو تالے لگائے، یا بھری عدالت میں اسے گالیاں دیں، اس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو اسے بڑی مشکل سے جان بچا کر اپنے چیمبر میں جانا پڑا۔

اس سب کے بعد اس پر اعلیٰ عدلیہ ہی کی طرف سے یہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ وکلاء سے صلح صفائی کرے اور معاملے کو آگے نہ بڑھائے، وگرنہ اُس کے لئے نوکری کرنا مشکل ہو جائے گا۔اس ذلت و رسوائی کا اصل آغاز افتخار محمد چودھری کے دور سے ہوا،جس میں عملاً عدلیہ کی کمان وکلا کے ہاتھ میں آ گئی۔عدلیہ کے نام پر افتخار محمد چودھری نے جو سیاست کی،اُس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

اعلیٰ عدلیہ نے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا ہے، باقی زیریں عدلیہ وکلا کے رحم و کرم پر چھوڑ دی ہے اور ساتھ ہی یہ دباؤ بھی ڈالا ہے کہ وہ بر وقت فیصلے کرے،یعنی شیر کی کچھار میں رہ کر اُس کے منہ سے نوالا چھیننے کی شرط لگا دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں تو سیکیورٹی بھی ہوتی ہے اور دربان بھی، سول جج تو ایک ڈربہ نما کمرے میں بیٹھا ہوتا ہے اور وکیل اگر چاہے تو ہاتھ بڑھا کر اُس کا گریبان بھی پکڑ سکتا ہے۔وہاں تو یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی ماں کا لال جج ہے تو وکلا گردی سے بچ کر دکھائے۔ججوں کے خلاف تشدد کے واقعات گننے کی کوشش کی جائے تو گنتی ختم ہو جائے،لیکن کیا کوئی ایک کیس بھی ایسا ہے، جس میں کسی وکیل کو سزا ہوئی ہو یا اُسے شعبہ وکالت ہی سے نکال باہر کیا گیا ہو۔

ہم نے دیکھا ہے کہ کسی ایسے ملزم وکیل کے ہمراہ دو اڑھائی سو وکلا عدالت میں پہنچ جاتے ہیں۔اب ایک ڈیوٹی مجسٹریٹ کی کیا جرأت ہے کہ وہ اتنے وکلا کی موجودگی میں وکیل کی ضمانت نہ لے یا اُس کی گرفتاری کا حکم دے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کسی سول جج کے خلاف کوئی وکیل متشددانہ جرم کرے تو اُس کی سماعت ہائی کورٹ میں ہو، تاکہ صحیح معنوں میں انصاف ہو سکے۔اس تصویر کا ایک دسرا رُخ بھی ہے،جس کی طرف چند سینئر وکلا نے توجہ دلائی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ سول جج اور سیشن جج صاحبان تربیت کے فقدان کا شکار ہیں، وہ معاملات کو بگاڑ دیتے ہیں،حالانکہ جج کا کام معاملات کو سنوارنا ہوتا ہے۔

کئی بار کسی جج کو قواعد و قانون کا علم نہیں ہوتا۔ وہ وکیل کی بات تحمل سے سننے کی بجائے جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔اس رویے کی وجہ سے بعض اوقات تلخی پیدا ہو جاتی ہے،جس سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ہمارے ہاں نظام انصاف اتنی زیادہ پیچیدگیوں کا شکار ہو چکا ہے کہ کوئی معجزہ ہی اسے ٹھیک کر سکتا ہے۔صرف یہ کہہ دینے سے بات نہیں بنے گی کہ عدالتوں کو ہائی جیک نہیں ہونے دیں گے۔عدالتیں تو ہائی جیک ہو چکی ہیں،بس کوئی اس کا باقاعدہ اعلان نہیں کرتا،حالانکہ اِس حقیقت کا علم سبھی کو ہے۔

مزید : رائے /کالم