مہنگائی کو تو مذاق اور محاذ آرائی کا ذریعہ نہ بنائیں!

مہنگائی کو تو مذاق اور محاذ آرائی کا ذریعہ نہ بنائیں!
مہنگائی کو تو مذاق اور محاذ آرائی کا ذریعہ نہ بنائیں!

  

وزیراعظم کی مشیر اطلاعات، سابق وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان بھی میدانِ عمل میں ہیں اور اپنی سابق جماعت پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگا رہی ہیں،اسی طرح پنجاب کے وزیر اطلاعات صمصام بخاری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم افضل چن بھی معاف نہیں کر رہے، یہ سب پیپلزپارٹی میں رہے اور ان کو عزت بھی دی گئی تھی،ان حضرات و خاتون کے بیانات سے مجھے وفاقی وزیر جہاز رانی محمد علی کی بات یاد آئی کہ یہ سب جو پیپلزپارٹی میں رہ کر آئے اس جماعت کے اندرونی راز افشاء کریں گے۔

ایک حد تک تو یہ درست ہے کہ ان کی طرف سے تنقید کا جواب دیا جا رہا ہے تاہم ابھی تک کسی بڑے انکشاف کی نوبت تو نہیں آئی، احساس ہوتا ہے کہ ایسا بھی ہو گا کہ ندیم افضل چن تو پیپلزپارٹی میں ہوتے ہوئے بھی اندرونی کشمکش پر تنقید کر لیتے تھے۔ البتہ ہمیں وہ دن خوب یاد ہے جب پیپلز پارٹی کے پچاسویں یوم تاسیس پر محترم سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہے تھے، ان کا جوش و جذبہ دیکھنے والا تھا، ایسی ہی صورت حال وفاقی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی تھی وہ بھی بڑے اچھے دلائل سے دفاع کرتی تھیں اور اب اتنے ہی بہتر انداز میں تنقید کر رہی ہیں۔

یہ سب تو یوں عرض کیا کہ ہمارے میڈیا کے دوست اور سیاسی کارکن اسی انداز سے سوچتے اور بات کرتے ہیں،بلاول بھٹو زرداری پر طنز تو فواد چودھری بھی کرتے ہیں اور وزیر ریلوے شیخ رشید تو پھکڑ بازی سے نہیں رکتے تاہم فردوس عاشق اعوان کا انداز مہذب اور الفاظ دائرہ اخلاق سے باہر نہیں ہوتے، ہمیں حال ہی میں ان کی طرف سے بلاول بھٹو کی غربت اور مہنگائی کے حوالے سے کی گئی تنقید کے جواب میں مشیر اطلاعات کا جواب پسند آیا، کوئی طعنہ دے یا بُرا منائے،لیکن یہ حقیقت ہے کہ فردوس عاشق اعوان کی طرف سے بلاول کے اعتراض والے ایک حصہ کا جواب خوب دیا وہ کہتی ہیں ”بلاول کو کیا غرض وہ تو سبزیوں کا بھاؤ بھی نہیں بتا سکتے،دراصل انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ بلاول سبزیوں کے نرخ ہی بتا دیں، یہ تنقید بہرحال دائرہ اخلاق میں ہے اور اشرافیہ کے حوالے سے بھی درست ہے۔ مشیر اطلاعات نے یہ سوال شاید اِس لئے کر دیا کہ وہ بڑی دھڑلے والی خاتون ڈاکٹر ہیں اور غالباً کسی زمانے میں خود بھی سبزیاں خریدتی رہی ہوں گی۔اگرچہ آج کل ان کے پاس وقت نہیں ہو گا ویسے بھی وہ خاتون ہیں اِس لئے ان کو بازار کے بھاؤ یاد ہوں گے۔

البتہ بلاول بھٹو کو اس کے لئے اپنی جماعت کے حضرات و خواتین پر اعتماد کرنا ہوتا ہے کہ وہ خود سستے بازار کا دورہ تو کر سکتے ہیں،لیکن پروٹوکول کی وجہ سے خود خریداری نہیں کر سکتے۔

اس حوالے سے ہمیں پھر سے دو واقعات یاد آ رہے ہیں،ایوبی دور میں وزیر خزانہ محمد شعیب تھے، اس زمانے میں چینی کے نرخ بڑھ گئے اور احتجاج ہو رہا تھا، اسلام آباد میں اخبار نویسوں نے ان سے مہنگائی کے حوالے سے سوال کئے اور پوچھا کہ چینی مہنگی ہو گئی،ان کو معلوم ہے تو انہوں نے نہایت دیانتداری اور صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہہ دیا ”مجھے نہیں معلوم، کیونکہ سودا تو میری بیگم خریدتی ہیں“ اسی لئے ہم نے محترمہ ڈاکٹر صاحبہ کو رعایت دی کہ وہ خاتون ہیں اِس لئے ان کو ضرور علم ہو گا۔

بہرحال اسی حوالے سے ایک محترم شخصیت کا بھی ذکر ہو جائے جو اب اِس دُنیا میں نہیں، مرحوم مسعود صادق پنجاب میں سینئر وزیر اور وزیر خزانہ بھی تھے، وہ اپنے گھر کا سودا سلف خود خریدتے تھے،ان کو کسی پروٹوکول کی پروا نہیں تھی،عام شہری کی طرح بازار میں نکل آتے تھے، ایک روز ہم نے بھی دیکھا، بیڈن روڈ اور کوپر روڈ کے سنگم پر سبزی کی ایک دکان تھی جو اب نہیں ہے، ہم فیصل چوک (پہلا چیئرنگ کراس) سے ایک تقریب کی کوریج کے بعد امروز کے دفتر واپس آ رہے تھے۔

جب اس دکان کے قریب پہنچے تو دیکھا مسعود صادق وہاں سے سبزی خرید رہے ہیں قریب آ کر سلام کیا اُس وقت وہ دکاندار سے آلوؤں کے نرخ پر باقاعدہ بحث کر رہے تھے،سو اِس حوالے سے ہمیں بلاول بھٹو کو ایک چانس تو دینا چاہئے کہ وہ اگر پہلے خریداری کے لئے نہیں جا سکے تو ڈاکٹر عاشق اعوان کی تنقید کے بعد ہی جا کر نرخ معلوم کر لیں یا پھر شہلا رضا سے دریافت کر لیں کہ وہ ایسی باتیں خوب جانتی ہیں۔

یہ تو بڑے لوگوں کی بات ہے اگر مشیر اطلاعات کی تنقید کے جواب میں پیپلزپارٹی والے کچھ نہیں بولے تو ہم عرض کر دیتے ہیں کہ مہنگائی سے تو سب سے زیادہ متاثر بھی ہم جیسے تنخواہ دار ہیں۔گزشتہ روز ہم نے مرغی والے سے ایک مرغی (برائلر) خریدی تو اس نے صاف کر کے تین سو روپے فی کلو کے حساب سے قیمت وصول کی، جبکہ اس سے ایک روز قبل تو ہم بے ہوش ہوتے ہوتے بچے، ہوا یوں کہ بچوں نے کہا ٹینڈے موسم کی سبزی لے کر دے جائیں، ہم معمول کے مطابق محلے کے سبزی فروش کی دکان پر آئے جب ان سے ٹینڈوں کی موجودگی کا جواب اثبات میں پایا تو کہا کہ تین پاؤ (750گرام) دے دو، تلوا کر جب قیمت دینے کی باری آئی تو جواب ملا بنتے تو210 روپے ہیں، آپ200روپے دے دیں۔ یقین جانیئے محترمہ ڈاکٹر صاحبہ ہم تو بے ہوش ہوتے ہوتے بچے، مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق مشکل سے دس روپے کم کرائے اور190 روپے ادا کرنا پڑے تو یوں یہ ٹینڈے280 روپے فی کلو تھے۔ اب ذرا مزید بھی سن لیں کہ پیاز35روپے سے80روپے کلو ہو گیا،ٹماٹر60روپے سے ایک 100روپے، کریلے80 سے100روپے اور بھنڈی 120 روپے کلو ملی۔ یہ نرخ آپ کی خدمت میں علامہ اقبال ٹاؤن سبزی منڈی کے پیش کئے ہیں، ورنہ مقامی دکاندار تو دس بیس روپے زیادہ کے فرق سے بیچتے ہیں۔

یہ صورتِ حال صرف سبزیوں کی نہیں ہر سودے کی ہے، فروٹ تو خریدنے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا اور اب رمضان آنے والے ہیں، لیموں ضرورت ہوں گے،ذرا آپ خود بھی لیموں خرید کر دیکھیں کہ آپ کی حالت کیا ہوتی ہے، اس لئے براہِ کرم مہنگائی کو مذاق نہ بنائیں کہ آپ سیاسی لوگ بڑے لوگ ہیں، آپ کے لئے پیسہ ہاتھ کی میل ہے، ورنہ غالب کی آبرو کیا ہے، کے مصداق بازار میں روپے کی حالت بڑی ابتر ہے، اب تو سو، پانچ سو کی بھی حیثیت نہیں، ایک ہزار روپے کا نوٹ ایک مرتبہ تڑوا لیں، جلد ہی آپ کو لگ پتہ جائے گا جب پتہ نہیں چلے گا کہ کیسے ختم ہوا اب تو بھکاری بھی دس روپے کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، پچاس روپے سے ان کی قدرے تسلی ہوتی ہے، اس لئے ہماری مودبانہ عرض ہے(اور یہ سب سے ہے) کہ براہِ کرم مہنگائی، بے روزگاری اور بیماری کو اپنی چپقلش کا ذریعہ نہ بنائیں،بلکہ سنجیدگی سے کچھ کریں، مل کر کریں کہ بھوک افلاس بہت ہی بُری شے ہے،کچھ سے کچھ کرا دیتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -