جمہوریت: مفادات کا مجموعہ

جمہوریت: مفادات کا مجموعہ
جمہوریت: مفادات کا مجموعہ

  

کچھ لوگ نیا شوشہ چھوڑ رہے ہیں کہ ملک میں صدارتی نظام آ رہا ہے۔ 18 ویں ترمیم کو چھیڑنا ملک کے لئے خطرناک ہوگا۔ ملک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے، پاکستان کی حالت بہت کمزور ہو چکی ہے، مہنگائی بہت ہو چکی ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی مثال کا وقت آ گیا ہے۔

یہ جو معزز لوگ 18 ویں ترمیم اور صدارتی نظام کا ڈھول بجا رہے ہیں، یہ کتنی دیر تک برسرِ اقتدار رہے ہیں، ان کے دور میں کیا دودھ کی نہریں بہتی تھیں، یہ بھی قرضے لے کر ملک چلا رہے تھے اور ڈالر کو کنٹرول کرتے تھے، روپے کی قیمت کو کم نہیں ہونے دیتے تھے ان لوگوں نے کون سی صنعتوں کا جال بچھایا اور بجلی کے منصوبے مکمل کر کے ملک کو خوشحال بنایا یہ بھی دوسرے گھروں کی لسی پی کر اپنی مونچھوں کو وَٹ دیتے تھے، کیا پارلیمانی اور کیا صدارتی نظام جمہوریت کے لیڈر ذرا 15/20 سال پیچھے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب کو سامنے رکھ کر اپنے ضمیر کو جگا کر سوچیں فیصلے کریں کہ ان کی کیا حیثیت تھی، امارت اور دولت کہاں سے آئی،کیا یہ سب کچھ پاکستان کی بدولت میسر نہیں آیا ملک کی دو پارٹیوں نے اپنی اپنی حکومتوں کی مدت پوری کرلی ہے۔ مجھے پاکستان کا کوئی لیڈر حلف دے کر (عدالتوں میں دینے والا حلف نہیں) بتائے کہ ملک میں کون سا الیکشن دھاندلی کے بغیر ہوا ہے ہر الیکشنوں میں مجموعی طور پر یا ذاتی طور پر لوگ دھاندلی سے الیکشن جیتتے رہے ہیں۔ مَیں پی ٹی آئی کا ترجمان نہیں پاکستانی شہری ہوں ملک میں مہنگائی ہو گئی ہے اس کے سابقہ حکومتوں کے لیڈر ذمہ دار ہیں مسلم لیگ(ن) ذمہ دار ہے پی پی پی کے لیڈر ذمہ دار ہیں۔ عمران خان کو ایک سال پورا نہیں ہوا۔

تو ملک میں ہر خرابی کا ذمہ دار عمران خان کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ عمران خان کے خلاف کیوں ڈھول بجایا جا رہا ہے وہ صرف اس لئے کہ اس نے سابقہ حکمرانوں کی لوٹ مار سے سمجھوتہ نہیں کیا۔

کتنی ستم ظریفی اور ملک سے زیادتی ہے جو خاندان پاکستانی خزانے کو لوٹ رہے تھے، سارا سارا خاندان قومی خزانے سے مراعات حاصل کر رہا تھا، وہ بھی عمران خان کے خلاف ڈھول بجا رہے ہیں۔مَیں بھی مہنگائی سے پریشان ہوں معاشرے کے تمام حالات سے میں بھی پریشان ہوں،لیکن وزیراعظم عمران خان پر کس طرح ذمہ داری ڈالی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھیوں میں سابقہ مسلم لیگ (ن) سابقہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ق) کے معزز لوگ شامل ہیں، کیا قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور سٹیٹ کے ممبران آسمان سے اترتے ہیں، بالکل نہیں، صرف چند معزز لوگ ایک جگہ پر ہیں ان کی مجبوری یا حالات ان کو ایک جگہ رہنے کے لئے مجبور کرتے ہیں۔

انہی معزز لوگوں نے عدالتوں میں جانا انہی لوگوں نے عدالتوں سے سہولتیں حاصل کرنی ہیں، انصاف کے نام پر قانون کو استعمال کرنا انہی معزز لوگوں کاکام ہے۔ پاکستان کے غریب اور متوسط طبقے کو کس طرح اعلیٰ عدالتوں سے انصاف ملے ان کے پاس بڑے بڑے وکلاء کے لئے فیسیں نہیں ہیں، پاکستان کے لوگ تو بے چارے عمران خان کو اپنا قومی لیڈر تسلیم کر رہے ہیں پاکستان میں لوٹ مار کرنے والے اور بیرونی قرضے لے کر کھانے والے حساب دیں۔

اربوں، کھربوں کی پراپرٹیز کس طرح بنائی گئیں۔ اداروں کو دونوں ہاتھوں کو لوٹنے والے سارا سارا خاندان اداروں میں بھرتی کروا کر تباہ کرنے والے بھی عمران خان کے خلاف تقریریں کر رہے ہیں۔ ملک میں جمہوریت ہو یا صدارتی نظام ملک کی سلامتی لازمی ہے، لوٹ مار بند ہونی چاہئے۔ پاکستان کی سیاسی قیادت کا المیہ یہ ہے کہ جب یہ طبقہ حکمرانی کے نظام سے باہر ہوتا ہے تو ان کو جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور آئین کی پاسداری کا بخار چڑھ جاتا ہے،لیکن جب یہ طبقہ اقتدار میں آ جاتا ہے تو ذاتی مفادات اور عقل کل کے ساتھ حکمرانی کرنے کو ترجیح دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک میں جمہوریت قانون کی حکمرانی کا عمل ہمیشہ کمزور رہا ہے۔

اس میں غیر جمہوری قوتوں کا بھی بڑا عمل دخل ہے لیکن جمہوریت کے دعویداروں کو اعتراف کرنا چاہئے کہ ان کی داخلی پالیسیوں کی وجہ سے جمہوری عمل مضبوط نہیں ہو سکا۔

اس وقت مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی کی قیادت عملی طور پر شدید مشکلات کا شکار ہے قیادت کا لفظ اس لئے اہم ہے کہ مسئلہ ان بڑی جماعتوں سے زیادہ ان کی قیادت کا ہے ان دونوں جماعتوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی قیادت کی سیاست درست سیاست نہیں، مگر انہوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے بلاول کی جیل میں نوازشریف سے ملاقات میں ایک بار پھر ان دونوں جماعتوں نے قوم کو میثاقِ جمہوریت پر نظرثانی کا نیا لولی پاپ دینے کی کوشش کی ہے ان کے بقول موجودہ صورت حال میں قوم اور جمہوریت کو ایک نئے میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا سیاست میں حکمرانی سمیت اہم مسائل پر مشترکہ سوچ اپنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے، مگر بدقسمتی ہے کہ ہماری سیاسی قیادت نے اس طرز پر میثاق جمہوریت کا لنگوٹ باندھ کر عمران خاں کے خلاف میدان لگایا ہے۔سیاسی جماعتوں کا ایک ہونا اور مل کر جدوجہد کرنا غلط نہیں اس کی حمایت ہونی چاہئے،لیکن سوال یہ ہے کہ واقعی ان کا مسئلہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی ہے یا ایک بار پھر ذاتی مفادات پر مبنی سیاست ہے جس میں دونوں پارٹیوں کی قیادت زیر عتاب ہے۔

پاکستانیوں کی سوچ میں بہت سے تحفظات ہیں کہ معاہدے کو دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لئے استعمال کیا اور اقتدار میں اپنی اپنی باری حاصل کی دونوں پارٹیوں اور ان کے حمائتیوں کو 2006ء سے 2019ء تک میثاق جمہوریت پر کی جانے والی سیاست کو عوام کے سامنے پیش کرنا چاہئے اور اپنی کوتاہیوں کو عوام کے سامنے برملا تسلیم کرنا ہوگا جو بھی لوگ عمران خان کو سلیکٹڈ کہہ رہے ہیں یہ مجموعی طور پر خصوصی نشستوں پر آنے کے شوقین لوگ ہیں۔ جو لوگ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کا طعنہ دے رہے ہیں وہ حقیقت سے آنکھیں چرانے اور خود کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ معزز لوگوں کی سیاسی پیدائش ہی فوجی گھرانوں میں ہوئی ہے انہوں نے سیاسی آنکھ ہی جرنیلوں کی گود میں کھولی تھی عمران خاں کو حکومت کرنے کا پورا موقع ملنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ملک میں مہنگائی ہے تو اس کے ذمہ دار تاجر ہیں جو ایک روپے کے بدلے 10 روپے کما رہے ہیں۔ ہم سب کو مل کر ایمانداری اور اپنی بساط کے مطابق کام کرنا ہوگا۔ معاشرہ افراد کا مجموعہ ہے اکیلا کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا ملک کو زندہ رکھنے اور آنے والی اپنی نسلوں کے لئے رویوں کو بدلنا ہوگا خالی نعروں سے پیٹ نہیں بھرتا معاشرے کے تمام لوگوں کو برائی کو ختم کرنے، مہنگائی کو ختم کرنے کے لئے باہر نکلنا ہوگا خود غرض لیڈروں، مفاد پرستوں سے دور رہنا ہوگا۔

مزید : رائے /کالم