کالم نگار ی کی ساتویں سالگرہ

کالم نگار ی کی ساتویں سالگرہ
کالم نگار ی کی ساتویں سالگرہ

  

منتخبہ کالموں کے مجموعے کی امکانی اشاعت کے پیشِ نظر ’خوش کلامی‘ کی ساتویں سالگرہ کو قریب تر لانے کے لئے مَیں اُن ابتدائی تحریروں کو بھی، بزبان فیض، اپنے دفترِ جنوں میں شمار کر رہا ہوں جو ایک ایسے نئے روزنامہ کے لئے قلم سے نکلیں جس کے ایڈیٹر کے ساتھ ذاتی محبت کا رشتہ آج بھی مضبوط ہے۔ فرق یہ ہے کہ شعوری کوشش کے باوجود اُن کے اِس ارشاد کی حسبِ منشا تکمیل نہ ہو سکی تھی کہ مجھے تہذیبی موضوعات کی بجائے سیاست پہ لکھنا چاہیے۔

اپنی موجودہ مجلسِ ادارت سے میرا کوئی اختلاف نہیں، البتہ اتنا مطالبہ ضرور ہے کہ قارئین کی سہولت کی خاطر لمبے فقروں کو چھوٹا کر دینے کے لیے مجھے یہ اجازت دی جائے کہ کسی کسی وقت ’لیکن‘ اور ’چنانچہ‘ سے نیا جملہ شروع کر سکوں۔ قدیم ویدوں میں ’اشلوک‘ کی اوسط لمبائی بیس بائیس الفاظ بتائی جاتی تھی۔ بہر حال، سنی سنائی بات ہے، میں نے گِن کر نہیں دیکھا۔

آج کل ہر روز کوئی نہ کوئی ’یوم‘ منانے کا جو رواج چل پڑا ہے، اسی بنا پر میرا دل اس تاریخی موقعے پر اپنا ہی انٹرویو کرنے کو چاہے تو اِس پہ حیرت نہیں ہونی چاہئیے۔ چند سال پہلے کسی شخص کو گولی مارے جانے کی بریکنگ نیوز نشر ہوتے ہی ایک چینل کے مستعد رپورٹر نے مرحوم کی اہلیہ سے پوچھا تھا کہ ”بیوہ ہونے پر آپ کیا محسوس کر رہی ہیں؟“ اسی طرح مَیں بھی خود سے یہ سکہ بند جرمن سوال کر سکتا ہوں کہ شاہد ملک، تمہاری ’خوش کلامی‘ پہ پڑھنے والوں کے تاثرات کیا ہیں یا نشریاتی صحافت سے طویل وابستگی کے بعد آخر تمہیں ’کالم نویسی‘ کا اشتعال کیوں آ گیا تھا۔ مجھے صرف سوال نمبر دو ’وارا‘ کھاتا ہے، کیونکہ پہلے سوال کے جواب میں اپنی ’ریٹنگ‘ پڑھانے کے لئے اگر میں نے گراف کو ذرا کھسکا دیا تو اِس کا سوؤ موٹو نوٹس لے لیا جائے گا اور پھر معاملہ نیب کے پاس ہو گا۔

کہتے ہیں کہ کوئی اچھا کام کرنے کا اشارہ جہاں سے بھی ملے اس کا اعتراف کھل کر کرنا چاہئیے۔ سچ یہ ہے کہ ماضی میں کالم نویسی کی ترغیب اول اول بی بی سی کے نامہ نگارِ اسلام آباد اوئین بینٹ جونز سے ملی تھی۔ ہاں، اگر ’بچپن سے شوق تھا‘ جیسے اسلوب کا سہارا لوں تو اردو کی دوسری کتاب کی کہانیاں، ’پاپڑاں والی خانقا ہ‘ کے مفتی حبیب کا مترنم وعظ، اور ر یڈیو پا کستان پر نعتوں، قوالیوں کے گراموفون ریکارڈ زبان و بیان میں میری دل چسپی کے عوامل ٹھہریں گے۔

مگر اِس میں اُن لسانی تضادات کو بھی دخل ہے جن کی لہر اسکول میں میڈیم کی تبدیلی سے پھوٹی، پھر گھر میں پنجابی اور محلے میں اردو کا فرق، اور آگے چل کر برطانوی سفارتخانے کی ملازمت سے نشریاتی صحافت تک اُن دھاروں کا بتدریج شعور جو مرالہ کے سنگم پر دریائے توی اور چناب کی سفید اور سرخ موجوں کی طرح دُور تک الگ الگ ہی رہے۔

ایک مطبوعہ نظم میں ایک مرتبہ مَیں نے اپنے ہم زاد کو یہ کہہ کر یاد کیا تھا:

وہ جس کی آنکھ چمکیلے دنوں کا کھوج دیتی ہے

جہاں رنگوں کی دُھن میں آشنا منظر تحیر کے

کُھلی خواہش کے پانی میں

ابھرتے تیرتے ہیں ڈوب جاتے ہیں

اِس کے باوجود یوں لگتا ہے کہ ذات کی جھیل پر طلوع اور غروب کے مناظر خواہ کچھ بھی ہوں، اصل ڈرامہ تو سطحِ آب کے نیچے ہوا کرتا ہے جہاں سفید اور سرخ لہروں کا تموج تھمتا ہی نہیں۔ آج بھی میرا حال یہ ہے کہ یونیورسٹی میں لیکچر بغیر شعوری کوشش کے انگریزی میں، مگر انڈہ تلنے یا چائے بنانے کی ترکیب اِس زبان میں بتانے سے یکسر قاصر۔

اسی طرح، مائیکروفون کے سامنے آپ چند لمحے پہلے سوالوں کی تعداد بتا دیں تو ہر طرح کی کیسٹ فوری طور پہ تیار۔ البتہ روز مرہ زندگی میں ہم وطنوں کے ساتھ گفتگو کا معاملہ ہو تو غیر ملکی الفاظ و تراکیب پہ باقاعدہ معذرت کا رویہ۔ ”اچھا، تو ہم اس اردو کالم نویسی کو کس کھاتے میں ڈالیں؟“ یہ ہے اپنے آپ سے میرا اگلا سوال۔

اب یہ میڈیکل ہسٹری بیان کرنے کے لئے اپنے ہائی اسکول کا ذکر کرنا پڑے گا جہاں ایک تو اپنے ہم جماعتوں کی بدولت ’آساں، جاساں، سے لے کر ’ٹکرساں تے دھروکساں‘ جیسی ٹھیٹھ پوٹھواری سے واسطہ پڑا اور دوسرے خالص روہیل کھنڈ کی ’امپورٹڈ‘ زبان جسے بولنے والوں میں سے بعض اپنے تعلیم یافتہ لب و لہجہ کے باوجود ’ٹنکی کنے‘ رہتے اور ایک دوسرے کو ’ابے سالے‘ کہنے سے ان کی ’ہیٹی‘ ہو جاتی۔

اِس ماحول میں اردو کے استاد مولوی بشیر احمد صمصام نے نا درست تلفظ، غلط اضافتوں اور سکون و حرکت کی گڑبڑ پہ میری سیالکوٹی ’جم پل‘ کا مذاق اڑانے کے باوجو مجھے نہ صرف اسکول میگزین کے یکے بعد دیگرے انگریزی اور اردو حصوں کا ایڈیٹر بنوایا بلکہ کئی ایک بین المدارس تقریری مقابلوں کی کامیاب تیاری بھی کرائی۔

کالج کے مرحلے پر یہ چالاکی سوجھی کہ سوشل سائنسز کی اردو میں تدریس کے باوجود امتحان انگریزی میں دیا جائے۔ چنانچہ اکنامکس کے لئے پروفیسر منظور علی ساتھ ایس ایم اختر اور کے کے ڈیوٹ اور پولیٹکل سائنس میں خورشید کمال عزیز کے شانہ بشانہ مظہر الحق اور ڈاکٹر اپادھو رائے۔

بییِچ بیِچ میں داس اینڈ چیٹر جی کے خلاصے جنہوں نے کلکتہ سے لے کر الہ آباد، اور بنارس سے علی گڑھ تک ہر یونیورسٹی میں بار بار پوچھے گئے سوالات تیر بہدف جوابوں سمیت یکجا کر دئے تھے۔ دو زبانوں میں ایک سا مواد پڑھتے رہنے سے ترجمہ کا چسکا لگ گیا اور یہ کھوج لگانے کی آرزو بھی پیدا ہوئی کہ سوچوں کو الگ الگ زبان کے ڈھانچوں میں ڈھالنے کی کاوش آیا محض ایک لسانی معاملہ ہے یا تمدنی پیرایوں سے جڑا ہوا مسئلہ۔ اِس زاویے سے اولین ملازمت کے لئے اسلام آباد کا برطانوی ہائی کمیشن ایک کار آمد تجربہ گاہ ثابت ہوا۔

لندن کے بُش ہاؤس میں ہمارا کام دنیا کے مختلف گوشوں سے آنے والی رپورٹوں کو اردو کے قالب میں ڈھال کر ریڈیو پہ پیش کرنا تھا۔ نامہ نگار ٹیلی فون لائن پر اپنی آواز میں رپورٹ ریکارڈ کراتا، جس کا متن کچھ ہی دیر بعد کمپیوٹر اسکرین اور پرنٹر کے ذریعے ہر متعلقہ سروس کو پہنچ جاتا۔ یوں ہم منجھے ہوئے انگریز نامہ نگاروں کی تحریریں بغور پڑھتے، جن کے عمومی اجزاء تھے تازہ واقعہ، پس منظر، ہر فریق کا موقف اور آخر میں رائے دیے بغیر کوئی ایسا جملہ جو ساری منطق کا نکتہ ء آخر لگے۔ نیوز بلیٹن میں سات لائنوں کی خبر سے لے کر ڈیڑھ منٹ کے صوتی ڈسپیچ، انٹرویو کے اقتباسات والی السٹریٹڈ رپورٹ اور پانچ سات منٹ کے جامع پیکج میں کم و بیش یہی ترتیب ہوتی۔

اطہر علی، آصف جیلانی اور محمد غیور جیسے اخبار نویسوں کی رہنمائی، راشد اشرف، یاور عباس اور سارہ نقوی کے سے پروگرام پیشکاروں کے مشفقانہ مشورے اور وقار احمد، علی احمد خان اور سب سے بڑھ کر رضا علی عابدی کی ’لسانی مشکل کشائیاں‘ ایسی تھیں کہ محض تدریسی تجربے کا حامل ایک نو وارد صحافی بھی ترجمہ کے بہانے مکھی پہ مکھی کی بجائے مچھر مارنے لگا۔ یہ تو تھا خبروں کا معاملہ۔

اس سے آگے انگریزی کے اسباق اور تاریخی، ادبی اور سائنسی موضوعات پر سامعین کے سوالات اور ان کے جواب۔ ذرا اور ترقی کرنے کے بعد جب ہفتہ وار کلچرل پروگرام ’سبرس‘ پیش کرنے کا مرحلہ آیا تو کوئی نہ کوئی فیچر انگریزی یونٹ کے مواد سے اسی اصول کے تحت مل جاتا کہ غریب کی جورو سب کی بھابھی۔

کچھ ہی دن میں تخلیقی ذہن نے یہ بھی سوچا کہ پروگرام میں کوئی دلچسپ گفتگو، کسی ادبی تقریب کی رپورٹ اور نئی کتابوں پہ تبصرے بھی ہونے چاہئیں۔ پروگرام کی ریکارڈنگ سے پہلے ایک کتاب اچھی طرح پڑھ لی کہ اِس کا کوئی دو سے تین منٹ کا جائزہ ’سب رس‘ میں شامل کر لیں گے۔ خدا کی پناہ، یہ کیا ہوا؟ وہی ہیڈ مرالہ والی مثال ذہن میں آنے لگی جہاں چناب اور توی کی سرخ اور سفید لہریں ایک دوسری سے مل کر بھی الگ الگ رہتی ہیں۔

یہ نہیں کہ سوچ کے افق پر کوئی نکتہ ابھر نہیں رہا تھا۔ اصل میں انگریزی رپورٹیں پڑھ پڑھ کر ترجمہ کرنے کی عادت اتنی پختہ ہو چکی تھی کہ خیالوں کی مچھلیاں میری اردو کے جال میں پھنسنے سے پہلے ہی پھدک کر پھر دریا میں جا گرتیں۔

موسم سرما کی صبح، ہفتہ کا دن، اطہر صاحب والے اکیلے کمرے میں شدید بے بسی کہ اردو کے ہفتہ وار کلچرل پروگرام کا پیٹ کیسے بھروں۔ اچانک ایک میز پہ اولیویٹی کا ’آدم بو‘ قسم کا مینوئل ٹائپ رائٹر دکھائی دیا۔ ایک بجلی سی کوندی اور ذہن نے انگریزی میں فقرے گھڑنے شروع کر دیے، بالکل اُسی طرح جیسے کوئی نالائق طالب علم ’اتمام حجت‘ کے طور پہ کسی ناقابل فہم امتحانی سوال کا جواب بلا سوچے سمجھے لکھنے لگے۔ خیر، گھنٹے بھر میں ایک ’قابل نشر‘ آئٹم تیار ہو گیا، جسے اردو کے قالب میں ڈھالتے ہوئے بھی مشکل پیش نہ آئی۔

کسی پروگرام کے لیے ’سیزیرئین آپریشن‘ سے تخلیق ہونے والی یہ میری پہلی طبع زاد تحریر تھی۔ اُس روز مجھے نفسیات کے معروف استاد پروفیسر کرامت حسین جعفری بہت یاد آئے جنہوں نے ایک بار کہا تھا کہ نَیں اچھا مترجم ہوں کیونکہ میں نے اپنے ہی مضامین کے کامیاب ترجمے کئے ہیں۔

جعفری صاحب جہاں منفرد انداز کے استاد تھے،وہاں اُن کی عملی زندگی کا اسلوب بھی جداگانہ تھا۔ شاید آپ کے علم میں ہو کہ انہوں نے ایک مرتبہ ایک نوجوان ڈاکو کو جس نے انہیں تختہ ء مشق بنانے کی کوشش کی، اپنے ساتھ تانگے پہ بٹھا لیا اور اگلے ہی دن نوکری دلوا کر اُس کی زندگی کا رخ موڑ دیا تھا۔ چونکہ مَیں جعفری صاحب سے زیادہ ڈاکو کا طرف دار تھا، سو مَیں نے اُس روز اپنی حکمت ِ عملی کا رخ یوں موڑا کہ انگریزی والا تبصرہ پرانی نصابی کتابوں کی طرح آدھی قیمت پر ورلڈ سروس کے ’ٹاکس اینڈ فیچرز یونٹ‘ کو بیچ دیا جو اچھے اچھے رائٹروں سے تبصرے اور فیچر لکھوایا کرتا۔ شروع میں جن کتابوں کے ساتھ میں نے یہ حرکت کی اُن میں عمران خان کی ’آل راؤنڈ ویو‘، بے نظیر بھٹو کی ’ڈاٹر آف دی ایسٹ‘ اور اسلامی اسکالر بی اے مصری کی ’اسلامک کنسرن فار انیملز‘ شامل ہیں۔

اِس مرحلے پر مَیں اپنے آپ سے یہ بھی پوچھ سکتا ہوں کہ اتنی لمبی کہانی سنا کر لکھنے لکھانے کا جواز تو نکل آیا ہے مگر کالم نگاری کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ دس سال تک لندن میں عالمی نشریاتی ادارے کے لئے کام کرکے مَیں نے بیالیس سالہ نامہ نگار کے طور پر لاہور سے بی بی سی کے لئے رپورٹنگ کا آغاز کیا تو تکنیک وہی تھی کہ پہلے انگریزی متن، پھر متن کا اردو ترجمہ۔

عام بول چال کی زبان وہی جو اوسط درجے کے پڑھے لکھے لوگوں کی ہوتی ہے۔ اب اِس زعم میں کہ ہم براہِ راست اردو لکھ لیتے ہیں، اپنی دوستانہ گپ بازی کا نام ’خوش کلامی‘ رکھ لیا ہے۔ اگر کوئی یہ پوچھ لے کہ آخر رپورٹنگ جاری رکھنے میں کیا خرابی تھی تو عرض ہے کہ اب پریس کانفرنسوں میں نئے نئے چینلوں کے کیمرہ مین کہنیاں بہت مارتے ہیں۔ آپ بے شک نہ مانیں، لیکن میرے بی بی سی کے سابق ساتھی سلمان جعفری اور عباد الحق اِس رائے کی تصدیق ضرور کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -