یہودیوں اور مسلمانوں میں دشمنی؟

یہودیوں اور مسلمانوں میں دشمنی؟
یہودیوں اور مسلمانوں میں دشمنی؟

  

کچھ دن گزرے میرے ایک Whatsapp دوست نے ایک ویڈیو کلپ مجھے فارورڈ کی جو جافہ (فلسطین) میں ہی بنی ہوئی تھی۔ اس کلپ میں ایک پاکستانی نژاد یہودی اور ایک پاکستانی سیاح جو جافہ سیاحت کے لئے گیا تھا، کی گفتگو سنائی گئی تھی، جس سے معلوم ہوا کہ1970ء تک پاکستان میں 2700 یہودی خاندان آباد تھے یعنی اُن کی پیدائش، پرورش، ابتدائی اور یونیورسٹی کی تعلیم بھی کراچی، راولپنڈی اور پشاور میں ہوئی تھی۔ اُن کی شہریت بھی پاکستانی تھی،لیکن آہستہ آہستہ یہ خاندان پاکستان چھوڑتے گئے۔

آخری یہودی خاندان 1985ء میں اسرائیل جا آباد ہوا۔ ویڈیو کلپ میں اس آخری یہودی خاندان کا قریباً 50 سالہ مرد نہائت شُستہ اُردو میں ماضی کی باتیں پاکستانی سیاح کو بتا رہا تھا۔ اپنے مسلمان اور پارسی دوستوں کا نہ صرف ذِکر کر رہا تھا،بلکہ شوق سے بتا رہا تھا کہ اُس کے وہ دوست جو پاکستان چھوڑ کر امریکہ اور یورپ آباد ہو گئے ہیں وہ اَب بھی رابطے میں ہیں۔

تقسیم سے بہت پہلے یہ یہودی کابل سے معاشی وجوہات کی وجہ سے برٹش اِنڈیا کے شہر کراچی پشاور، پنڈی اور لاہور آباد ہوئے تھے اور اِن کا زیادہ تر کاروبار قالینوں کا تھا۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر میرا دھیان یورپ، مصر اور مشرقِ وسطیٰ کی 1000 سالہ تاریخ پر چلا گیا۔ میَں نے ماضی میں جھانکا تو پتہ چلا کہ اہل ِ یہود، مسلمان حکمرانوں کے زمانے میں خوش و خرم رہتے تھے۔

خوشحال تھے، حکومتی عہدے دار بھی ہوتے تھے۔ امن سے رہتے تھے، جب سپین مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا تو یہودی سپین سے نکل کر،ترکی، مصر ہندوستان، افغانستان، یمن اور ایران میں آباد ہوگئے۔

یہودی پہلی صدی عیسوی 1-AD) (میں 50 لاکھ تھے جو کنعان اور فلسطین سے ہجرت کر کے یورپ اور شمالی افریقہ میں آباد ہو گئے تھے۔ اِن کا ایک قبیلہ افغانستان اور ہندوستان کے مشرقی علاقوں میں بنی اسرائیل کے نام سے آباد ہوگیا۔ یعنی ظہورِ اسلام سے بہت پہلے۔ یہودیوں کا کچھ حصہ یمن اور یثرب (مدینہ منوّرہ)میں آباد ہو گیا۔

یہودیوں کی ہجرت کے 610 سال بعد، یمنی اور یثربی یہودیوں کا سابقہ رسولؐ اللہ اور ریاست ِ مدینہ سے پڑا۔ کچھ یہودی قبائل نے مدینہ میں شر پھیلانے کی کوشش کی اور اُن کی سرکشی مسلمانوں نے کُچل دی۔ کچھ قبائل مسلمانوں سے معاہدہِ امن کر کے وہیں مدینہ میں رہتے رہے،بلکہ وہ مسلمانوں کی طرف سے جنگوں میں بھی شریک ہوتے تھے۔

میَں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج یہودیوں کو مسلمانوں کے خون کا پیاسا سمجھا جاتا ہے۔ ہر وہ بین الاقوامی واقعہ یا حادثہ جو مسلمانوں کی تکلیف کا باعث بنتا ہے، اُس میں یہودی ہاتھ ڈھونڈا جاتا ہے۔ یہودی اور خطہِ عرب کے مسلمان نسلاً بھی ایک ہیں یعنی حضرت نوحؑ کے بیٹے سام کی اولاد۔ یہاں تک کہ عبرانی اور عربی زبانوں کا منبع بھی سامی زبان ہے۔

عبرانی اور عربی کے اکثر الفاظ ایک جیسے حرفِ تہجی اور مماثلت رکھتے ہیں۔ ہم سلام کہتے ہیں یہودی شالوم کہتے ہیں۔ عرب اور یہودی دِن (Day)کو یوم کہتے ہیں عربی کے الفاظ نہر (دریا)، لسّان(زبان)، لیل (رات)، عزم(اِرادہ)، زمن(زمانہ)، وضو، غسل(نہانا)، طہارت (پاکیزگی) اور اس قسم کے سینکڑوں الفاظ ہیں جو ہجوں میں مماثلت رکھتے ہیں، لیکن اُن کا صوتی اِظہار عبرانی زبان میں مختلف ہوتا ہے۔

اسی طرح یہودیوں کے اور مسلمانوں کے عبادات سے متعلق کئی آداب ایک جیسے ہیں۔

وضو اور غسل کی نیت دونوں ہی کرتے ہیں۔ ”عقد“ دونوں کے ہاں ہے۔”موھر(مہر) دلہن کو دیا جاتا ہے، عقد نِکاح کی دو شہادتیں دونوں کے ہاں ہیں۔ عقدِ نکاح کے وقت براتیوں کی میزبانی (عموماًدعوتِ طعام) دونوں مذاہب میں ہے۔ اسلام اور یہودیت میں بیک وقت ایک سے زیادہ،(لیکن 4 سے زیادہ نہیں) شادیاں کرنے کی اِجازت ہے۔ طلاق کے عمل میں البتہ فرق ہے۔ یہودی شوہر تحریری طور پر بیوی کو آگاہ کرتا ہے طلاق دینے سے پہلے اور 2 گواہوں کو طلاق کے عمل میں شامل کرنا پڑتا ہے۔

اسلامی شرعی طلاق میں یہ طریقہ نہیں ہے۔

”س“ کی آوازعبرانی میں ہلکے ”ش“ میں بولی جاتی ہے، جیسے سلام کو شالوم، بیت المقدس کو ”بیت مِکدش“، ”اِسرائیل“ کو اِزرائیل۔ اجتماعی صلاۃ (نماز) کو افضل سمجھا جاتا ہے۔ یہودی ”صلاۃ“ کے بھی مسلمانوں کی طرح 5 اوقات ہیں۔ ہم اپنے معبود کو اللہ کے نام سے پکارتے ہیں، جبکہ یہودی ”الیہا“ یا ”یوھوا“ کے نام سے پکارتے ہیں

حج کے دوران ہمارے ہاں کعبہ شریف کے اطراف طواف کرنا لازم ہوتا ہے، جبکہ یہودی بھی سال میں 3 دفعہ حج کرتے ہیں، لیکن یوروشلم کی مسجد بیت المقد س کے یہودی حصے میں یا دیوارِ گریہ سے لگ کر گریہ زاری کرتے ہیں بالکل جس طرح ہم مسلمان خانہ کعبہ کی دیوارِ حطیم کے ساتھ لگ کر روتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں۔

دراصل یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان بنیادی اِختلاف تو یہ ہی ہے کہ وہ ہمارے رسولؐ کو اللہ کانبی نہیں مانتے، جبکہ ہم مسلمان حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف اللہ کا پیغمبر مانتے ہیں،بلکہ اُن کو بہت عظیم درجہ دیتے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کا قرآن میں تمام نبیوں سے زیادہ ذِکر بھی ہے۔ بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ ؑ کا 43 مرتبہ ذِکر ہے۔ بنی اسرائیل،اللہ کی نہائت پسندیدہ قوم قرار پائی تھی، لیکن یہودیوں اور مسلمانوں میں دشمنی کی حد تک نفرت کا باعث ِ رسولؐ اللہ کی نبوت سے انکار نہیں ہے۔

کتنے ہی مذاہب ہیں جو نہ ہمارے دین کو مانتے ہیں، نہ رسول اللہ ؐ کو اور نہ قرآن کو۔ دشمنی کی اِبتداء ہوئی جب صہیونی سیاسی تصوّر 20 ویں صدی کی اِبتدا میں وجود میں آیا Protocol of Elders of Zion کی دستاویزنے یہودیت کو دنیا کی بڑی طاقت بنانے کے عزم کو بڑی رازداری سے اپنے ہی حلقوں میں پیش کیا، لیکن جب یہ راز برطانوی سیکرٹ سروس نے فاش کر دیا تو یہودی اس دستاویز سے ہی اِنکاری ہو گئے، کیونکہ اس Protocol میں تمام دنیا پر قابض ہونے کا منصوبہ تھا۔ یعنی دنیا کے معاشی، سیاسی، مالی، صحافتی اور تعلیمی ذرائع پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے ہر ملک کو تابع بنایا جائے۔

1948 میں یہودی ریاست برطانیہ، امریکہ اور فرانس کی مہربانی سے وجود میں آ گئی۔ اس ریاست کے وجود میں آنے میں فلسطینیوں کی جہالت اور لالچ کا بھی حصہ تھا۔ برطانوی وزیرِ خارجہ آرتھر بالفور (Belfour) نے 1916 میں یہودیوں کے لئے ”مادرِوطن“ کا اعلان کیا۔ ریاست کا نام اس Declaration میں ابھی استعمال نہیں ہوا تھا،لیکن اس اعلان نے دنیا کے امیر یہودیوں کا رُخ فلسطین کی طرف کر دیا۔ جہاں لالچی فلسطینیوں نے نجی طور پر (Privately) اپنی جائدادیں کوڑیوں کے دام یہودیوں کو فروخت کرنی شروع کر دیں۔

غیر ملکیوں پر دوسرے ملک میں جائیداد بنانے پر پابندیوں کے قوانین ابھی نہیں بنے تھے۔ فلسطینی مسلمانوں نے ہوس میں آکر اپنی اراضی یہودیوں کو بیچ کر ریاستِ اسرائیل کی بنیاد رکھ دی تھی۔ یہ ہی فلسطینی بے گھر ہو کر تمام عرب دنیا میں اور پاکستان میں بھی فلسطینی مہاجرین کی شکل میں پھیل گئے۔بقیہ مسلمان جو فلسطین میں رہ گئے اُن کو زور زبردستی 1948 کی جنگِ فلسطین کے بعدنکال دیا گیا۔

8 لاکھ مہاجرین کی زیادہ تعداد مصر، اُردن، شام اور ترکی میں پھیل گئی۔ مسلمانوں اور یہودیوں کی دشمنی کی باقاعدہ اِبتداء 1948 کی جنگ اور اُس میں شکست کے بعد شروع ہو گئی۔

1948 کے بے گھر فلسطینی 8لاکھ مہاجروں کی تعداد اَب ایک کروڑدس لاکھ ہو گئی ہے جو اُردن، لبنان، شام، مصر اور سعودی عرب کے کیمپوں میں رہتے ہیں۔ صرف 33 لاکھ فلسطینی ہیں جو مہاجر نہیں ہیں اور جو مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر بطور آزاد علاقہ آباد ہیں۔تمام یہودی مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ ریاستِ اسرائیل میں رہنے والے عام یہودی (خاص طور پر غیر یورپی یہودی)مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں اور یہ کافی تعداد میں ہیں۔ جس طرح پچھلی چند دھائیوں سے Political Islam کا چرچہ شروع ہوا ہے اسی طرح Political Judaism یا صہو نیت کا 100 سال سے وجود ہے۔ جس طرح ہمارے کچھ پُرجوش مولوی مسجدوں میں اور اپنی تحریروں میں ”غلبہِ اسلام“ اور یہود و ھنود کی تباہی کا پرچار کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر صفر ہیں۔ اسی طرح صہیونی عناصر 100 سال سے غلبہ ِ یہودیت کے لئے کام کر رہے ہیں۔

ہمارے مولویوں کی طرح صرف نعرے نہیں مار رہے۔ دنیا کے بڑے سرمایہ کاری کے مراکز، میڈیا کے شعبہ کا 88 فیصد اور یورپ، امریکہ کی بینکاری کا 90فیصد نظام صہیونی قبضے میں ہے۔ امریکہ جیسے ہاتھی ملک کو 30 لاکھ یہودی جس طرف چاہے موڑ دیتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے پر بلاواسطہ اور بالواسطہ یہودیوں کا مکمل کنٹرول ہے۔ ہم مسلمانوں نے غلبہء اسلام کا نعرہ لگا کر یا دہشت گرد پیدا کئے یا تبلیغی جماعتیں۔ یہودیوں نے دہشت گردی کو بھی سائنس بنا دیا۔ انفرادی اور ریاستی سطح کی دہشت گردی میں اسرائیلی کارکردگی ہولناک ہے۔چونکہ یہودیت میں تبدیلی مذہب کے ذریعے نئے یہودی بنانے کا تصوّر نہیں ہے۔

اس لئے اِن کے ہاں تبلیغی جماعتیں نہیں ہوتیں۔ غیر یہودیوں کو Gentile کہا جاتاہے۔ جو کسی طور ”بنی اسرائیل“کی نسل میں شامل نہیں ہو سکتے۔البتہ یہودیوں نے ایسی فلاحی تنظیمیں ضرور بنائیں جو حیثیت اور رُتبے کے لحاظ سے نہائت اونچی شہرت رکھتی ہیں۔ اِن تنظیموں میں غیر یہودی شامل ہونا باعثِ تفاخر سمجھتے ہیں۔ اُن تنظیموں میں سے اہم ترینFreemason کلبنرہیں۔ ظاہرہ طور پر یہ فلاحی کام کرتے ہیں اور لا مذہب ہوتے ہیں، لیکن اندرونِ خانہ یہ کلب جس ملک میں بھی ہوتے ہیں، وہاں کی اشرافیہ اور طاقتور بیورو کریسی کو رُکن بناتے ہیں۔ مقصد اِن تنظیموں کا ہر ملک میں یہودیوں کا ایسا حلقہِ اثر بنانا ہوتا ہے جو Zionism کے پروگرام کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو۔ یہودیوں کو تبلیغی فرائض کے بجائے یہودیت کا حلقہِ اثر پیدا کرنا زیادہ اہم ہے۔

مسلمانوں اوریہودیوں میں اِتنی مماثلت ہونے کے باوجود، یہودیوں کی اوّلین دشمنی مسلمانوں کے ساتھ ہی ہے، کیونکہ اُن کے مذہب کو اگر خطرہ ہوا تو وہ مسلمانوں ہی سے ہو گا، کیونکہ دونوں عقیدے کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ پنجابی معاشرے کی طرح یہ شر یکے کی لڑائی ہے جو اپنوں ہی کے درمیان ہوتی ہے اور نسلوں چلتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -