ورلڈکپ سے پہلے پھر ایک امتخان

ورلڈکپ سے پہلے پھر ایک امتخان

ورلڈکپ کا ٹائٹل اپنے نام کرنے کا عزم لیے پاکستان کرکٹ ٹیم سرفراز احمد کی قیادت میں لندن میں موجودہے۔ ورلڈ کپ سے قبل انگلینڈ کے خلاف 5 ایک روزہ میچز پر مشتمل سیریز اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے گی۔ورلڈکپ کا افتتاحی میچ انگلینڈ اور جنوبی افریقا کے درمیان 30 مئی کو کھیلا جائے گا، پاکستانی ٹیم اپنا پہلا میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف 31 مئی کو کھیلے گی جب کہ ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹاکرا 16 جون کو ہوگا۔ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے سیمی فائنل تک رسائی کو پہلا ٹارگٹ قرار دیا ہے۔کوچ مکی آرتھر نے کہاہے کہ محمد عامر انگلینڈ کے خلاف بہتر کار کر دگی دکھا کر ورلڈ کپ کیلئے منتخب ہو سکتے ہیں،ہمارے پاس ٹیم میں بہترین باؤلنگ آپشن موجود ہیں،سر شاہ اور عماد وسیم سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔ ٹریننگ سے مطمئن ہوں۔کوچ نے کہا کہ پچھلے کچھ مہینوں سے ہم متواتر کرکٹ کھیلتے آ رہے ہیں جس کا ہمیں فائدہ بھی ہوا ہے۔ کھلاڑی یہاں بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ میں زبردست مشقیں کر رہے ہیں۔کوچ کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ٹیم میں بہترین باؤلنگ آپشن موجود ہیں اور دوسری طرف دو سپنر بھی ٹیم کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں، یاسر شاہ اور عماد وسیم سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔کوچ کا کہنا تھا کہ گرین شرٹس کسی بھی ٹیم کو سرپرائز دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستانی بیٹنگ لائن میں بہترین بلے باز موجود ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ورلڈکپ سے قبل کیسے شروعات کرنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے دورہ انگلینڈ اور ورلڈکپ کے لیے لاہور میں تربیتی کیمپ لگایا جس میں زبردست ٹریننگ کی گئی۔ مکی آرتھر کے مطابق بیٹسمین بابر اعظم ہماری ٹیم میں ریڑھ کی حیثیت رکھتے ہیں اور تواتر کے ساتھ رنز بنا رہے ہیں۔جبکہقومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے کہا ہے کہ عامر تجربہ کار ہے لیکن وکٹ نہیں لے گا تو ٹیم کو مشکل ہوگی، محمد عامر انگلینڈ کے خلاف پرفارم کرکے ورلڈ کپ ٹیم میں آسکتا ہے۔ چیف سلیکٹر نے کہا کہ صرف تجربے پر کسی کھلاڑی کو ٹیم میں نہیں رکھ سکتے، عامر انگلینڈ کے خلاف پرفام کرکے ورلڈ کپ ٹیم میں آسکتا ہے۔چیف سلیکٹر نے کہا کہ نوجوان کھلا ڑیوں کے لیے ورلڈ کپ کھیلنا خوش قسمتی ہے، میں نے 5ورلڈ کپ کھیلے، پہلے ورلڈ کپ کی خوشی الگ ہی تھی، ورلڈ کپ کا دبا ہوتا ہے، کھلاڑی ذمہ داری سے کھیلیں تو نتائج مثبت آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں سے کام لینے میں کپتان کا رول اہم ہے، 22کروڑ آبادی میں سے صرف 15کھلاڑی سلیکٹ ہوتے ہیں، ٹیم میں اچھا ہی کھلاڑی منتخب ہوتا ہے، کھلاڑیوں میں جتنی خود اعتمادی ہوگی اتنا ہی اچھا کھیلیں گے۔انضمام الحق نے کہا کہ پاک بھارت میچ کا اضافی دبا وہوتا ہے، ورلڈ کپ میں وہ ہی ٹیم جیتے گی جو مشکل وقت میں خود پر قابو رکھے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کرکٹ کھیلنا آسان لیکن چیف سلیکٹر بننا بہت مشکل ہے، ٹیم کا انتخاب کرنا بہت مشکل کام ہے، ڈومیسٹک میں جتنا سخت مقابلہ ہوگا اتنے اچھے کرکٹرز سامنے آئیں گے۔چیف سلیکٹر نے کہا کہ حسنین ورلڈ کپ میں سرپرائز پیکیج ثابت ہوگا، حسنین کے علاوہ تمام بولر ایک جیسی رفتار سے گیند کرتے ہیں، ٹیم میں ورلڈ کپ جیتنے کی صلاحیت ہے، عالمی کپ میں قومی ٹیم ٹاپ فور میں ضرور آئے گی۔جبکہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق لیگ اسپنر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ کیلئے منتخب سکواڈ میں بولنگ کے مقابلے میں بیٹنگ میں تجربہ کار کھلاڑی ہیں، بولرز اتنے تجربہ کار نہیں جس کا نقصان ہوسکتا ہے۔ سابق لیگ اسپنر مشتاق احمد نے کہا کہ جنید خان سب سے سینئر کھلاڑی ہیں انہیں ذمہ داری لینا ہوگی، عامر وکٹ نہیں لیتا لیکن رنز روک کر دباو بڑھاتا ہے، عامر انگلینڈ کے خلاف پرفارم کرکے ورلڈ کپ ٹیم میں آئے گا تو فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ون ڈے میچ میں بہت منصوبہ بندی کے ساتھ کرکٹ کھیلنا ہوتی ہے، حریف ٹیم عامر کو محتاط ہوکر کھیلنے کا پلان بناتی ہے اس لیے انہیں وکٹ نہیں ملتی، شاداب اپنی مکمل ورائٹی کے ساتھ گیند کرے تو فائدہ ہوگا۔سابق لیگ اسپنر نے کہا کہ فخر زمان اور امام الحق کی جوڑی بہت اچھی ہے، دونوں اوپنرز کا رول بہت واضح ہے، جیت کے لیے ڈریسنگ روم کا اچھا ماحول بہت ضروری ہے، ہر کھلاڑی کو اپنا روم کا معلوم ہونا چاہئے۔ایک سوال کے جواب میں مشتاق احمد نے کہا کہ کرکٹ جنگ نہیں ایک کھیل ہے اور اسے کھیل ہی کی طرح کھیلنا چاہئے، سابق کھلاڑیوں کو پاک بھارت میچ کو جنگ نہیں کہنا چاہئے، قومی ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ جیتنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مشتاق احمد نے کہا کہ ورلڈ سے قبل انگلینڈ سے پانچ ون ڈے سے فائدہ ہوگا، انگلینڈ سے سیریز آرگنائز کرنے پر پی سی بی کو کریڈیٹ دینا چاہئے، اسپنرز مڈل اوور میں وکٹ لیں گے تو کامیابی ملے گی، قومی ٹیم میں ورلڈ کپ جیتنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے، شعیب ملک کا پرفارم کرنا بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ 92ورلڈ کپ جیتنا اعزاز کی بات تھی، عمران خان کی کپتانی میں کھیلنے والوں کا کیریئر بہت زبردست رہا، موجودہ دور میں میچ جیتنے کے لیے جارحانہ کرکٹ کھیلنا ہوگی۔جبکہ دوسری جانب ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں انگلینڈ کی سیریز اور ورلڈ کپ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کو بھاری معاوضہ وصول کر کے مختلف چیریٹی پروگرامز میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔2016میں انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز، 2017میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی اور 2018میں پھر ٹیسٹ سیریز کے دوران انگلینڈ میں بعض پروفیشنل آرگنائزرز نے ایسے چیریٹی پروگرام کرائے جس میں کئی بڑے کھلاڑی شریک ہوئے۔موجودہ اور سابق کھلاڑیوں نے ان پروگراموں میں شرکت کے لیے منتظمین سے بھاری معاوضے لیے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آرگنائزر دراصل چیریٹی کے نام پر پیسہ جمع کرتے ہوئے یہ دعوی کرتے تھے کہ ان پیسوں سے پاکستان میں مختلف فلاحی منصوبوں پر کام ہو گا جب کہ ان منصوبوں کا پاکستان میں وجود ہی نہیں ہوتا تھا۔گزشتہ تین سال میں کئی کھلاڑیوں نے ان تقاریب میں شرکت کر کے خاصے پیسے کمائے۔ ان پروگراموں میں بعض کرکٹرز کے پاکستانی نژاد ایجنٹس بھی پیش پیش رہے جنہوں نے پیسوں کا لالچ دے کر کھلاڑیوں کو تقاریب میں مدعو کیا اور کھلاڑیوں کے پرستار نیلامی میں مختلف اشیا خریدتے رہے اور ڈنر کے مہنگے ٹکٹ فروخت کیے گئے۔لیکن اس بار پاکستان کرکٹ بورڈ نے برٹش ایشن ٹرسٹ سے معاہدہ کیا ہے اس ٹرسٹ کے مرکزی حکام میں شہزادہ چارلس شامل ہیں۔ کھلاڑی اس ٹرسٹ کے علاوہ کسی اور پروگرام میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔جبکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے انگلینڈ میں 30 مئی سے شروع ہونے والے کرکٹ ورلڈکپ2019ء کے لیگ مرحلے کیلئے 16بہترین ایمپائرز سمیت 22 میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا۔ میچ آفیشلز میں 16 ایمپائرز اور 6 میچ ریفریز شامل ہیں جنھیں ان کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے منتخب کیا گیا ہے۔ ایمپائرز میں پاکستانی ایمپائر علیم ڈار بھی شامل ہیں جو اپنے پانچویں ورلڈ کپ میں ایمپائرنگ کے فرائض سر انجام دیں گے۔ ایمپائرز میں علیم ڈار، سری لنکا کے کمار دھرما سینا، کرس جیفینی، آئن گولڈ، میریاس ایراسمس، رچرڈ النگ ورتھ، رچرڈ کیٹلیبرو، نیگل لونگ، بروس آکسنفورڈ، سندارام راوی، پال جیفری، روڈ ٹکر، جوئیل ولسن، مچل کوف، روچیرا یاگورو اور پال ولسن شامل ہیں۔ ایونٹ کے میچ ریفری کیلئے کرس بورڈ، ڈیوڈ بون، اینڈی پیکروفٹ، جیف کرو، رانجن مدوگالے اور رکی رچرڈسن شامل ہیں۔ مذکورہ ایمپائر اور ریفری ورلڈ کپ کے لیگ میچز میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے جبکہ سیمی فائلز اور فائنل کیلئے میچ آفیشلز کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ ایمپائر آئن گولڈکا یہ آخری ورلڈ کپ ہوگا اور اس کے بعد وہ ایمپائرنگ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

مزید : ایڈیشن 1