تعلیمی ادارے امید سحر کا ذریعہ ہوتے ہیں: جاوید خان مروت

تعلیمی ادارے امید سحر کا ذریعہ ہوتے ہیں: جاوید خان مروت

ڈیرہ اسماعیل خان(بیورورپورٹ)تعلیمی ادارے شعوری اور لاشعوری طور پر امید سحر کا ذریعہ ہوتے ہیں جہاں پر نوجوان نسل کی آبیاری ہوتی ہے ان کو پڑھایا جاتاہے 'بتایا جاتا ہے ان کو نکھارا جاتا ہے ان کو ہمت دی جاتی ہے اور استاد چلتا پھرتا امید سحر کا مجسم ہوتا ہے۔ میں نے بھی اپنے  کیئر یئر کا آغازبحیثیت ایک استاد کے کیا جس میں مجھے فخر ہے اور رہے گا کیونکہ استاد کا پیشہ ایک پیغمبرانہ پیشہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار کمشنر ڈیرہ جاوید خان مروت نے گومل یونیورسٹی میں پاک فوج کے تعاون سے چوتھا آل پاکستان گومیلین سٹوڈنٹس کونسل شیلڈ مقابلہ”امید سحر“عنوان سے منعقدہ مقابلہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سرور چوہدری، اسٹیشن کمانڈر بریگیڈئیر راؤ عمران سرتاج' رجسٹرار الحاج دلنواز خان، کوارڈینیٹر سٹی کیمپس پروفیسر ڈاکٹر صلاح الدین،ڈائریکٹر سٹوڈنٹس آفیئر وڈین فیکلٹی آف فارمیسی ڈاکٹر ستار بخش، سٹوڈنٹس ایڈوائزرو ڈپٹی رجسٹرار اسٹیبلشمنٹ ریاض بیٹنی، پرنسپل وینسم کالج سردار فتح اللہ سلیمان خیل،پرووسٹ سمیت یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات کے ہیڈ، اساتذہ، انتظامی افسران و طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر جاوید مروت نے کہا کہ ہم امید سحر کی بات کیوں کرتے ہیں آج اس ہال میں بیٹھ کر جب یہ ماحول دیکھا تو مجھے یوں لگا جیسے اپنے بہتر معاشرے, اپنے بہتر کل کیلئے اپنی آنیوالی نسلوں کی بنیاد ہم نے آج یہاں رکھ دی ہے جس کا تمام تر کریڈیٹ گومل یونیورسٹی کی انتظامیہ اور ان کے طلبا کو جاتا ہے۔ ادارک کی بات ہو، علم کی بات ہو تو قائد انقلاب حضرت مولاناعبید اللہ سندھی کا فرمان یاد آتا ہے کہ دنیاکی تمام الجھنیں ختم ہو سکتی ہیں اگر عالم بولنا اور جاہل چپ رہنا سیکھ لیں مگر ہمارے یہاں یہ الٹ ہورہا ہے آپ دیکھتے ہوں کہ جاہل مسلسل بولے جا رہے ہیں اور عالم ہمیں کونوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔اس لئے آج کے دن کے آپ طلبا کو نصیحت کرتا ہوں کہ جو جگہ بولنے کی ہو وہاں بولیں مگر جہاں چپ رہنا تو وہاں خاموشی اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ میں گومل یونیورسٹی کوآکسیجن ٹینک کہتا ہوں کیونکہ یہاں آکرمجھے آکسیجن ملتی ہے۔آپ کو شاید آج یہاں پر تعلیم حاصل کرتے ہوئے گومل یونیورسٹی کی حیثیت کا اس کی اہمیت کا اوراس وقت کا احساس نہ ہوتا ہولیکن یقین جانیں جب آپ ترقی کی منازل پر پہنچ جائیں اور پھر مڑ کر کبھی یہاں آئیں گے تو آپ کو ایسا ہی محسوس ہوگا کہ جیسے آپ آکسیجن ٹینک میں آگئے ہوں اور شاید یہی وجہ ہے کہ میں نے کبھی پروفیسر اور اساتذہ کو کبھی بوڑھا ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔کیونکہ استاد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا' استاد فقیر ہوتا ہے۔ہمارے لئے باعث فخر ہے کہ پورے پاکستان کے ہر صوبے اور سے مختلف جامعات کے  طلبا و طالبات یہاں ڈیرہ اسماعیل خان گومل یونیورسٹی میں آئے اور ہمیں آج انہیں خو ش آمدید کہہ رہے ہیں آج ان لوگوں کومحسوس ہوا ہو گاکہ یہ علاقہ کتنا پر امن ہے اور یہاں کے لوگ کتنے مہمان نواز ہیں۔سننے اور دیکھ میں فرق ہوتا ہے جو آج یہ لوگ خود محسوس کررہے ہوں گے کہ کتنا پر امن شہر ہے۔کمشنر جاوید مروت نے کہا کہ ہمیں جو بھی کچھ کہتا ہے ہمیں اس پر یقین کر لیتے ہیں اس پر تحقیق نہیں کرتے۔ میں آپ طلبا کو کہوں گا کہ تھوڑا تحقیق کر لیا کریں اس دیکھ لیا کرو کہ اس بات میں کتنی حقیقت ہے کیونکہ ہمارے ہاں مایوسی اور نفرت پھیلانا کاروبار ہے۔بہت سارے لوگ انہی نفرتوں کی آڑ میں اپنا ایجنڈا لے کر آگے چلے رہے ہوتے ہیں جب ہم امید سحر کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ان عوامل کو بھی دیکھنا چاہئے۔دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں اور نہ ہے اور نہ ہی دیکھی گئی ہے جس کا ماضی درخشان رہا ہو۔ ان کے ایشو بھی ہوتے ہیں، مشکلات دور سے گزرے ہیں تکلیف بھی برداشت کرتے ہیں۔ یہ سب ہمارے ساتھ بھی ہوا۔ خوشی ہے کہ اتنے اچھے پروگرام کے انعقاد کے جب یہ طلبا ہمارے سفیر بن کر اپنے علاقے اپنی جامعات میں جائیں گے تو وہاں کے لوگوں کو بتائیں گے کہ ہمارا علاقہ کتنا پرامن اوریہاں کے لوگ کتنے امن پسند ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیشن کمانڈر بریگیڈئیر راؤ عمران سرتاج نے کہا کہ پورے پاکستان کی جامعات کے طلبا و طالبات کا جامعہ گومل اور خصوصا ڈیرہ میں آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں امن کی فضا قائم ہے۔وائس چانسلر،رجسٹرار اور ڈائریکٹر سٹوڈنٹس آفیئر سمیت گومل یونیورسٹی کی تمام انتظامیہ بہترین اور کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد کی مستحق ہے۔ آپ طلبا مثبت سوچ،محنت اور لگن سے محنت کریں اور اپنے پیارے ملک پاکستان کا نام روشن کریں۔کیونکہ پاکستان ہیں تو آپ اور ہم سب ہیں اور خدانخواستہ اگر یہ نہیں تو پھر ہم بھی نہیں۔اسٹیشن کمانڈر نے باہر سے آئے ہوئے طلبا سے کہا کہ آپ لوگ اگر یہاں رہنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو رہائش اور دیگر سہولیات دینے کو تیار ہیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سرور چوہدر ی نے کہا کہ میرے لئے اور گومل یونیورسٹی کیلئے خوشی کی بات ہے کہ آج پاکستان کے ہر صوبے کی مختلف جامعات سے طلبا و طالبات مقابلے کے لئے یہاں آئے۔ گومل یونیورسٹی پاکستان کی چوتھی بڑی یونیورسٹی ہے جو11ہزار کنال کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور آنے والے سالوں میں یہ یونیورسٹی پاکستان کی بہترین یونیورسٹی میں شامل ہو گی اور اگر اس طرح ہم اس کو آگے لے کر چلتے رہے تو یہ وہ ادارہ ہو گا جو صرف ڈیرہ نہیں اور نہ ہی پاکستان بلکہ پوری دنیاکے طلبا کو مستفید کرے گا۔ وائس چانسلرڈاکٹر سرور نے کہا کہ ڈیرہ وہ نہیں جو ہم اخباروں میں پڑھتے ہیں یہ بہت بڑا پر امن شہرہے۔ اس کے امن میں ڈیرہ کی انتظامیہ سیکیورٹی اور خصوصا کمشنر ڈیرہ کا بہت کردار ہے۔ کمشنر جاوید مروت کی گومل یونیورسٹی کیلئے خدمات کوسراہا  اور کہ ان کی گومل یونیورسٹی کے لئے خدمات قابل قدر اور ہمارے لئے باعث عزت ہیں میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ایسے کمشنر قوموں کیلئے رحمت کی نشان ہوتی ہیں۔ کمشنر جاوید مروت سٹیج پر آتے ہیں تو پروفیسر لگتے ہیں اور جب ان سے ان کے  دفتر میں کمشنر لگتے ہیں اور جب عوام میں بیٹھے ہوتے ہیں تو عوامی نمائندہ لگتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ یہ ہمارے ہی ڈویژن میں رہیں۔وائس چانسلر گومل یونیورسٹی نے کہا کہ میں ڈائریکٹر سٹوڈنٹس آفیئرڈاکٹر ستار بخش، گومیلین سٹوڈنٹس کونسل، اساتذہ، یونیورسٹی سیکیورٹی سمیت دیگر سیکیورٹی اداروں کو مبارک باد دیتا ہوں کہ جن کی محنت اور کوششوں سے آج اس کامیاب پروگرام کا انعقادہوا۔ وائس چانسلر نے پاک فوج کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اور خصوصا اسٹیشن کمانڈر بریگیڈئیر را سرتاج عمران کا گومل یونیورسٹی اور ان کے طلبا سے لگا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں جس کی مثال پاک گومل یونیورسٹی میں جم کا قیام ہے ایسا جم پشاور بلکہ پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں نہیں۔ بریگیڈئیر راؤ عمران سرتاج نے طلبا کی ہر قدم پر رہنمائی کی۔ کور کمانڈر پشاور نے بھی گومل یونیورسٹی کے دورے پر گومل یونیورسٹی کی تعریف کی۔ آپ طلبا اپنے آئے مہمانوں کا خیال رکھیں۔ چوتھا آل پاکستان گومیلین سٹوڈنٹس کونسل شیلڈ مقابلوں میں یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب لاہور،گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد،نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد،خضدار یونیورسٹی بلوچستان،یونیورسٹی آف کراچی،جی سی کالج وویمن یونیورسٹی فیصل آباد،بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان،عبدالولی خان یونیورسٹی مردان،کیمز پشاور،یونیورسٹی آف پشاور،یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنوں،قرطبہ یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان،گومل میڈیکل کالج ڈیرہ اسماعیل خان،کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کوہاٹ،قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد،کامسیٹ یونیورسٹی آف اسلام آبادوہاڑی کیمپس،نواز شریف یونیورسٹی ملتان،یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور،یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنس جھنگ،آزاداینڈ جموں کشمیر یونیورسٹی،یونیورسٹی آف بلوچستان،سمیت پاکستان کی تقریبا26یونیورسٹی اور مختلف انسٹیٹیوٹ کے طلبا و طالبات نے شرکت کی۔جس میں نعمت و قرات، تقریری مقابلہ، پینٹنگ، کیلی گرافی، ویڈیو گرافی کے مقابلے ہوئے اور فرسٹ،سکینڈ تھر ڈ آنیوالے طلبا و طالبات میں شیلڈ بھی دی گئیں۔اس موقع پرپاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے طلبا نے گومل یونیورسٹی میں آکر خوشی ہوئی ہمیں یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے ہم اپنی ہی یونیورسٹی میں ہوں انشااللہ ہم آئندہ بھی گومل یونیورسٹی کے پروگراموں میں شامل ہوتے رہینگے طلبا نے گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر,رجسٹرار سمیت تمام انتظامیہ کو بہترین پروگرام کے انعقاد پر خراج تحسین بھی پیش کیا.اس موقع پر اسٹیشن کمانڈر کی طرف سے پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں سے آئے ہوئے طلبا اور گومل یونیورسٹی کی انتظامیہ کے لئے عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا

مزید : پشاورصفحہ آخر