جنوبی وزیرستان میں لشمینیا سے متاثرہ مریضو ں کی تعداد میں آئے روز اضافہ

جنوبی وزیرستان میں لشمینیا سے متاثرہ مریضو ں کی تعداد میں آئے روز اضافہ

ٹانک (نمائندہ خصوصی) جنوبی وزیرستان میں لشمینیا سے متاثرہ مریضو ں کی تعداد میں آئے روز اضافہ،انتظامیہ کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کرنے کے باوجود محکمہ صحت میں غفلت اور لاپرواہی کا سلسلہ بدستور جاری۔ تفصیلات کے مطابق جنوبی وزیرستان میں گزشتہ دوماہ سے لشمینیا مچھر کے کاٹنے سے ہزاروں کی تعداد میں متاثرہ افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد محکمہ صحت جنوبی وزیرستان کا دعوی ہے کہ جنوبی وزیرستان کے علاقہ سول ہسپتال سراروغہ، ٹی ایچ کیو مولے خان سرائے، اے ایچ کیو وانا، ٹی ایچ کیو شولام، ٹی ایچ کیو توئے خولہ، سول ہسپتال سپین، بی ایچ یو شکئی میں سینٹر قائم کردئیے گئے ہیں جبکہ جنوبی وزیرستان کے علاقہ شوال، شکتوئی،لدھا، کڑامہ، کانیگرم، بدر، اوس پاس، کال کالہ، تیارزہ،شکاری، درہ ہیبت خیل سمیت دیگر علاقوں میں تاحال نہ کوئی کیمپ لگایا گیاہے اور نہ ہی کوئی لشمینییا سینٹر قائم کیا گیا ہے جس سے لشمینیا سے متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم نہیں کی گئی محکمہ صحت جنوبی وزیرستان ملیریا کنٹرول سیل کی عدم دلچسپی کے باعث لشمینیا اور دیگر مچھروں کی افزائش میں آئے روز اضافہ ہورہاہے قبائلی رہنما ملک اے ڈی محسود نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ محکمہ صحت جنوبی وزیرستان سمیت دیگر محکمہ جات میں ترجمان وزیراعلیٰ خبیر پختونخوا اجمل وزیر کے کاسہ لیس افسران کی بھر مارہے جسکے باعث متعلقہ افسران جنوبی وزیرستان میں اپنے دفاتر میں فرائض سرانجام دینے کے بجائے پشاور سے دفاتر کو ریموٹ کنٹرول کے زریعے چلارہے ہیں انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور محکمہ صحت خبیرپختونخوا کے اعلی حکام سے محکمہ صحت اور دیگر محکمہ جات میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے ترجمان کی غیر ضروری مداخلت کا نوٹس لیکرانہیں جنوبی وزیرستان میں اندرونی معاملات سے باز رکھا جائے جس سے جنوبی وزیرستان میں مقامی سطح پر اقوام کے مابین قومی تعصب سے دشمنیاں جنم لینے کا شدید خطرہ لاحق ہوچکاہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر