سب ڈویژن جندول کے مسائل میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے 

سب ڈویژن جندول کے مسائل میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے 

  

جندول(نمائندہ پاکستان) سب ڈویژن جندول کے مسائل میں روز بروز اضافہ ہوتے جارہی ہے جندول کے تین کٹگری ڈی ہسپتالوں کا برا حال ڈاکٹروں نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف جگہ جگہ غیر قانونی میڈیکل سٹور وں کے تعداد وں میں دن بدن اضافہ ہوتے جارہی ہے کروڑوں کے لاگت سے بنا معیار کٹگری ڈی ہسپتال کے بلڈنگ استعمال کے قابل نہیں ہورہا بلڈنگ کے قیمتی سازوں سامان سمیت بلڈنگ میں دراڑے شروع ہوگئی ہے جندول سب ڈویژن کے تمام سڑکیں کھنڈراتوں میں تبدیل ہوگیا ہے ایک مہنے سے اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار ناہونے سے لوگوں کو ڈومسائل اور دیگر کیسوں میں شدید مشکلات کا سامنا گران فروشوں کا راج نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلہ کردیا ہے دورے جدید میں بجلی کا کم ولٹیج،نمبروار نے علاقائی لوگو کا جینا جیرن بنارکھا ہے تبدیلی سرکار نے عواموں کا جینا حرام کردیا ہے جندول سب ڈویژن کے عواموں نے تحریک انصاف کے حکومت کے خلاف جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے شروع کردیا ہے علاقائی لوگوں نے ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی سے استفعا دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے گزشتہ روز تحریک انصاف کے حکومت کے خلاف تحصیل ثمرباغ میں ایک پرہوجوم احتجاجی مظاہرے میں مقررین سماجی کارکوں سلیم خان نے کہا کہ ممبر قومی اسمبلی محمد بشیر خان نے نو مہنے میں کوئی کارکردگی نہیں دیکھایا انہونے کہا کہ ممبر قومی اسمبلی کا خدمت صرف اور صرف حکومت سے مرعات حاصل کرنے تک محدود ہے اس مقع پر جماعت اسلامی کے ممبر ضلعی کونسل مولانا عمران الجندولی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دور میں کوئی مسائل پیش نہیں ایا بجلی کا نمبر عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں شروع ہوگیا تھا جماعت اسلامی کے تمام قیادت نے کمزور قیادت میں ایک حد تک برپور کوشش کیا تھا مگر اس وقت تحریک انصاف کے حکوت نے جماعت اسلامی کے ساتھ تعصوف کے بینا پر جماعت اسلامی کے کاموں میں روکاوٹے ڈال دیتے تھے اس وجہ سے جماعت اسلامی کے منظورکردہ منصبوبے اب تک مکمل نہیں ہوا مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تحصیل ناظم سید احمد باچہ نے کہا کہ جندول میں اپنے لیول کے تمام مسائل خوب جنتا ہوں کھبی بھی عوام کے خدمت میں کوتاہی نہیں کیا کئی بار بجلی اور ہسپتالوں کے مسائل حل کرنے کے کوشش کیں ہر مہنے عوامی شکایت پر پسکوں چیف ایکزیکٹوں اور ڈی جی سیکٹری ہلتھ کے ساتھ ملاقاتے کیں ہے مگر ناہل حکوت کو عوامی مسائل حل کرنے کی کوئی احساس نہیں۔سب ڈویژن جندول ٹی ایچ کیو ہسپتال تاحال ڈاکٹرز کمی سمیت دیگر سہولیت کا فقدان ہے تااہم گزشتہ ماہ ڈی جی سیکٹری ہلتھ خیبرپختونخوا نے ٹی ایچ کیو ہسپتال کا باقائدہ دورہ کے بعد مختلف ڈاکٹرز کو ثمرباغ جانے کی نوٹیفیکشن جاری کردیا تھا مگر تاحال ڈی جی سیکٹری ہلتھ کی نوٹیفیکیشن پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہسپتال زریع کے مطابقمحکمہ صحت کے جانب سے مختلف سپشلسٹ ڈاکٹرز کی ٹی ایچ کیو ثمرباغ جانے اور وہاں ڈیوٹی سرانجام دینے کا ارڈر جاری ہوگیا تھا جن میں لیڈی ڈاکٹررز سمیت میڈیکل،اے این ٹی،چلڈرن اور دیگر ڈاکٹررز کا نام سرفہرست تھا جسکاباقائدہ نوٹیفیکشن جاری کیا گیا تھاہسپتال زرئع کے مطابق اب تک ایک چلڈرن ڈاکٹرر کے جانب سے ہسپتال ایا تھا اور دیگر ڈاکٹروں نے اس وقت صوبائی حکومت سے اپنا ٹرانسفر کینسل کردیا تھا جو صوبائی حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہے۔ٹی ایچ کیو ہسپتال ثمرباغ میں کئی سالوں سے ڈاکٹرز سمیت دیگر سہولیت کا فقدان ہے جس پر محکمہ صحت کی ڈی جی ہلتھ نے نوٹس لی لیا تھا اور ٹی ایچ کیو ہسپتال ثمرباغ کو مختلف ڈاکٹرز کی ٹرانسپر کروادیا تھاجن پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوسکا جو محکمہ صحت سمیت ڈی جی سیکٹری ہلتھ کی ناکامی ظاہر کر دیتے ہے ڈاکٹروں کی اس اقدام پرعلاقائی لوگ کا کہنا تھا کہ جو ڈاکٹررز ثمرباغ ہسپتال میں انے میں ٹالمٹول کرتے ہے ان کو فوری فاریغ کیا جائے انہونے مزید کہا کہ پاکستان میں ڈاکٹروز  حضرات اپنا ٹرانسپر ایک دو دن میں خود کینسل کردیتے ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے حکومت کا ناکامی سمیت  علاقا ئی لوگوں کے علاج پر بھی بری اثر پڑتے ہیں۔رونامہ اوصاف کو تفصلات بتاتے ہوئے ولیج کونسل کے ناظم ملک احضرت خان نے کہا کہ سب ڈویژن جندول کی تمام کٹگری ڈی ہسپتالوں کا برا حال نے جندول کے عوام کو شدید مشکلات میں مبتالا ہوگیاہے معیاروں بشمول منڈا اور ثمرباغ ہسپتالوں کا برا حال ثمرباغ کٹگری ڈی ہسپتال گائنی وارڈ سے کئی سالوں سے گائنی وارڈ کو خالہ اور نرسوں سے چلائی جاتی ہے جبکہ معیار کٹگری ڈی ہسپتال سپشلسٹ ڈاکٹر رناہونے کے وجہ سے لوگ ڈی ایچ کیو تمرگرہ اور دیگر ہسپتالوں میں علاج کروانے کیلئے جاتے ہے جس پر علاقائی ایم این اے اور ایم پی اے سمیت صوبائی حکومت خاموش تماشائی بنے ہے اس مقع پرکسان کونسلر سید مبارک شاہ نے کہاکہ جندول کے تمام ہسپتالوں میں مریضوں کو کوئی سہولیت میسر نہیں جس پر ڈی جی سیکٹری ہلتھ خیبر پختونخوا نے نوٹس لے لیا تھا اور جندول کا دورا کرتے وقت کئی ڈاکٹروں کو جندول کے تینوں کٹگری ڈی ہسپتالوں کو ٹرانسفرکیا گیا تھا مگر ڈاکٹروں نے اس وقت ڈی جی سیکٹری ہلتھ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیں اور ڈی جی سیکٹری ہلتھ کے فیصلے مانگنے سے صاف انکار کردیا تھا اور اس دن سے تمام ڈاکٹروں نے تحریک انصاف کے صوبائی حکومت سے اپنے اپنے ٹرانسفر کو کینسل کردیا اس مقع پر سماجی کارکون سید سلیم شاہ نے کہا کہ جندول میں کئی سال پہلے جماعت اسلامی کے کوششوں سے کرروڑوں کے لاگت سے تین بڑے بڑے کٹگری ڈی ہستال بنایا گیا ہے جس میں ڈاکٹرز سٹاف کمی کے وجہ سے لوگ تمرگرہ اور پشاور کو جانے پر مجبور ہے اس مقع پر دیگر عوامی لوگوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتال کس چیز کا نام ہے سرکاری ہسپتال تو وہ ہوتا ہے جس میں عواموں کو سہولیت میسر ہوں انہونے صوبائی حکومت کے بجائے پاک ارمی سے مطالبہ کیا کہ معیارو کٹگری ڈی دیگر دو ہسپتال منڈا اور ثمرباغ میں بھی جندول عوام کے لئے ہفتہ وار او پی ڈی قائم کریں تکہ لوگوں کو اسانیا پیدا ہوجائے۔اس مقع پر پاکستان پیپل پارٹی کے رہنماء محمد اقبال خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عوام کو کوئی رلیف نہیں دیا انہونے کہا کہ اس وقت جندول سب ڈویژن مختلف مسائلوں کا شکار ہے جندول سمیت ثمرباغ ٹو تمرگرہ مین ہائی وے سڑک میں جگہ جگہ کڈی شروع ہوگیا ہے جو قابل مزمت ہے اس مقع پر ولیج کونسلر ملک سفیر محمد مشوانی نے کہا کہ کئی مہنوں سے جندول کے اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار نا ہونے کے وجہ سے جندول عوام کو ڈومیسائل اور دیگر کیسوں میں شدید مشکلات کاجس پر احکام بالا خاموش تماشائی بنے ہے اس مقع پر روزنامہ اوصاف کو تفصلات بتاتے ہوئے سیاسی اور سماجی مشران نے کہا کہ کئی دنوں سے ڈاکٹران نے غیر ضروری باتوں پر ہڑتال شروع کیا ہے جس کے وجہ سے لوگوں کو پرائٹ ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے انہونے کہا کہ جندول سب ڈویژن میں ڈاکٹرر حضرات نے چھوپٹ راج شروع کیا ہے اپنے مرضی کے فیس اصول کرنے کے علاوہ اپنے اور پرائٹ ہسپتال کے کمیشن غریب مریضوں سے اوصول کیا جاتے ہے جگہ جگہ پراوئٹ ہسپتالوں میں لیڈی ڈاکٹرز کے نام پر نرسوں سے کام لیا جاتے ہے ثمرباغ کے سرکاری ہسپتال ایمر جنسی یونٹ میں ایک نرس ڈاکٹر چوبیس گھنٹی ڈویوٹی سرانجام دیتے ہے جس کے وجہ سے باقی سٹاف اپنے بزنس میں ایک ہفتہ دوسرے جگوں میں غیر قانونی میڈیکل سٹور بنا رکھے ہے جس پر ضلع اینتظامہ خاموش تماشائی بنے ہے علاقائی لوگوں کا کہنا ہے کہ جندول کے تمام ہسپتالوں میں موجود ہ سٹاف بااسر اور برسر اقتدار پارٹیوں سے تعلوق رکھتے ہے اسلیئے انکے خلاف کاروئی نہیں کیا جاتے ہے انہونے کہا کہ اس وقت سب ڈویژن جندول کا براحال نے عواموں کے دلوں میں خوف ویراس پیدا کیا ہے جندول کے سارے انتظامیہ نے انکھوں پر پٹی بند رکھے ہے بازاروں میں گران فروشی روزبروز بڑھتے جارہی ہے موجودہایم این اے اور ایم پی اے  صرف حکومتی مرعات کھاتے ہے انکے ساتھ جندول کے عوام سے کوئی تعلوق نہیں تااہم گزشتہ روز صوبائی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں دونوں رہنماؤ ں سے استعفاء دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا اس موقع پر سماجی کارکوں اور نائب ناظم سلیم خان نے کہا کہ جندول کے عوام نے پی ٹی ائی اور اے این پی کو بجلی اور دیگر مسائل حل کرنے کیلئے ووٹ دیا ہے حکومتی مرعات اور تنخواؤں کے لیے ووٹ نہیں دیا انہونے کہ اگر ہنگامی بنیادوں پر جندول کے مسائل پر نوٹس نہیں لیا گیا تو جندول کے عوام مزید احتجاجوں پر مجبور ہوجائے گے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -