سابق قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور ترقی کا عمل تیزی سے جار ی: اجمل وزیر 

سابق قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور ترقی کا عمل تیزی سے جار ی: ...

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اور صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کی تیز رفتار ترقی کو موجودہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں سر فہرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ قبائلی علاقوں کی خیبر پختونخوا میں انضمام اور وہاں پر ترقی کا عمل تیزی سے جاری ہے جس کے لئے  وفاقی اور صوبائی حکومتیں دستیاب وسائل سے استفادہ کر رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ضم شدہ اضلاع ترقی کے میدان میں ملک کے دوسرے ترقیافتہ علاقوں  کے برابرہوں گے اور وہاں کے باشندوں کی محرومیوں کا ازالہ ہو جائے گا۔ ان خیالات اظہار انہوں نے ضلع جنوبی وزیرستان کے چار روزہ سرکاری دورے کے دوراں مختلف مقامات پر عوامی جلسوں سے خطاب اور قبائلی عمائدین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان سے لے کر باجوڑ تک قدرتی حسن اور بیش قیمت معدنی ذخائر سے مالا مال یہ خطہ ابھی تک ایف سی آر جیسے کالے قانون سے جکڑا گیا تھا، وہاں پر ترقی کا عمل ناپید تھا، حکومتی عملداری کا نام و نشان نہیں تھا جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں غربت، بے روزگاری، نا خواندگی اور لاقانونیت کا راج تھا جس کے مہلک اثرات نے ملک کے دوسرے حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھالیکن اب یہ باتیں ماضی کے قصے بن کے رہ گئے کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کی دور اندیش اور بصیرت افروز قیادت میں موجود حکومت نے سابقہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا  میں ضم کرنے کے لئے نہ صرف ملکی آئین میں ضروری ترامیم کیں بلکہ انضمام کے عمل کو کاغذوں سے حقیقت میں بدلنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات بھی شروع کئے جن کی بدولت ان علاقوں کا صوبے کے ساتھ انضمام کا عمل تقریبا مکمل ہو چکا ہے، ضم شدہ قبائلی اضلاع تک صوبے کی انتظامی، قانونی، مالی اور عدالتی نظام کی توسیع کا عمل انتہائی کامیابی سے جاری ہے جبکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں تعینات 28000 خاصہ دار اور لیوی فورس کو صوبائی پولیس میں ضم کرنے کا مشکل اور پیچیدہ عمل خوش اسلوبی سے مکمل کر لیا گیا ہے جس کا کریڈٹ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان کی کو جاتا ہے کیونکہ ان دونوں قائدین کی ذاتی دلچسپی کے بغیر یہ مشکل کام اتنے مختصر وقت میں نا ممکن تھا۔ سابقہ قبائلی علاقوں کی صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے عمل کے لئے نہیں وزیر اعلی خیبر پختونخواہ کا مشیرمقرر کرنے پر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی محمود خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اجمل وزیر نے کہا ہے کہ اس مشکل کام کے لئے دونوں قائدین نے مجھ پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس کے لیے میں ان کا تہ دل سے مشکور ہوں۔اجمل وزیر نے کہا کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لئے دس سالہ ترقیاتی پروگرام تیار کیا گیا ہے جس کے تحت ان علاقوں میں مختلف ترقیاتی منصوبوں اور عوام کے فلاح و بہبود کے کاموں پر ایک سو ارب روپے خرچ کئے جائیں۔ جبکہ ابھی سے ان علاقوں میں صحت انصاف کارڈز اور نوجوانوں کے لئے بلا سود قرضوں کی فراہمی کے علاوہ متعدد دیگر فلاحی منصوبوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ سابقہ قبائلی علاقوں کے انضمام کاعمل اور وہاں پر صحت، تعلیم اور روزگار سمیت دیگر سماجی شعبوں میں ترقی کا عمل جس تیز رفتاری سے جاری ہے اسے دیکھ کر یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ قبائلی اضلاع میں بہت جلد ترقی، خوشحالی اور امن و امان کے ایک سنہرے دور کا آغاز ہو جائے گا۔ اس موقع پر قبائلی عمائدین نے ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور وہاں کے لوگوں کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لئے دن رات کام کرنے پر اجمل وزیر کو خراج تحسین پیش کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر