امریکہ میں مقیم روسی طالبہ کو جاسوسی کے الزام میں ڈیڑھ سال قید کی سزا

امریکہ میں مقیم روسی طالبہ کو جاسوسی کے الزام میں ڈیڑھ سال قید کی سزا

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) امریکہ میں مقیم ایک نوجوان روسی طالبہ ماریا بتینا کو ایک وفاقی عدالت نے روس کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں ڈیڑھ سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ تیس سالہ ملزمہ گزشتہ جولائی سے جیل میں ہے جس نے استغاثہ کے مطابق ایک غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر روس کے لئے خفیہ خدمات سر انجام دیتے ہوئے امریکہ کے سیاسی گروپوں میں داخل ہو کر کام کیا۔ واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی جج تانیا چٹکن نے اپنا فیصلہ سناتیہوئے کہا کہ ایک زائد العمر غیر ملکی طالبہ نے جاسوسی کا کام محض غلط فہمی کی بناء پر نہیں بلکہ پورا سوچ سمجھ کر کیا۔ ماریا واشنگٹن کی امریکن یونیورسٹی کی گریجوایٹ رہ چکی ہے جس نے دسمبر میں اقرار جرم کر لیا تھا۔ ماریا نے ری پبلکن سیاست دانوں سے ساز باز کی اور ایک سینئر روسی اہل کار کی حمایت سے اسلحہ رکنے کی حامی تنظیم نیشنل رائفل ایسوسی ایشن (این آر اے) کے حلقوں میں داخل ہو گئی اور روسی مفادات کے حق میں خفیہ کام کیا۔ ملزمہ کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ استغاثہ کے ساتھ تعاون کرنے پر ملزمہ کی زیر حراست رہنے کی مدت کو بھی سزا کی مدت میں شمار کیا جائے اور اسے روس کے حوالے کیا جائے۔ اٹارنی جنرل ولیم بر نے بھی عدالت سے درخواست کی تھی کہ ملزمہ کو قید کاٹے بغیر روس کے حوالے کر دیا جائے۔ بتینا پہلی روسی شہری ہے جس پر 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل روس کی جانب سے امریکی پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کا الزام لگا ہے۔ ملزمہ نے اپنے اعترافی بیان میں عدالت کا بتایا تھا کہ اسے روس کے ایک سابق افسر ال یگزینڈر تورشین کام کی ہدایات دیتے تھے جن کی نگرانی میں اس نے 2013ء میں اسلحہ رکھنے کے حق کو فروغ دینے والی امریکی تنظیم ”این آر اے“ سے رابطوں کا سلسلہ شروع کیا جس کا ری پبلکن لیڈروں اور صدر ٹرمپ سے قریبی تعلق ہے۔

ڈیڑھ سال قید

مزید :

صفحہ اول -