سی پیک پاکستان کی خوشحالی کا منصوبہ، ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم چین کے شراکت دار ہیں، گوادر بندرگاہ خطے کے ممالک اور بر اعظموں کو ملائے گی: عمران خان 

سی پیک پاکستان کی خوشحالی کا منصوبہ، ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم چین کے شراکت ...

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)  وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اقتصادی راہداری ہماری خوشحالی کا منصوبہ ہے اور پاکستان کی خوش قسمتی ہے ہم چین کے شراکت دار ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ گول میز کانفرنس میں شرکت کی جہاں انٹرنیشنل کنونشن سینٹر آمد پر چینی صدر شی جن پنگ نے عمران خان کا استقبال کیا۔کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت دیگر عالمی رہنما بھی شریک تھے۔گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صدر شی جن پنگ اور ان کی حکومت کا بہترین میزبانی پر شکر گزار ہوں، عوامی جمہوریہ چین کی 70 ویں سالگرہ پر چینی حکومت اور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔عمران خان نے کہا کہ جدید دور میں چین کامیابی کی عظیم مثال ہے، چین میں پائیدار معیشت و معاشرتی ترقی سے کروڑوں لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوا،  عظیم ترقی چینی قیادت کے وژن اور عوام کی سخت محنت کا نتیجہ ہے۔ صدر شی جن پنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ کا وژن دیا اس کے  ذریعے رابطوں کو مزید بڑھانا ہوگا، بیلٹ اینڈ روڈ وژن سے رکاوٹیں ختم  ہونگی اور عوام قریب آئیں گے۔عمران خان نے مزید کہا کہ سی پیک مختلف منصوبوں کا مجموعہ ہے  جس میں شاہراہیں، ریل، توانائی اور دیگر منصوبے شامل ہیں، ہم ہائی ویز، ریل روڈز کو جدید بنا رہے ہیں، پاور پلانٹس، بندر گاہ اور خصوصی اقتصادی زونز بنا رہے ہیں، گوادر بندرگاہ چینی کمپنیوں کیلیے لاگت کم کرے گی، نئی بندرگاہ خطے اور براعظموں کو ملائے گی، گوادر بندرگاہ سنکیانگ سے چینی اشیا کی ترسیل کیلئے مختصر راستہ ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے ہم چین کے شراکت دار ہیں، اقتصادی راہداری ہماری خوشحالی کا منصوبہ ہے، روابط چین پاکستان اقتصادی راہداری کا خاصہ ہیں، افرادی قوت کی تربیت کیلیے پروگرام ترتیب دیے جائیں، خطے کی خوشحالی سے مسائل کا حل ممکن ہو سکے گا۔دوسری جانب گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ ہمیں اپنی سرحدوں کو تجارت کے لیے کھولنا ہوگا، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ترقی کے لیے مزید کام کرنا ہوگا، ہم مشترکہ جدوجہدسے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بناسکتے ہیں۔صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ عوامی سطح پررابطوں کو فروغ دینا ہوگا، پوری دنیا میں معیشت کو بڑے چیلنجز درپیش ہیں، ہمیں اقوام متحدہ کے 2030کے ایجنڈے پر مل کر کام کرنا ہوگا، ماحولیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔دریں اثنا ہفتہ کو یہاں وزیراعظم عمران خان نے چین کے نائب صدر وانگ چی شان سے ملاقات کی جس میں پاک چین تعلقات سمیت مختلف امور زیر غور آئے۔ملاقات میں پاکستانی وفد بھی موجود  تھا۔ نائب صدر وانگ  چی شان نے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کے اعزاز میں چینی صدر شی جن پنگ کی طرف سے ضیافت کا اہتمام کیا۔جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے ایتھوپیا کے اپنے ہم منصب سے دوسری بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے موقع پر ملاقات کی جس میں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور انہیں مزید مستحکم بنانے کا خواہش مند ہے۔وزیراعظم نے تجویز دی کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، تجارتی، کمرشل اور عوامی سطح پر رابطو ں کو مزید مستحکم بنایا جائے۔ دونوں اطراف میں اعلیٰ سطح پر باقاعدگی کے ساتھ رابطوں پر اتفاق کیا گیا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاکستان کی شرکت پر روشنی ڈالتے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان افریقہ میں امن اور سلامتی کے مشن کے لئے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔  

گول میز کانفرنس

مزید :

صفحہ اول -