دھاندلی کی وجہ سے لکس سٹائل ایوارڈز اپنی اہمیت کھونے لگے

دھاندلی کی وجہ سے لکس سٹائل ایوارڈز اپنی اہمیت کھونے لگے

لاہور(فلم رپورٹر)لکس سٹائل ایوارڈز اپنی اہمیت کھوتے جا رہے ہیں شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ یہ ایوارڈز زیادہ ترسفارش کی بنیاد پر دیئے جاتے ہیں۔رواں برس 30 مارچ کو لکس ایوارڈز کی جانب سے نامزدگیوں کے اعلان کے فوری بعد ہی اس پر تنقید شروع ہوگئی تھی۔ابتدائی طور پر اداکار محسن عباس حیدر، موسیقار شانی ارشد اور پروڈیوسر عبداللہ سیجا سمیت دیگر شخصیات نے 18 ویں ایوارڈز کی نامزدگیوں میں کچھ شخصیات کو نظر انداز کرنے پر جیوری کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔سکیچز کے مطابق وہ می ٹو مہم کی حمایت کرتے ہیں اور ماڈل ایمان سلیمان اور میک اپ آرٹسٹ صائمہ بارگفریڈ کے بعد وہ بھی دستبرداری کا اعلان کرتے ہیں۔فاطمہ ناصر نے بھی دستبرداری کا اعلان کیااسی طرح ایک اور میک اپ آرٹسٹ فاطمہ ناصر نے بھی خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کا سامنے کرنے والے شخص کو ایوارڈ کے لئے نامزد کرنے پر اپنی نامزدگی سے دستبرداری کا اعلان کیا۔دیگر شخصیات کی طرح پروڈیوسر جامی نے بھی لکس ایوارڈز میں اپنی نامزدگی سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔جامی کے مطابق وہ خواتین کا احترام کرتے ہوئے اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے نامزدگی سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ان کے بعد ماڈل رباب علی نے بھی لکس ایوارڈز کی نامزدگی سے دستبرداری کا اعلان کیا۔انہوں نے نامزدگی سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے شوبز میں خواتین کے ساتھ نامناسب رویوں اور انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے حوالے سے بھی بات کی۔متعدد شوبز، میوزک و فیشن شخصیات کی جانب سے نامزدگیوں سے دستبرداری کے اعلان کے بعد فیشن ڈیزائنر اور لکس ایوارڈز کے ساتھ کام کرنے والی ڈائریکٹر فریحہ الطاف نے بھی اس حوالے سے اہم بیان جاری کیا۔

فریحہ الطاف نے ٹویٹ کیا کہ ان شخصیات کی جانب سے دستبرداری کے بجائے اس شخص کو دستبردار ہونا چاہیے تھا جن پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہے۔فریحہ الطاف نے ساتھ ہی کہا کہ وہ اس سال بھی لکس ایوارڈز کے ساتھ کام کریں گی کیوں کہ وہ چاہتی ہیں کہ وہ اپنے کام اور مہم کے ذریعے کام کی جگہوں پر ہراساں کیے جانے کے عمل کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں بھی‘ مہم جو گزشتہ برس سے لکس ایوارڈز شو کا حصہ ہے اس کے ذریعے خواتین کو کام کی جگہوں پر ہراساں کرنے سے متعلق شعور بیدار کرنے کی مہم ہے۔شخصیات کی جانب سے نامزدگیوں سے دستبرداری کے اعلان کے بعد لکس ایوارڈز انتطامیہ کی جانب سے بھی وضاحتی بیان جاری کیا گیا۔لکس ایوارڈز انتظامیہ نے اپنے وضاحتی بیان میں تمام ایوارڈز نامزدگیوں کا دفاع کیا، تاہم ساتھ ہی انتطامیہ نے جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین سے اظہار ہمدردی بھی کیا۔لکس ایوارڈ انتظامیہ نے وضاحت کی کہ ایوارڈز کی نامزدگیاں ایک خود مختار جیوری کرتی ہے، جس سے ایوارڈ انتظامیہ اور ایوارڈ کی فنڈنگ کرنے والے ادارے کا کوئی تعلق نہیں۔ساتھ ہی کسی کیس کا حوالہ یا کسی شخص کا نام لئے بغیر بتایا گیا کہ لکس ایوارڈز انتظامیہ کو پاکستان کے قانونی نظام پر مکمل یقین ہے اور جب تک کسی کو قانونی طور پر مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ساتھ ہی انتظامیہ نے کہا کہ انہیں معاملے کی سنگینی کا بخوبی اندازہ ہے اور وہ اس معاملے پر لوگوں کے حساس جذبات کا بھی قدر کرتی ہے۔خیال رہے کہ لکس ایوارڈز نامزدگیوں کا اعلان رواں برس 30 مارچ کو کیا گیا تھا اور یہ ایوارڈز جولائی میں دیے جائیں گے۔اس بار مجموعی طور پر24 کیٹیگریز میں ایوارڈز دیے جائیں گے، جس میں 9 ایوارڈز کا فیصلہ لوگوں کے آن لائن ووٹ پر ہوگا۔علی ظفر نے گلوکارہ کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا تھااس سال کے ایونٹ میں کئی نئی کیٹیگریز کو شامل کیا گیا ہے جن میں بیسٹ فلم ایکٹر کریٹکس، بیسٹ فلم ایکٹریس کریٹکس، بیسٹ ٹی وی ایکٹر کریٹکس اور بیسٹ ٹی وی ایکٹریس کریٹکس قابل ذکر ہیں۔یہ نئے ایوارڈز ممکنہ طور پر کاکردگی کی بجائے مقبولیت کے باعث لکس اسٹائل ایوارڈز دیئے جانے پر ہونے والی تنقید کا نتیجہ ہوسکتے ہیں۔ٹی وی کیٹیگری میں بیسٹ ایمرجنگ ٹیلنٹ کو بھی پہلی بار اس ایونٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ایوارڈ کی نامزدگیوں سے قبل گلوکارہ میشا شفیع نے اداکار و گلوکار علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔علی ظفر نے میشا شفیع کے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا تھا جس کے بعد میشا شفیع نے بھی ان کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔دونوں کا مقدمہ سیشن کورٹ لاہور میں زیر سماعت ہے۔

مزید : کلچر