صدارتی نظام مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک کا شیرازہ بکھر جائے گا ،سراج الحق

صدارتی نظام مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک کا شیرازہ بکھر جائے گا ،سراج الحق

  

لاہور ( نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک پر صدارتی نظام مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک کا شیرازہ بکھر جائے گا ۔چاروں صوبوں اور مختلف قومیتوں کو اکٹھا رکھنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی ۔ جماعت اسلامی رمضان المبارک کے بعد ملک گیر رابطہ عوام مہم شروع کررہی ہے ۔ قوم کے پاس جماعت اسلامی کے علاوہ اب دوسرا کوئی آپشن نہیں ۔ موجودہ حکومت کے 9 ماہ ناکامیوں ، مایوسیوں اور محرومیوں کا مجموعہ ہیں۔ حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں نے کھل کھیلنے کا موقع دیا مگر حکومت میں موجودہر بارناکام رہنے والے وزراءایک بار پھر ناکام ہو گئے ہیں ۔ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ اور مشرف کے لوگو ں پر مشتمل پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف کسی کو احتجاج کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ، حکومت خود ہی گررہی ہے تو کسی کو میدان میں آنے کی کیا ضرورت ہے ۔ حکومت کے مہربان کب تک انگلی پکڑ کر اسے چلانے اور سہارا دینے کی کوشش کرتے رہیں گے ۔ مصنوعی سہاروں سے اقتدار میں آنے والوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتاہے ۔ وزیراعظم اور چیئرمین پیپلز پارٹی کو مشورہ دیتاہوں کہ ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور خواتین کی توہین کرنے کی بجائے غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف کوئی پلان دیں ۔ حکومت آئندہ بجٹ میں مدارس کے لیے فنڈز رکھے تاکہ 31 لاکھ دینی طلبا اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں اور حکومت کو بھی مدارس کے چندے کا کھوج لگانے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔ مدارس پر چھاپے بیرونی ایجنڈا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے منصورہ میں سیکرٹری جنرل امیر العظیم ، لیاقت بلوچ اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان دہشتگردی کے خلاف بنایا گیا تھا جسے حکومت میں موجود مغربی استعمار کے غلاموں نے دینی مدارس کی طرف موڑ دیا ہے ۔ موجودہ حکمرانوں کی موجودگی میں ریاست کے اسلامی تشخص ، نظریے اور جغرافیے کو بھی خطرہ ہے ۔ وزیراعظم نے دورہ ایران میں قومی مفادات کے خلاف بات کر کے ملکی مفاد کو نقصان پہنچایا ہے ۔ صدارتی نظام نے ایک بار پہلے ملک کو دو لخت کیا ہے ۔ ایوب خان ، جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف مکمل اختیارات کے ساتھ صدر رہے لیکن ملک کے مسائل حل نہیں انہوںنے کہاکہ عوام صدارتی نظام نہیں ، غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات چاہتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت کو نیو پیپلز پارٹی یا مشرف حکومت کا نیاایڈیشن کہا جاسکتاہے، جسے سابقہ حکومتوں کی ناکامیوں اور نااہلی سے اقتدار میں آنے کاموقع ملا ۔ انہوںنے کہاکہ اس حکومت کو شاباش دینی چاہیے کہ محض 9 ماہ بعدہی اس نے ثابت کردیاہے کہ وہ نااہل ہے ۔ سابقہ حکومتوں کی ناکامی کا پتہ پانچ سال حکومت کرنے کے بعد لگتا تھا۔ انہوںنے کہاکہ اس حکومت میں کوئی ایک آدھ نالائق نہیں ، بلکہ پورا” ٹبر “نااہل ہے اور آوے کا آوا ہی بگڑا ہواہے۔

سراج الحق 

مزید :

صفحہ آخر -