سندھ حکومت کیلئے کام کرنیوالے 19ٹھیکیدار بھی نیب کے شکنجے میں آگئے 

سندھ حکومت کیلئے کام کرنیوالے 19ٹھیکیدار بھی نیب کے شکنجے میں آگئے 

  

کراچی (این این آئی)سندھ حکومت کیلئے کام کرنے والے 19ٹھیکیدار بھی نیب کے شکنجے میں آگئے، صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اربوں روپے وصول کیے اور کمیشن کے طور پر جعلی بینک اکاؤنٹس میں بھاری رقوم جمع کرائی گئیں۔ نیب نے تحقیقات مکمل کرلیں جلد بڑی گرفتاریوں کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب کے تفتیش کاروں نے حکومت سندھ کے 19 ٹھیکیداروں کے خلاف ملنے والی دستاویزات کا فارنزک معائنہ اور ایک درجن سے زائد نجی بینکوں کے افسران کے بطور گواہ بیانات ریکارڈ کرلیے ہیں، جس سے نیب کو معلوم ہوا ہے کہ ٹھیکیداروں نے حکومت سے اربوں روپے کے ٹھیکے وصول کرکے ایک ارب 32کروڑ روپے کک بیک کے طور پر 23بینک ٹرانزیکشن کے ذریعے جعلی اکاؤنٹس میں منتقل کیے تھے۔جو اومنی گروپ نے وصول کیے تھے جبکہ ٹھیکے وصول کرنے کے باوجود ٹھیک طریقے سے کام ہی نہیں ہوا۔ سردار اشرف ڈی بلوچ، مدنی انجینئرنگ کے سی ای او، شیر محمد مغیری، رتن گل، ابراہیم خان کمپنی، طارق عزیز چنہ،  جہانزیب خان،حاجی شمس الدین،شاہ رخ انجینئرنگ،عزیر تحسین،حافظ ربنواز کمپنی،ہاریش اور گلوبل، ایم اے سی کمپنی، عبدالحکیم چاچڑ، خالد مسعود چنہ، کنٹریکٹر حاجی سولنگی، کنٹریکٹر منجھی کنسٹرکشن کمپنی اور وسیم بلڈرز نے جعلی اکاؤنٹ میں بھاری رقم منتقل کی۔

سندھ/ٹھیکیدار

مزید :

صفحہ اول -