ملکی و ملی بیماریوں کا علاج

ملکی و ملی بیماریوں کا علاج
ملکی و ملی بیماریوں کا علاج

  

علم ایک ایسا لازوال خزانہ ہے کہ جس کے استعمال کرنے سے وہ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہے۔ اور کبھی ختم نہیں ہوتا ایسے استعمال کرنے والا حقیقتاََ مالدار ہوتا ہے۔ جس کبھی کنگال نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ غیبی دولت ہے جو جس کے ہاتھ لگ جائے اسے دنیا و آخرت دونوں مین سرخرو کر دیتا ہے۔ یہ وہ انمول تحفہ ہے جو انسان کو حیوان کے مقابلے میں اشرف المخلوقات کے درجے پر پہنچاتا ہے۔علم ہمارا وفادار ساتھی ہے جبکہ جہالت سب سے بد ترین دشمن ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جاہل انسان تو ٹھیک سے خدا تعالیٰ کو بھی نہیں پہچان سکتا۔ علم والا جہان جاتا ہے عزت توقیر اس کا مقدر بنتی ہے جبکہ جاہل کے نصیب میں خواری کے سوا کچھ نہیں۔یہ علم ہی کی طاقت ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی عبادت،اطاعت اور فرمانبرداری نصیب ہوئی ہے اور علم ہی کی بدولت انسانیت کو معراج بخشا گیا ہے جب آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا گیا۔لیکن بد قسمتی سے ہماری معاشرتی کرپشن کے طفیل آج حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ کے مقابلے میں سفارشی،جعلی ڈگریوں اور رشوت کی پیداوار معاشرے میں مقام بنانے میں کامیاب ہو پائے ہیں۔جبکہ اپنے ذور بازو پر ڈگریوں کے حصول کو ممکن بنانے والے کا معاشرے میں کوئی مقام نہیں۔جس کی بدولت نالائق لوگ اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہو کر ملکی ترقی و استحکام میں آڑے آئے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر صرف نالائق لوگ ہی پہنچ پاتے ہیں۔اپنی قابلیت کے بل پر عہدہ اور مقام حاصل کرنے والے بھی کچھ موجود ہیں۔لیکن بدنصیب معاشرے میں ایسوں کو آگے کم ہی بڑھنے دیا جاتا ہے۔ان کی زندگی رکاوٹوں اور مشکلات کا مقابلہ کرتے ہی گزر جاتی ہے۔

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں نجی سکولوں کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جناب چیف جسٹس نے فرمایا کہ تعلیم اور صحت کبھی حکومتوں کی ترجیح نہیں رہے۔سرکار کی وجہ سے آج لوگ پریشان ہیں سرکار سے بہے کچھ پوچھنا ہے۔گلی محلّوں میں موجود سرکاری سکولوں کے اعدادو شمار چاہیے۔ان کا اب وہ معیار نہیں رہا۔ٹیچر گھروں میں بیٹھ کر تنخواہ لیتے ہیں۔جسٹس فیصل نے کہا کہ کئی سرکاری سکولوں میں اساتذہ ہی نہیں ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری سکولز کی حالت زار بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ایک وقت تھا کہ جب ہم سرکاری سکولز میں پڑھتے تھے۔تو ان دنوں سرکاری سکولز ہی کے طلباء و طالبات ٹاپ کرتے تھے۔ایسا آج کیوں؟یہ وہ وقت تھا جب اوہر حقیقی تعلیم یافتہ لوگ زیادہ تر آتے تھے اور ادارے بھی بہترین کام کرتے تھے۔پاکستان کی یہ حالت نہ تھی جیسا کہ آج ہے۔عوام کی اکثریت سرکاری سکولز کا رخ کرتی ہے۔اس کے لیے ان کی حالت درست کرنے کی ضرورت ہے ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے جب تمام آسائشوں سے محروم ایسے نوجوان جن کی آنکھیں خواب دیکھتیں ہیں خود کو اعلیٰ عہدوں کے لیے تیار کرتے ہیں۔علم حقیقت میں ان کے دل و دماغ کو روشن کرتا ہے۔تو ایسے لوگ ہی ملک و ملت کی تعمیر میں صحیحمیں ہم کردار ادا کر سکتے ہیں یہاں علم کی فضیلت پر ایک چھوٹا سا واقعہ ذہن میں آرہا ہے

ایک دفعہ خلیفہ ہارون الرشید گھوڑے پر سوار کہیں جا رہے تھے۔راستے میں ایک گوشہ نشین عالم مکرم ابو الحسن علی بن حمزہ سے ملاقات ہو گئی۔ہارون الرشید احتراماََ گھوڑے سے نیچے اتر گئے اور مصافحہ کرنے کے بعد ان سے دربار میں نہ آنے کی شکایت کی۔ انہوں نے جواب دیا کہ امیر المومنین مطالعہ میں اتنا مصروف رہتا ہوں کہ سر اٹھانے کی بھی فرصت نہیں ملتی۔ خلیفہ نے کہا کہ پھر اتنا علم کا کیا فائدہ؟ ابو الحسن نے جواب دیا! ایک دو فائدے ہوں تو گنواؤں لیکن اس کا یہی فائدہ کیا کم ہے کہ اس کی بدولت امیر المومنین گھوڑے سے اتر کر باادب مصافحہ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔نا ہی آج ایسے علم والے ہین جن کی رگوں میں علم سرائیت کر چکا ہو اور نا ہی آج ایسے حکمران علمِ والوں کی دل سے قدر کرنے والے کہیں نظر آتے ہیں۔ اگر ہین بھی تو منظر سے دور بہت کم۔ آج ملک وملت کے مسائل کے حل کیلئے ایسے لوگوں کی ہی ضرورت ہے۔ آج اگر ہر انسان اپنی ذات کا خود محاسبہ کر کے یہ سوچیئے کہ زندگی میں اسے کوئی مقام حاصل کر کے ملک و ملت کے کسی کام آنا ہے تو اسے تین چیزوں سے استعفادہ حاصل کرنا ہو گا

1۔علم

2۔سچائی کا دامن تھامنا ہو گا۔

3۔دیانت

جس نے ان تینوں کو اپنے اندر سمو لیا بلندی اسکا مقدر بنے گی۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ پھر آج کے ترقی یافتہ دور میں انسان علم کا دامن چھوڑ کر ادھر ُادھر کیوں ڈاما ڈول پھر رہا ہے۔یہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ جہاں آخرت کی بھلائی جنت ہے۔تو دنیا کی ترقی کا راز علم ہے۔علم کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔یہ ملک ملت کے امراض کی دوا ہے اور ملک و ملت کے امراض کا علاج علم ہی کی بدولت ہے۔

مزید : رائے /کالم