چینی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی،پاکستان اورچین میں آزادتجارتی معاہدہ دوئم طے پاگیا

چینی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی،پاکستان اورچین میں آزادتجارتی معاہدہ دوئم طے ...
چینی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی،پاکستان اورچین میں آزادتجارتی معاہدہ دوئم طے پاگیا

  

بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان اورچین میں آزادتجارتی معاہدہ دوئم طے پاگیاہے پاک چین حکام نے معاہدے پردستخط کردیئے ۔حکام وزارت تجارت کے مطابق پاکستان کوآسیان ممالک کی طرزپررعایت میسرہوگی،پاکستان کو313مصنوعات کی برآمدپرڈیوٹی فری رسائی ملے گی،جس سے پاکستان کی90فیصدبرآمدات کی چین کوڈیوٹی فری رسائی ممکن ہوپائے گی، سی پیک میں توسیع ، 2معاہدے، 16سمجھوتے، پشاور سے کراچی ریلوے لائن ڈبل کی جائیگی، ایم ایل ون منصوبہ 5سال میں مکمل ہوگا ،ڈیوٹی فری میں ٹیکسٹائل ، کیمیکل، انجینئرنگ، فوڈ آئٹمز، فٹ ویئر، پلاسٹک کی مصنوعات شامل، برآمدات ساڑھے 6ارب ڈالرز بڑھنے کی توقع ،چینی ٹیکنالوجی پاکستان میں منتقل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ، حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اورچین نے75فیصد ٹیرف لائنز کی ڈیوٹی فری رسائی پراتفاق کرلیاہے،پاکستان کی چین کیلئے برآمدات5سال میں ساڑھے6ارب ڈالرزبڑھنے کی توقع ہے،حکام وزارت تجارت نے کہا کہ ڈیوٹی کی چھوٹ صرف ٹیکسٹائل مصنوعات تک محدود نہیں ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق  اتوارکو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی جس میں پا کستا ن کے وزیر اعظم عمران خان اور ان کے چینی ہم منصب لی کی چیانگ بھی شریک ہوئے، تقریب کے دور ان ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کیلئے ابتدائی ڈیزائن کے فیز I کی تکمیل کے اعلامیہ ، سی پیک کے تحت حویلیاں ڈرائی پورٹ کے قیام، چین کے جیالوجیکل سروے ،چین کی وزارت قدرتی وسائل انسٹیٹیوٹ آف اوشنیو گرافی اور وزارت سائنس اینڈٹیکنالوجی کے درمیان میرین سائنسز کے شعبہ میں تعاون کے لئے مفاہمت کی یادداشت، سی آئی ڈی سی اے اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی واصلاحات کے درمیان سی پیک کے مشترکہ ورکنگ گروپ کے تحت سماجی و اقتصادی ترقی کے منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے مفاہمت پر یادداشت کیلئے چین پاکستان اقتصادی و تکنیکی تعاون کے معاہدے، رشکئی ایس ای زیڈ جوائنٹ وینچر اور کے پی ای زیڈ ایم ڈی سی اور سی آر بی سی کے درمیان لائسنس کے معاہدہ پر دستخط کئے گئے۔

چین میں موجود وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے معاہدے کے حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آزادنہ تجار تی معاہدے سے پاکستان کے لیے تجارت کے درواز ے کھل گئے، معاہدے کے بعد پاکستان کو آسیان ممالک کی طرز پر رعایت میسر ہوگی اور پاکستان کی 90 فیصد برآمدات کی چین کو ڈیوٹی فری رسائی ممکن ہوپائے گی۔مشیر تجارت نے کہا کہ پاکستان اور چین نے 75 فیصد ٹیرف لائنز کی ڈیوٹی فری رسائی پر اتفاق کیا ہے، پاکستان کی چین کے لیے برآمدات 5 سال میں ساڑھے 6 ارب ڈالرز بڑھنے کی توقع ہے۔مشیر تجارت نے بتایا کہ ڈیوٹی کی چھوٹ صرف ٹیکسٹائل مصنوعات تک محدود نہیں بلکہ کیمیکل، انجینئرنگ، فوڈ آئٹمز، فٹ وئیر، پلاسٹک کی مصنوعات کی برآمد بھی ڈیوٹی فری ہوں گی۔حکام وزارت تجارت نے کہا کہ آزاد تجارتی معاہدے میں مقامی صنعت کو تحفظ دیا گیا ہے جب کہ چین کی 1700 مصنوعات کو حساس لسٹ میں رکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ڈیوٹی فری رسائی دینے والی اشیاء کی چین میں سالانہ درآمد 40 ارب ڈالرز ہے،مشیرتجارت مزید عبدالرزاق داﺅد نے کہا کہ پاک چین تجارتی معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں، پاک چین بزنس فورم میں400چینی صنعت کاروں نے شرکت کی،اتنے سرمایہ کاروں کی شرکت پر میں خود حیران ہوگیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان چین نے 16 باہمی مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کیے، باہمی مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ٹیکسٹائل تک محدود نہیں،آئی ٹی، ریلوے، کیمیکل اوراقتصادی زون کے قیام کے ایم او یو پردستخط ہوئے،انہوں نے کہا کہ آزادنہ تجارتی معاہدے میں پاکستان کوآسیان ممالک کے برابرمراعات دی گئی ہیں۔

 حکام کا کہنا ہے کہ کیمیکل،انجینئرنگ، فوڈ آئٹمز کی چین کو برآمد ڈیوٹی فری ہوگی،اس کے علاوہ فٹ وئیر،پلاسٹک کی مصنوعات کی برآمدبھی ڈیوٹی فری ہو ں گی، حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مقامی صنعتوں کو مکمل تحفظ حاصل ہوگا، آزاد تجارتی معاہدے میں مقامی صنعت کو تحفظ دیا گیا ہے۔حکام وزارت تجارت نے کہا کہ چین کی1700مصنوعات کوحساس لسٹ میں رکھاگیاہے،پاکستان کو ڈیوٹی فری رسائی دینے والی اشیاءکی چین میں سالانہ درآمد 40 ارب ڈالرزہے۔

 وزیراعظم عمران خان  نے توقع ظاہر کی کہ خصوصی اقتصادی زونز میں چینی سرمایہ کاری سے پاکستان کی صنعتی بنیادوں کو وسعت دینے اور اس کی برآمدات میں اضافے کے لئے معاونت ملے گی۔وزیر اعظم نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے سی پیک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس کی ترقی کے نئے شعبوں تک توسیع پر اطمینان کااظہار کیا۔ نومبر 2018ء میں چین کے پہلے دورے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے باہمی تعاون کے فروغ میں مدد ملی ہے۔ نومبر 2018ء میں وزیر اعظم کے گزشتہ دورہ چین تک دو طرفہ تعاون میں اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے سی پیک کے منصوبوں کے مثبت اثرات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ چین پاکستان آزادانہ تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کی تکمیل سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور اقتصادی رابطوں کومزید فروغ ملے گا۔ دونوں رہنمائوں نے سیاسی، سلامتی، معیشت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا ۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں کے موجودہ حالیہ رفتار کو بھی برقراررکھنے پر اتفاق کیاگیا۔ دونوں رہنمائوں نے جنوبی ایشیاء میں امن واستحکام اور افغانستان میں امن کوششوں سمیت علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنمائوں نے باہمی رابطوں کے لئے اپنی کوششوں پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے چین پاکستان آزادانہ تجارت کے دوسرے مرحلے کے دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔

قبل ازیں پاکستان اور چین کے درمیان ایم ایل ون (پشاور۔کراچی) ریل ٹریک کی اپ گریڈیشن کا معاہدہ طے پا گیا، معاہدے پر پاکستان کی طرف سے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد جبکہ چین کی طرف سے پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جِنگ نے ڈیکلیریشن برائے پریلمنری ڈیزائین منصوبہ فیز ون پشاور۔کراچی پر دستخط کئے۔ وزیر اعظم عمران خان اور چین کے وزیر اعظم لی کی چیانگ معاہدے پر دستخط کی تقریب موجود تھے۔ پشاور۔کراچی ایم ایل ون منصوبہ اگلے پانچ سال میں مکمل ہوگا جس کے تحت پشاور اور کراچی کے درمیان 1872 کلو میٹر لمبے ٹریک کو اپ گریڈ کیا جائیگا۔ ریل ٹریل کی فینسگ سمیت پْل اور کراسنگز بھی بنائی جائیں گی۔ اس منصوبے کی تکمیل سے ٹرین کی اوسط سپیڈ 120 سے 160 کلو میٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔ ابھی یہ سپیڈ اوسطاً 60 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ مسافر ٹرین راولپنڈی سے کراچی ریلوے اسٹیشن 10 گھنٹوں میں پہنچے گی۔ اس وقت تیز ترین راولپنڈی اور کراچی کے درمیان گرین لائین ہے جو 22 گھنٹوں میں پہنچتی ہے۔ راولپنڈی سے ٹرین صرف اڑھائی گھنٹے میں لاہور پہنچے گی۔ ایم ایل ون منصوبے سے ٹرینوں کی تعداد دوگنی ہو جائیگی۔ فریٹ شئیر 20 فیصد ہو جائیگا جو آج صرف 4 فیصد سے بھی کم ہے۔ پاکستان کی معاشی صورت حال اور دیگر منصوبوں پر ایلوکیشن کی وجہ سے حکومت نے ایم ایل ون منصوبے کو مرحلہ وار 3 فیز میں مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ حالیہ معاہدہ اس سلسلہ میں پہلے فیز کے لئے ہے۔ مکمل منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 8.2 ارب امریکی ڈالر ہے جسے 3 فیز میں مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی حتمی لاگت جون سے پہلے طے کر لی جائیگی تاکہ آئندہ بجٹ میں فیز ون کے لئے رقم مختص کر لی جائے۔ حالیہ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں 52 کلومیٹر لمبے کلو وال۔ پنڈورہ سیکشن کوسیدھا کیا جائے گا۔ اس سیکشن پر دوسری لائین بھی بچھائی جائیگی۔ 183 کلو میٹر لمبے نوابشاہ۔روہڑی سیکشن کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ لاہور اور ملتان سیکشن میں ٹریک کو اپ گریڈ کرکے سپیڈ کو 120 کلو میٹر فی گھنٹہ لایا جائے گا۔ راولپنڈی۔پشاور کے درمیان ایک 160 کلو میٹر سیکشن کو اپ گریڈ کیا جائے گا اور دوسری ریل لائین بچھائی جائے گی۔ والٹن ریلوے اکیڈمی کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ پاکستان ریلوے گوادر، کوئٹہ ، تفتان ایم ایل تھری اور ایم ایل ٹو کے ٹینڈر پہلے ہی جاری کر چکا ہے۔ یہ منصوبے بِلڈ، آپریٹ اور ٹرانسفر فارمولے پر تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ صرف ایم ایل ون منصوبے سے 20 ہزار ڈائریکٹ اور ڈیڑھ لاکھ ان ڈائریکٹ نوکریاں دستیاب ہوںگی۔ دوسر ی جانب وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاک چین راہداری شراکت داری میں بدل چکی،چینی سرمایہ کا ر آ کر دیکھیں آج کے پاکستان میں سرمایہ کاری جتنی آسان ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔

مزید :

اہم خبریں -علاقائی -اسلام آباد -قومی -