نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی”احتساب سب کےلئے“ کی کامیاب پالیسی

نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی”احتساب سب کےلئے“ کی کامیاب پالیسی
نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی”احتساب سب کےلئے“ کی کامیاب پالیسی

  

تحریر: بشری خان

بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے جس کا خاتمہ پوری قوم کی آواز ہے۔ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میںنیب مکمل شفافیت،میرٹ او قانون کے مطابق عمل کرتے ہوئے ملک بھر سے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لئے پرعزم ہے۔ بدعنوانی کا خاتمہ اور میگاکرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔نیب کو یقین ہے کہ بدعنوانی کینسر جیسی خاموش قاتل ہے جو کہ ملکی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے اس مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے نیب نے ملک بھر سے بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرانے کے لئے اپنی کوششوںکو دوگنا کر دےا ہے۔

چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ نیب کی آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی سہ جہتی حکمت عملی کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں۔معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں جیسے ٹرانسرپرنسی انٹر نیشنل پلڈاٹ، مشال پاکستان اور عالمی اقتصادی فورم کی حالیہ رپورٹس نیب کی بدعنوانی کے خاتمہ کےلئے کاوشوں کو سراہتی ہیں اس کے علاوہ گیلپ اینڈ گیلانی سروے کے مطابق نیب کی بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز اقدامات کے باعث 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔ نیب خود احتسابی، شفافیت، میرٹ اور قانون کی عملداری پر مکمل یقین رکھتا ہے۔ نیب کے چئیرمین کی ہدایت پر کرپشن سے متعلق شکایات کے اندراج کے لئے شہریوں کے لئے نیب ہیڈ کوارٹرز اور تما م علاقائی بیوروز کے دروازے کھول دیئے ہیں۔چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال ہر مہینے کی آخری جمعرات کو نہ صرف شہریوں کی شکایات خود سنتے ہیں بلکہ انہوں نے ذاتی شنوائی کے دوران قانون کے مطابق تین ہزار شکایات کو نمٹایا ہے۔ ملک بھر سے آئے ہوئے شکاےات کنندگان اپنی شکاےات کے ازالہ کے بعد چئیرمین نیب کا نہ صرف شکرےہ ادا کرتے ہیں بلکہ ان کا نیب پر بھی اعتماد بڑھا ہے۔

گزشتہ سال نیب کو 44315 شکایات موصول ہوئی ہیں جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا ہیں۔ نیب کی قانون پر عمل درامد کی پالیسی کے تحت بلا تفریق احتساب کی بنےاد پرنیب کی موجودہ قیادت کے دور میں600 ملزموں کو گرفتا ر کےا گےا ہے جبکہ نیب نے متعلقہ احتساب عدالتوں میں 590 بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے ہیں جو کہ گزشتہ پانچ سال کے مقابلے میں نیب کی شاندار کارکردگی ہے۔ بلکہ نیب کی موجودہ قیادت کے دور میں چارہزار تین سو ملین روپے بدعنوان عناصر سے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے ہیں۔اس کے علاوہ نیب نے اپنے قےا م سے ابتک 303 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں اور احتساب عدالتوں میں نیب کے مقدمات میں سزا کی مجموعی شرح 70 فیصد ہے ۔ نیب کی جانب سے وصول کی گئی تمام رقوم ہزاروں متاثرین، متعلقہ سرکاری اداروں اور دیگر کو واپس کی گئی ہیں۔ تاہم اس رقم میں سے نیب کے کسی ملازم نے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا کیونکہ نیب افسران بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔

نیب نہ کسی پولیٹیکل انجئیرنگ پر ےقین رکھتا ہے اور نہ ہی نیب کے حوالات عقوبت خانے ہیں۔ نیب کے خلاف ایک جارہانہ مہم جاری ہے جس کا مقصد نیب کی ساکھ کو متاثر کر نا دکھائی دیتا ہے۔ نیب نے پہلے معززصحافےوں کونیب کے حوالات کا دورہ کراےا تھا اور اب نیب نے انسانی حقوق کمیشن کو بھی دورہ کرنے کی دعوت دی ہے کےونکہ نیب ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دینے پر ےقین رکھتا ہے۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے تقریباََ پچاس اجلاس ہوئے ہیں جس میں مختلف شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں، انویسٹی گیشن اور احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی جاتی ہے۔نیب کی موجودہ انتظامیہ نے نیب ہیڈکوارٹرز اور تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی میں مزید بہتری کیلئے جامع، معیاری مقداری نظام وضع کیا ہے۔اس نظام کے تحت گزشتہ تین سال کے دوران نیب ہیڈکوارٹر اور تمام علاقائی بیوروز کا سالانہ اور وسط مدتی بنیادوں پر یکساں طریقہ کار کے تحت کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ نظام کامیاب رہا ہے اور باقاعدہ مانیٹرنگ اور انسپکشن سے نیب کے علاقائی بیوروز میں روزبروز بہتری آ رہی ہے۔ نیب نے اسلام آباد میں سارک سیمینار کا اہتمام کیا جس میں بھارت سمیت سارک کے تمام رکن ممالک نے شرکت کی اور بدعنوانی کے خاتمے کے لئے نیب کی انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی کی تعریف کی۔ نیب کی آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی موثر اینٹی کرپشن حکمت عملی کے تحت پاکستان سارک ممالک کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج نیب سارک ممالک کے اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے جو کہ نیب کی کوششوں سے پاکستان کی اہم کامیابی ہے۔

نیب نے جدید مانیٹرنگ اینڈ ایوالوایشن سسٹم کا نظام وضع کیا ہے جو کہ نیب کی کارکردگی کو مذید موثر بنانے کے لئے نیب ہیڈکوارٹر اور علاقائی بیوروز میں متعارف کرایا گیا ہے جس سے نیب ہیڈکوارٹرز میں آپریشنل مانیٹرنگ اور استعدادکار کے جائزے او ر اسے مذید بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔ اس موثر نظام کا مقصد ہر شکایات کے اندراج، شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری، انوسیٹی گیشن، پراسیکیوشن،علاقائی بورڈ اجلاسوں اور ایگزیکٹو بورڈ اجلاسوں سمیت کیس سے متعلق تفصیلات اور فیصلوں کاہرمرحلے پر ڈیٹا محفوظ رکھنا نمایاں خصوصیات میں شامل ہے۔یہ نظام معیاری اور مقداری پہلو سے بھی ڈیٹا کے تجزیے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس نظام میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جاتی ہے۔ نیب کے ملک بھر کی مختلف احتساب عدالتوں میں 1210 بدعنوانی کے ریفرنسز زیرسماعت ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 900 ارب روپے بنتی ہے۔

نیب نے دوطرفہ تعاون کے تحت چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں جس کا مقصد چین کے ساتھ انسداد بدعنوانی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے علاوہ سی پیک کے منصوبوں کے تناظر میں اس تعاون سے پاکستان میں شروع کئے گئے منصوبوں کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمےان انسداد بدعنوانی کے شعبہ میں تعاون میں اضافہ ہو گا۔ نیب راولپنڈی میں جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک ، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹس کے تجزیے کی سہولت موجود ہے۔ نیب نے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لئے شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائری، انوسٹی گیشن اور متعلقہ احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ دس ماہ کا وقت مقرر کیا ہے۔

نیب نے سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش اور تجربات سے استفادہ کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی شخص نیب کی تحقیقات پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔ بدعنوانی کا خاتمہ پوری قوم کی آواز بن چکا ہے اور نیب چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی دانشمندانہ قیادت میںنیب ہر شخص کی عزت نفس پر ےقین رکھتا ہے کیونکہ نیب کی پہلی اور آخری وابستگی صرف رےاست پاکستان سے ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقوں سے حاصل ہونے والی آراءاور نیب کے ہر شعبہ کے افسران کی محنت کے باعث پاکستانی عوام چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی ولولہ انگیز قیادت میں بدعنوانی کے خاتمے کے لئے نیب کے کئے گئے اقدامات کو سراہتے ہیں۔بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے جس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ نیب کو یقین ہے کہ معاشرے کے تمام شعبوں کی اجتماعی کوششوں سے بدعنوانی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -