صرف زبانیں ہی نہیں پورا نظام ہی پھسلن کا شکار ،موجود طرز حکمرانی پارلیمانی نہیں صدارتی ہے:پروفیسر ساجد میر

 صرف زبانیں ہی نہیں پورا نظام ہی پھسلن کا شکار ،موجود طرز حکمرانی پارلیمانی ...
 صرف زبانیں ہی نہیں پورا نظام ہی پھسلن کا شکار ،موجود طرز حکمرانی پارلیمانی نہیں صدارتی ہے:پروفیسر ساجد میر

  

 لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ صرف زبانیں ہی نہیں پورا نظام ہی پھسلن کا شکار ہے،کرپشن اور نیب کے کارڈ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے،ایجنڈا کوئی اور ہے،موجود طرز حکمرانی پارلیمانی نہیں صدارتی ہے،20 کے قریب مشیروں اور معاونین خصوصی کا مطلب ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس منتخب لوگ نااہل ہیں،دینی قوتیں انتشار کی وجہ سے ناکام ہیں،ایم ایم اے کو اقتدار کے حصول کے لیے حسب ضرورت استعمال کیا جاتا ہے  جبکہ ہم اسے دینی اقدار کے تحفظ کے لیے مستقل فورم بنانا چاہتے ہیں ۔

اس امر کا اظہار انہوں نے مرکز اہل حدیث راوی روڈ میں پارٹی کی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں حاجی عبدالرزاق، مولانا نعیم بٹ، رانا شفیق خاں پسروری، علامہ ابتسام الہی ظہیر،علامہ ریاض الرحمن یزدانی، رانا خلیق خاں پسروری، حافظ معتصم الہی ظہیر، مولانا عبدالرشید حجازی، مولانا محمد سلیمان،علامہ خالد محمود ندیم ،حافظ عبدالستار حامد، ڈاکٹر عبدالغفور ر راشد، مولانا سعید کلیروری،مولانا صادق عتیق، مولانا یٰسین راہی ودیگر نے شرکت کی۔ پروفیسر ساجد میر نے دینی مدارس اور دینی اداروں کے ساتھ حکومتی اداروں کے رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایک عالمی دباؤ کے تحت حکومت دینی مدارس اور دینی جماعتوں کو اکاؤنٹس کی تفصیلات کی آڑ میں تنگ کر رہی ہے،ہم سے ایف آئی اے نے جو معلومات مانگیں وہ ہم نے جمع کرا دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانا چاہتی ہے دوسری طرف ان کے ذرائع آمدن کے پیچھے بھی پڑی ہوئی ہے،دینی مدارس سب سے بڑی این جی او ہے جو سوسائٹی کے 25لاکھ طلبہ کی کفالت کر رہی ہے، انہیں تعلیم‘ کھانا اور مفت رہائش فراہم کی جاتی ہے،دینی مدارس زیادہ تر عوام کے چندے سے چلتے ہیں،حکومت اور اداروں کو دینی مدارس کا شکر گزار ہو نا چاہیے کہ ریاست کا بوجھ انہوں نے اٹھا رکھا ہے۔

اجلاس میں رمضان المبارک کو بھر پور انداز میں گذارنے کی منصوبہ بندی کی گئی جس کے تحت دعوتی، رفاہی اور خیراتی سرگرمیاں تیز کی جائیں گی اور سحری وافطاری کے مواقعوں پر دروس کے ذریعے لوگوں کی فطری واخلاقی تربیت کی جائے گی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور