شہری خود کو محدود کرکے دوسروں کو محفوظ بنا سکتے ہیں

شہری خود کو محدود کرکے دوسروں کو محفوظ بنا سکتے ہیں

  

کرونا کے باعث لاہور کے مزید 10علاقے سیل

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے چیلنج کا مقابلہ کرنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملہ حفاظتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے کورونا میں مبتلا ہونے کے خطرے سے دوچار ہے، وہیں ملک بھر کے لاکھوں فرنٹ لائن پر کام کر نے والے پولیس اہلکار بھی اس خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔لاہور میں بھی کرونا کی وجہ سے کئی علاقے مکمل بند کر دئیے گئے۔ جن میں رائے ونڈ، سکندریہ کالونی اور مکھن پورہ پہلے سے ہی مکمل بند تھے۔ان علاقوں میں 66 افراد کو کرونا وائرس تشخیص ہوااب دس مزید علاقوں کو سیل کر دیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے یہ فیصلہ کرونا کے مشتبہ اورتصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد کیا۔ سیل کئے گئے علاقوں میں بیگم کوٹ شاہدرہ، رستم پاک گلشن راوی، مغل پورہ، ریلوے کالونی، ملتان روڈ کی ایک سوسائٹی، رحمان پورہ وحدت کالونی، چائنہ سکیم گجرپورہ، سمال انڈسٹریز ہاؤسنگ سوسائٹی اور ڈیفنس بی کے علاقے شامل ہیں۔وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں 66 افراد کو کرونا وائرس تشخیص ہوا ہے۔ لاہور میں ابھی تک کرونا کے 402 تصدیق شدہ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کا کہنا ہے کہ کرونا کیسز سامنے آنے کے بعد ان علاقوں کو سیل کیا گیا۔شہر بھرمیں سیل کئے گئے علاقوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔ واضح رہے کرونا سے ملک بھر میں اموات کی تعداد 86 جبکہ متاثرین کی تعداد 5 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ لاہور کے علاقے سمن آباد کی کچی آبادی کا ایک رہائشی امجد اپنے علاقے کے 39 لوگوں کو کورونا وائرس منتقل کرنے کا سبب بنا ہے۔اب تک اس علاقے سے کورونا وائرس کے 39 مصدقہ کیس سامنے آ چکے ہیں جبکہ 150 سے زائد افراد کو شبے کی بنیاد پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔گذشتہ ہفتے لاہور شہر میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسسز کے پیش نظر شہر کے متعدد علاقوں کو ’ریڈ زون‘ قرار دینے کے بعد سیل کیا گیا ہے۔ ان میں سمن آباد کا وہ علاقہ بھی شامل ہے جہاں امجدرہائش پزیر ہے۔حکام کے مطابق لاہور میں کورونا وائرس کے کیسز میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے بعد لاہور کے کئی علاقوں کو مکمل یا جزوی طور پر سیل کردیا گیا جبکہ رائیونڈ سٹی کو مکمل سیل کیا گیا ہے۔چاہ میراں شادباغ، سمال انڈسٹریز سوسائٹیز ڈیفنس کو سیل کیا گیا ہے جبکہ رستم پارک بحریہ ٹاون اور ریلویز کالونی کے انجن شیڈ ایریا کو جزوی طور پر سیل کیا گیا ہے۔صدر کے علاقے کو بھی جزوی سیل کیا گیا ہے۔ ایک روز قبل ہی لاہور کے علاقے شادباغ میں ایک ہی گھر کے سات افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے پر محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے انھیں قرنطینہ منتقل کر دیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ فیملی نے نجی لیب سے ٹیسٹ کروائے تھے، کورونا کا شکار ہونے والے مریضوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔اس طرح لاہور میں کورونا مریضوں کی تعداد 582 ہو گئی، ایکسپو سینٹر میں 209، میو ہسپتال میں 118، پی کے ایل آئی میں 23 کنفرم مریض زیرعلاج ہیں، سروسز میں 13، چلڈرن ہسپتال میں 6، جنرل میں 3، جناح ہسپتال میں 5 مریض زیر نگرانی ہیں۔گورنمنٹ مزنگ ہسپتال میں 7 مریض زیر علاج، صوبہ بھر میں 91نئے کیس آنے پر تعداد 3ہزار 504تک جا پہنچی۔701 زائرین سنٹرز، 1374 رائے ونڈ سے منسلک افراد، 91 قیدیوں، 1338 عام شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ گوجرانوالہ 63، سیالکوٹ 56، نارووال 8، گجرات میں 149 شہریوں میں تصدیق ہو چکی ہے۔ملک بھرمیں کورونا کے کیسزکی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔پنجاب کورونا سب سے زیادہ مریض ہر روز سامنے آرہے ہیں دوسری جانب پنجاب میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے جاری لاک ڈاون میں نرمی کے باعث شاہراہوں اور بازاروں میں عوام کا رش بڑھ گیا ہے۔حکومتی اقدامات کے حوالے سے لوگوں کا کہنا ہے کہ جلد اس وباء پر قابو پا لیا جائے گا۔پنجاب بھر میں کوروناکے تدارک کیلئے جاری لاک ڈاون آج 29 ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ صوبے بھر میں مارکیٹس، پارکس اور سکول بند ہیں جبکہ حکومت نے لوگوں کی پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے کھانے پینے کے کاروبار سمیت دیگر کئی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دے رکھی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومتی انتظامات عوامی بھلائی کیلئے ہیں، جن پر سب لوگوں کو سختی سے عمل کرنا چاہیئے۔کورونا کی وباء پر قابو پانے اور عوام کو محفوظ بنانے کیلئے شاہراہوں پر جراثیم کش ٹنل بھی نصب کئے گئے ہیں جبکہ لاک ڈاون پر عمل درآمد کیلئے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اپنے فرائض سرانجام دیتے نظرآتے ہیں۔ تاہم موذی وائر س سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر نظر اندازکرکے لاہوریوں نے شہر میں دوبارہ سے سیر سپاٹا شروع کردیا ہے۔ موٹر سائیکلیوں پر سوار فیملیز کی بڑی تعداد سڑکوں پر گھومنے لگی ہے۔ گاڑی والوں کا بھی گھر میں ٹکنا محال ہوگیا۔شہر کی تمام اہم شاہراہوں اور چوک چوراہوں پر رش ہی رش دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ کینال روڈ پر ٹریفک کی روانی عام حالات کا منظر پیش کرنے لگی ہے۔شہریوں کی غیر سنجیدگی سے کورونا وائرس کا پھیلاو مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری محکمے کھولنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پنجاب حکومت کی ہدایت پر تمام محکموں کے سیکرٹریز اپنے اپنے دفاتر میں ڈیوٹی پر موجود ہوں گے اوراپنے عملے کے دیگر ملازمین کودفاترمیں بلانا یا نہ بلاناسیکرٹریزکی صوابدید پر ہوگا، سیکرٹریز کی مرضی ہوگی کہ کن کن ملازمین کو دفتر بلائیں اور کن کو گھر بیٹھ کر آن لائن کام کرنے کی ہدایت کریں۔آئی جی پولیس پنجاب کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطلب یہ نہیں کہ کورونا کا چیلنج ختم ہو گیا ہے۔حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی عوام کی زندگیوں میں آسانی کے لیے کی ہے، عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلوں پر سختی سے عمل کریں۔ ہم نے خود بھی بچنا ہے، دوسروں کو بھی بچانا ہے کیونکہ یہ جنگ عوام کی مدد اور تعاون کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ہمیں ذمہ دار شہری کا کردار ادا کرتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا چاہیے کیونکہ کورونا کا واحد علاج احتیاط اور پرہیز ہے۔ ڈی آئی جی لاہور رائے بابر سعیدکا کہنا ہے کہ عوام کو کورونا وائرس سے بچاؤ اور اسکی روک تھام کے لئے حکومتی سطح پر بھر پور حفاظتی اور احتیاطی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔دفعہ 144اور لاک ڈاؤن کا مقصد بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا اور عوام کو اس مہلک مرض سے بچانا ہے۔عوام حکومتی حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ اس مرض سے محفوظ رہا جا سکے۔انکا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح جہاں عوام کی صحت اور جان کا تحفظ ہے تو وہیں اس لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے متاثرین کی مالی مشکلات کا بھی خیال ہے۔کورونا وائرس یا کووڈ 19 کی عالمی تباہی کی لپیٹ میں ہر کوئی ہے۔ جن لوگوں کو یہ نہیں لگا وہ اس کے خوف میں رہ رہے ہیں اور یہ خوف بالکل حقیقی ہے جس سے کوئی فرار نہیں۔ یہ وبا دنیا کے مختلف ممالک میں تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پھیل رہی ہے اور چین سے لے کر امریکہ تک متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ فی الوقت اسے روکنے کا اگر کوئی طریقہ ہے تو وہ ہے خود کو روکنا، اس کا مطلب اپنے روز مرہ کی عادات میں تبدیلی لانا۔ اس میں ہاتھ دھونے سے لے کر ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے لے کر ان جگہوں پر اکٹھا ہونا شامل ہے جہاں مجمع زیادہ ہے۔ جتنا کم گھر سے نکلیں اتنا ہی بہتر ہے۔ بس یہ سمجھ لیں کہ کم ملنے سے محبت کم نہیں ہو رہی بلکہ اپنا اور دوسرے کا بھلا ہو رہا ہے۔۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں روزانہ 20 سے 30 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ فی الحال اس کی کوئی ویکسین نہیں ہے اور کسی کے پاس حالات پر قابو پانے کا کوئی مؤثر منصوبہ نہیں ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -