گجرات میں 7خواتین اساتذہ بیدردی سے قتل

گجرات میں 7خواتین اساتذہ بیدردی سے قتل

  

مرزا نعیم الرحمان

قتل کی پے در پے وارداتوں کے نوٹس پرملزمان گرفتار ہو گئے

بعض اوقات خواتین کے خلاف وتشدد اور قتل و غارت گری کے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جسے سن یا دیکھ کر احساس ہونے لگتا ہے کہ عورت مرد کا آسان ترین شکا ہے اور قتل کرنیوالے زمانہ جاہلیت کی یاد تازہ کر دیتے ہیں کچھ عرصہ سے گجرات میں خواتین کو قتل کرنے کی پے در پے وارداتیں ہوئیں جن میں سے چند ایک کے ملزمان کو گجرات پولیس نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار کر لیا جبکہ ایک ملزم تھانہ کی حوالات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھانہ صدر جلالپور جٹاں کے علاقہ موہلہ لنگڑیال میں اسد اقبال جو کچھ عرصہ قبل یونان سے پاکستان واپس آیا تھا نے اولادنہ ہونے کی وجہ سے اپنی بیوی مسمات گلشن شکیلہ جن کی شادی چھ سال قبل بڑی دھوم دھام کے ساتھ کی گئی تھی کودوسری شادی کی اجازت نہ دینے پر فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ملزم کے والد محمد اقبال نے اپنے بیٹے کو قتل پر اکسایا تھا ملزم اسلحہ لہراتے ہوئے فرا ر ہونے میں کامیاب ہو گیا جبکہ اسکے والد نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھانہ صدر جلالپور جٹاں کے ایس ایچ او الطاف گوہر جو ایک جلالی اور فرض شناس پولیس آفیسر کے طو رپر اپنا ثانی نہیں رکھتے نے اس مقدمہ قتل کے ملزم کی گرفتاری کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے اور ملزم کو بڑی تگ ودو کے بعد گرفتار کرلیا مقتولہ جناح پبلک سکول میں 18ویں گریڈ کی خاتون ٹیچر تھی اسکے قتل پر گجرات کے سب سے بڑے سکول کے طلبا و طالبات میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور وہ دھاڑیں مار مار کر روتے رہے خواتین ٹیچرز ایک دوسرے کو گلے لگا کر نہ صرف روتی رہیں بلکہ ایک دوسرے کو دلاسا دیتی رہیں یہ بڑے رقت آمیز مناظر تھے جسے دیکھ کر زمین کانپ اٹھی اور برکھا نے بھی خوب آنسو بہائے قتل کی دوسری واردات کڑیانوالہ کے گاؤں مل میں ہوئی جہاں پر خاتون ٹیچر صمادیہ جبین کو رشتہ کے تنازعہ پر سکول جاتے ہوئے مسلح موٹر سائیکل سواروں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا مقتولہ کی والدہ بشری بی بی زوجہ محمد اعظم کی رپورٹ پر مقتولہ کے حقیقی ماموں ماجد گجر اور نامعلوم ساتھیوں کیخلاف تھانہ کڑیانوالہ میں مقدمہ درج کیا گیا مدعیہ کے مطابق خاتون سکول ٹیچر صمادیہ جبین کو رشتہ کے تنازعہ کی بھینٹ چڑھا گیامقتولہ کا گاؤں بھروال کے رہائشی دلبر گجر نامی شخص کے ساتھ نکاح ہو چکا تھا مگر رخصتی ہونا باقی تھی جسے قاتلوں نے دولہن بننے سے قبل ہی سر بازار گولیوں سے چھلنی کر دیا قتل کی تیسری واردات تھانہ کنجاہ کے گاؤں شاجہانیاں میں ہوئی جہاں پر ایک خاتون ٹیچر کے بیہمانہ قتل نے ہر درددل شخص کو غمزدہ کر د یا خاتون سکول ٹیچر آسیہ پروین جو طویل عرصہ سے شعبہ تدریس کیساتھ منسلک اور گورنمنٹ پرائمری سکول میں نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہی تھی کو کیا پتہ تھا کہ دوسروں کی بیٹیوں کی تربیت اور تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے کرتے اسکی اپنی بیٹیاں سسرالیوں کو کانٹے کی طرح کھٹکنے لگیں گی آسیہ پروین کی کچھ عرصہ قبل افضال سندھو کیساتھ شادی ہوئی اسکے بطن سے دو بیٹیاں پیدا ہوئیں تیسری بیٹی کی پیدائش پر سسرالیوں کا رویہ اچانک تبدیل ہو گیا گھر میں لڑائی جھگڑے اور تین بیٹیوں کی پیدائش کے طعنے نشتر کی طرح اسکے دل میں اترتے مگر وہ اللہ کے فیصلے پر صبر وشکر کیساتھ بیٹیوں کی پرورش کر تی رہی مگر سسرالیوں نے آسیہ پروین کو تیسری بیٹی پیداکرنے پرچھریوں کے پے در پے وار کر کے شدید زخمی اور بعد میں گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا تینوں بچیوں کو مامتا کی شفقت پدری سے ہمیشہ کیلئے محروم کر دیا مقتولہ کے شوہر افضال سندھو‘دیورانی ماریہ بی بی‘دیوروں بلال رفیق‘ شہباز رفیق‘ ساس ارشاد بی بی‘ اور سسر رفیق سندھو سے تحقیقات جاری ہیں مذکورہ خواتین ٹیچروں کے قتل کی بازگشت ابھی تھمی نہیں تھی کہ گاؤں عادووال کے ایک خالی پلاٹ سے بھی ایک اور خاتون ٹیچر کی خون میں لت پت نعش گلیانہ پولیس نے برآمد کی ابتدائی طو رپر اس واقعہ کو ایک اندھے قتل کے طور پر لیا گیا جس کے محرکات کی تلاش پولیس کیلئے چیلنج تھا جدید طرز تفتیش‘ سائنسی ٹیکنالوجی اور انتھک محنت کے بعد نامعلوم خاتون کے قتل کا معمہ حل ہوا تو پولیس کیلئے حیرت زدہ تھا کیونکہ مذکورہ خاتون بھی ایک سکول ٹیچر نکلی تھانہ سول لائن کے علاقے محلہ اسلام نگر کی رہائشی 40سالہ فرزانہ امجد جو بینک سے رقم نکلوانے کیلئے گھر سے نکلی مگر کبھی لوٹ کر نہ آ سکی بلکہ اسکی نعش عادووال گاؤں سے برآمد ہوئی تھانہ رحمانیہ پولیس نامعلوم قاتلوں کا سراغ لگانے کیلئے جدید وسائل اور شواہد کی مدد سے پیش قدمی کر تی رہی اور ایک قتل کے اس مقدمہ میں ایک ملزم کو تھانہ رحمانیہ پولیس نے قتل کے شبہ میں حراست میں لیا جسے تفتیشی آفیسر نے کھڑکی سے باندھا مگر وہ بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تاحال ملزم کی تلاش جاری ہے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر بھی تھانہ صدر کے علاقے شیخ پور میں سسرالیوں نے بہو کو پھندا دیکر قتل کر دیا اور اسکے قتل کو خود کشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جو پولیس نے ناکام بنا دی دولت نگر کے گاؤں بٹھووال سے تعلق رکھنے والی دو بچوں کی ماں نادیہ مظہر کو اسکے سسرالیوں نے گلے میں پھندا ڈال کر نامعلوم وجوہات کی بنا کر قتل کر دیا نادیہ کے میکے والوں کو اطلاع کی گئی ہے کہ اس نے پھندا لیکر خود کشی کر لی ہے جب مقتولہ کے اہل خانہ اسکے سسرال پہنچے تو اسکے جسم پر تشدد کے واضح نشانات پاکر تھانہ صدر گجرات پولیس کو مطلع کیا گیا جس سے خود کشی کا ڈرامہ بے نقاب ہو گیا اور پولیس نے مقتولہ نادیہ کے بھائی عرفان اصغر کی رپورٹ پر اسکے شوہر مظہر اقبال‘ جیٹھانی شہناز اظہر سمیت دیگر ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر کے دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا قتل کی چھٹی واردات جس میں خاتون کو ہی قتل کیا گیا ہے کی نعش سیدھڑی نالے سے پولیس نے برآمد کر لی مذکورہ خاتون چند یوم قبل گھر سے لاپتہ ہوئی اور اسکی شناخت مسرت بی بی کے نام سے کی گئی ہے قتل کی ساتویں واردات تھانہ اے ڈویژن کے علاقے محلہ بخشو پورہ میں ہوئی جہاں جائیداد کے تنازعہ پرسگے چچااور اس کے بیٹوں کے ہاتھوں سے قتل ہونے والے نوجوان شہزد احمد کو بیدردی کیساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا معلوم ہوا ہے کہ جائیداد کے تنازعہ پر محلہ بخشوپورہ کے رہائشی نوجوان شہزاد احمد کو اس کے چچا نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر چھریوں اور قینچی کے وار کر کے بے رحمی سے قتل کیاواقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ اے ڈویژن فیاض احمد معہ نفری فوری موقع پر پہنچے واقعہ کے متعلق ڈی پی او گجرات توصیف حیدر کو بھی آگاہ کیا گیا انکی ہدایت پر جائے وقوعہ سے کرائم سین یونٹ،پی ایف ایس اے گوجرانوالہ نے شواہد اکٹھے کئے پولیس تھانہ اے ڈویژن نے نوجوان کے والدامجد محمود کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کرکے ملزمان ارشد محمود ولد محمد اسماعیل‘ شیراز ارشد‘ بلال ارشد‘ اویس ارشد کو چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا مقتول نے سوگواران میں ایک بیوہ تین ماہ سات سال اور گیارہ سال کی بیٹی چھوڑی ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ سید توصیف حیدر ڈی پی او گجرات کی پی آر او برانچ کے سربراہ اسد گجر اور اس برانچ کی ٹیم کے تمام اراکین کسی بھی واردات پر فوی طور پر نہ صرف اپنے کپتان کو مطلع کرتے ہیں بلکہ ملزمان کی گرفتار ی تک شب و روز اپنی کاوشیں جاری رکھتے ہیں، گجرات پولیس جو حقیقی معنوں میں موجودہ کورونا وائرس کے دور میں انسان دوست بن کر سامنے آئی ہے نے نہ صرف امن و امان کو یقینی بنایا قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا تو دوسری طرف ڈ ی پی او سید توصیف حیدر نے لاک ڈاؤن میں پیدا ہونیوالے حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے پولیس ملازمین کی دو یوم کی تنخواہ اکٹھی کر کے کروڑوں روپے کی اشیائے خوردونوش آٹا چینی وغیرہ لوگوں کے گھروں میں پہنچا کر گجرات پولیس کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ شہریوں نے 7بے گناہ خواتین کے قاتلوں کی گرفتاری اور لاک ڈاؤن کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی خوراک مستحقین کے گھروں تک پہنچانے پر ڈ ی پی او سید توصیف حیدر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ بلاشبہ گجرات کی دھرتی پیار کرنیوالوں کی ہے اور گجرات پولیس نے لاک ڈاؤن کے دوران خلق خدا کے گھر خوراک پہنچا کر عوام کے دل جیت لیے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -