شیخوپورہ میں شاہراہ عام پر ناکہ بند ڈاکے

شیخوپورہ میں شاہراہ عام پر ناکہ بند ڈاکے

  

دو تھانیداروں نے زخمی ہونے کے باوجود ڈاکوؤں کو بھاگنے پر مجبور کردیا

کرائم سٹوری شیخوپورہ

(تحریر:محمد ارشد شیخ)

انصاف کی فراہمی معاشرتی اساس ہے جس کے بغیرکوئی معاشرہ آگے بڑھ نہیں سکتا، جرائم کا خاتمہ اولین ترجیح نہ ہونے کے باعث ہم جس معاشرتی استحصال کا ایک عرصہ تک شکار رہے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج عوام کا اعتماد بحال کرنا مشکل رہا جس کیلئے اگرچہ تھانوں کی سطح پر پولیس ریفارمز کے باعث نہ صرف پولیس کلچر میں مثبت تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں بلکہ پولیس کارکردگی میں بھی اضافہ ہورہا ہے مگر اس کے باوجود پولیس کے مثبت کردار کی پذیرائی اور کارکردگی کا اعتراف خال خال دکھائی دیتا ہے جو کسی صورت مناسب نہیں، پولیس سمیت کوئی بھی ادارہ اگر غلطیوں کوتاہیوں اور خامیوں کو دور کرکے بہتری کی جانب گامزن ہے تو اس کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی ہونی چاہئے اس سے یہ گمان قطعی مناسب نہیں کہ پولیس کسی خوش فہمی کا شکار ہو کر اپنے اس مثبت کردار کی داعی نہیں رہے گی یا اسکی مخلصانہ کاروائیوں میں کمی آئے گی بلکہ محکمہ پولیس کا مورال بلند ہونے سے تعمیری رجحانات کو فروغ ملے گا اور پولیس ملازمین کی جرائم کے خاتمہ کی جدوجہد میں تیزی آئے گی، جس کا برملا اظہار ہمارے سامنے ہے جسے ثبوت کے طور پر یقینا پیش کیا جاسکتا ہے کیونکہ جب محکمہ پولیس شدید تنقید کے زد میں تھا ہر طرف سے پولیس ریفارمز کی باتیں ہورہی تھیں، پولیس کلچر کی تباہی کا رونا رویا جارہا تھا، پولیس کو درباری اور اقرباء پرور قرار دیا گیا ہے ان حالات میں آیا دیکھنا ہوگا کہ جرائم کے خاتمہ کیلئے پولیس کی جدوجہد زیادہ موثر ہوئی یا پولیس کو درکار مراعات کی فراہمی اور مناسب حوصلہ افزائی سے پولیس کا مورال بلند ہوا لہذاٰ تنقید برائے تنقید کسی صورت مناسب نہیں بلکہ اچھے کو اچھا اور برے کو برا کہنا قرین انصاف ہے اورجہاں ہم پولیس کی خامیوں پر دل کھول کر بحث کرتے اور سخت سے سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہیں وہاں پولیس کی موثر کاروائیوں اور فرائض کی ادائیگی و فرض شناسی کے مظاہرہ کو بھی چیلنج کرنے یا نظر انداز کرنے کی بجائے حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اور تسلیم کرنا چاہئے کہ محکمہ پولیس میں ایسے لوگ موجود ہیں جو قانون کی بالادستی کی جدوجہد کے حامل اور فرائض کی دیانتدارانہ ادائیگی میں کسی کوتاہی کے مرتکب نہیں جبکہ کسی بھی معاشرہ میں عدل و انصاف کی بلاامتیاز فراہمی، مجرموں کا قلع قمع و جرائم کی بیخ کنی، لاقانونیت کا تدارک، آئین و دستور کی بالادستی، امن و امان کا قیام، حقدار کو حق کی فراہمی، مظلوم کی داد رسی سمیت دیگر بے ضابطگیوں و برائیوں کے خاتمہ کا فقدان نہ صرف اقوام کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں شدید رکاوٹ بلکہ معاشرتی اقدار و احیائے انسانی کیلئے زہر قاتل ثابت ہوتا ہے جبکہ آج جس معاشرے میں ہم سانس لے رہے ہیں اس میں ایک عرصہ تک غالب خیال پایا گیا کہ جرائم کی بیخ کنی ممکن نہیں اور مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا نہیں جاسکتا جس کی وجہ یہ تھی کہ ہم بحثیت قوم مجموعی طور پر نہ توماضی میں آئین کی بالادستی کی وہ حقیقی شکل دیکھ پائے ہیں کہ جس سے ہمیں ایک کامیاب معاشرہ کی تشکیل میں مدد ملے سکے اور نہ ہی ہم بحثیت شہری ایک پروقار زندگی کے حامل ثابت ہوئے ہیں بلکہ ہمارے ہاں پائی جانیوالی معاشرتی ابتری کے باعث ہم بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی تک سے محروم ہوتے چلے گئے اور ہم جس کسمپرسی کا شکار ہوئے اس کی بنیادی وجہ لاقانونیت کا پروان چڑھنا تھی اور اگر اس صورتحال کے حقیقی ذمہ داروں کا تعین کیا جائے تو تمام تانے بانے ہمارے نہایت بدترین ادارہ جاتی سسٹم سے جاملتے جس میں کرپشن و رشوت ستانی کے عروج کے باعث حق تلفی پروان چڑھی،متاثرہ و مظلوم شہری دست التجاء اٹھائے داد رسی کے منتظر دکھائی دیئے تاہم اس ناامیدی و بے یقینی کے اندھیروں میں کسی مثبت ادارتی عمل کا سامنے آنا یقینا اچیز کی بات تھی اور چونکہ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں کی کمی نہیں تھی لہذا کسی ایماندار و فرض شناس آفیسر کا وجود بلا شبہ کسی کرشمہ سے کم نہ تھا مگر ڈی پی او شیخوپورہ غازی محمد صلاح الدین کی تعیناتی کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہونا شروع ہوگئی اور پولیس کی نہ صرف کارکردگی میں بہتری آتی دکھائی دی بلکہ ادارہ جاتی کلچر بھی بہتر ہوتا چلا گیا جس کے باعث تھانوں کی سطح پر شہریوں کی داد رسی کا سلسلہ پروان چڑھااور مجرموں کے خلاف قانون کا آہنی شکنجہ کستا چلا گیا تاہم ایسے بعض کیسز جنہیں ٹریس کرنا پانا ماضی میں پولیس کے بس کی بات سمجھا نہیں جاتا تھا اس حوالے سے بھی زبردست پیش رفت سامنے آئی جبکہ جزا اور سزا کا نظام موثر بنائے جانے سے بھی پولیس کا مورال بلند ہوا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پولیس ملازمین کی بہادری اور جرات کے واقعات بھی تواتر سے سامنا آنا شروع ہوگئے حالانکہ ان واقعات میں پولیس ملازمین کوجری و جرات مند ہونے کا ثبوت دینے کی خاطر خاصی تکلیف دہ صورتحال سے بھی گزرنا پڑا ہے مگر اس کے باوجود ان کا جذبہ مثالی دکھائی دیا ہے جس کی ایک نئی مثال گزشتہ روز رقم ہوئی جس کا احوال کچھ یوں ہے کہ گزشتہ روز شرقپور روڈ 132کے وی گرڈ اسٹیشن کے قریب نصف درجن کے قریب مسلح ڈاکوؤں نے ناکہ لگا کر گاڑیوں کو روکا اور ان میں سوار مقامی و دور دراز کے مسافروں کو لوٹنا شروع کردیا جن درجنوں کاروں،موٹرسائیکلوں،ٹرکوں اور آئیل ٹینکروں پر سوار مسافروں کو اسلحہ کی نوک پر روک کر ڈاکوؤں نے لوٹا ان میں پنجاب پولیس کے اے ایس آئی میاں طارق اور اے ایس آئی نوید ڈھلوں بھی شامل تھے جو ڈیوٹی سے واپس اپنی اپنی گاڑیوں پرسوار ہو کر گھروں کو لوٹ رہے تھے کہ جونہی وہ شرقپور روڈ پر واقع مرادے گرڈ اسٹیشن کے قریب پہنچے آگے ڈاکوؤں نے کٹے درختوں کے تنے پھینک کر سڑک بلاک کررکھی تھی اور گزشتہ دو گھنٹوں سے گاڑیوں کو روک روک کر مسافروں کو لوٹ رہے تھے جبکہ کم و بیش 35سے زائد راہگیروں سے ڈاکو لاکھوں روپے نقدی،قیمتی موبائل فونز و دیگر قیمتی اشیاء چھین چکے تھے اس دوران جب تھانہ ماڈل سٹی اے ڈویژن کے اے ایس آئی میاں طارق کی کار رکی اور اس پر ڈاکوؤں نے دھاوا بولا تو اے ایس آئی نے بہادی اور جرات کامظاہرہ کرتے ہوئے سرکاری پسٹل سے ڈاکوؤں پر فائرنگ کردی جس سے ڈاکو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے تاہم فائرنگ کے تبادلہ کے دوران ایک ڈاکو کی گولی اے ایس آئی میاں طارق کو جالگی مگر زخمی ہونے کے باوجود اس بہادر اے ایس آئی نے ہمت نہ ہاری اور تنہا ہونے کے باوجود شدید مذاحمت کی اور ڈاکوؤں کو اپنی گاڑی کے قریب آنے نہ دیا، اس دوران ترگے والی گاؤں سے شہر شیخوپورہ آنے والے ارسلان بیگ اورعاصم خان جن کی گاڑی کو ڈاکوؤں نے روک کر ان سے 50ہزار روپے نقدی اور80ہزار روپے مالیت کے موبائل فونز چھین تھے انہوں نے موقع بھانپتے ہوئے مقامی صحافی مرزامحمدارشد بیگ کو کال کرکے صورتحال سے آگاہ کیا جنہوں نے فوری ریسکیو15پر کال کی اطلاع کی۔ اس کال کے بعد بھکھی پولیس حرکت میں آئی اورایک پولیس ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ تو گئی مگر اس وقت تک خاصی دیر ہوچکی تھی اور ڈاکو فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے جن کی تلاش بے سود ثابت ہوئی اور رات بھر پولیس کے تلاش کرنے کے باوجود ڈاکوؤں کا کوئی سراغ نہ ملا تاہم زخمی اے ایس آئی میاں طارق اور نوید ڈھلوں کی فوری طبی امداد کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا جن کی حالت تادم تحریر تشویشناک بیان کی گئی ہے دوسری طرف ڈی پی او غازی محمد صلاح الدین نے ڈکیتی کی اس خطرناک واردات کو فوری نوٹس لیا اور نہ صرف مقدمہ کا اندراج یقینی بنانے کی پولیس کو ہدایت کی بلکہ ایس ایچ اوبھکھی شاہد رفیق کوبھی ناقص کارکردگی اور غفلت لاپرواہی کے باعث لائن حاضر کرکے انکی جگہ عمر شیراز گھمن کو ایس ایچ او تھانہ بھکھی تعینات کرنے کا اقدام اٹھایا اس واردات میں مجموعی طور پر 35سے زائد مسافر نشانہ بنے جن سے ڈاکوؤں نے لاکھوں روپے نقدی اور درجنوں موبائل فونز و دیگر قیمتی اشیاء چھینیں، مذکورہ واردات کی روداد سے واضح ہوتا ہے کہ ضلع پولیس میں ایسے جری بہادر اور جرات مند افسران موجود ہیں جو جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کیلئے برسر پیکار ہیں اور اس راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہ کرنے کاحقیقی جذبہ رکھتے ہیں اور ایسی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں کہ مشکل حالات میں بھی اپنا کردار ادا کرنے سے گریز نہیں کرتے اسی طرح یہ واردات ڈی پی او غازی محمد صلاح الدین کے جرائم کے خاتمہ کے ویژن کو بھی واضح کرتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -