افغان طالبان کو سیز فائر کا مشورہ

افغان طالبان کو سیز فائر کا مشورہ

  

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغان طالبان رمضان میں انسانی بنیادوں پر سیز فائر کر دیں۔ ملٹری آپریشن معطل کرکے تشدد میں کمی کریں افغان عوام اور ملک کی بہتری تمام فریقوں کے رویئے پر منحصر ہے قیدیوں کا تبادلہ امن عمل میں مددگار ثابت ہوگا۔ تمام فریقوں کو مشترکہ دشمن کورونا سے لڑنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے لئے قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کا موقعہ ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ دوسری جانب طالبان کا موقف ہے کہ مخالف فریق اپنے عہد کی پاسداری نہیں کر رہے، معاہدے کے تحت دس مارچ تک طالبان قیدیوں کی رہائی ضروری تھی جو اب تک رہا نہیں ہو سکے۔

دنیا کے بہت سے ملکوں میں کورونا کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی ہو رہی ہے یا سزاؤں میں تخفیف کی جا رہی ہے لیکن افغان حکومت دوحہ معاہدے میں طے شدہ طریقِ کار کے مطابق قیدیوں کو رہا نہیں کر رہی۔ نتیجہ یہ ہے کہ جس امن عمل کو تیزی سے آگے بڑھنا چاہیے تھا وہ رک گیا ہے۔ طالبان نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اگر معاہدے کی شرائط کے تحت ان کے قیدی رہا نہ کئے گئے تو وہ بھی اس کی پابندی نہیں کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے افغانستان کے کئی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملے بھی کئے، یہ سلسلہ تیز ہوا تو امریکہ نے افغان صدر کو خبردار کیا کہ وہ طالبان قیدیوں کو رہا کرے جس کے جواب میں افغان انتظامیہ نے قسط وار رہائیاں شروع کر دیں حالانکہ معاہدے کی رو سے تمام قیدیوں کی ایک ہی وقت میں رہائی ضروری تھی۔ اس دوران امریکہ سمیت پوری دنیا کورونا سے نپٹنے میں مصروف ہو گئی اور افغان امن عمل نگاہوں سے اوجھل ہو گیا، تاہم امریکی حکومت کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان اب بھی صدر اشرف غنی اور طالبان کو بین الافغان مذاکرات کی اہمیت سے آگاہ کرتے رہتے ہیں البتہ یہ مذاکرات اسی وقت شروع ہو سکتے ہیں جب افغان حکومت اور طالبان معاہدے پر پوری طرح عمل کریں۔

امریکہ کو طالبان کے ساتھ طویل مذاکرات اس لئے بھی کرنا پڑے کہ سالِ رواں کے نومبر میں صدر ٹرمپ کو صدارتی انتخاب دوبارہ لڑنا ہے جس میں وہ جیت کے لئے بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک ایسے اقدامات کر رہے ہیں جنہیں وہ اپنی کامیابیوں کی فہرست میں شامل کر سکیں۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں مقیم امریکی فوجی انتخابی مہم شروع ہونے سے پہلے امریکہ واپس چلے جائیں، لیکن اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ طالبان قیدیوں کی رہائی ثابت ہو رہی ہے، جب افغان انتظامیہ پر دباؤ بڑھتا ہے تو قیدیوں کا ایک گروہ رہا کر دیا جاتا ہے اس سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ حکومت قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کرکے طالبان کے ساتھ کسی قسم کی سودے بازی چاہتی ہے، لیکن طالبان ایسی چالوں کو خوب سمجھتے ہیں وہ امریکی فوجیوں کے خلاف تو کارروائی نہیں کرتے لیکن افغان سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

دوحہ معاہدے پر دستخط ہونے کے ساتھ اس کی تاویلات شروع ہو گئی تھیں اور صدر غنی نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ وہ قیدیوں کی رہائی کے مُکلف نہیں ہیں، جبکہ طالبان بھی اپنا موقف بار بار دہراتے رہے۔ امریکی حکام کورونا سے نپٹنے میں مصروف نہ ہوتے تو شاید اب تک امن عمل میں پیش رفت ہو چکی ہوتی، لیکن سنگین اندرونی صورتِ حال نے صدر ٹرمپ کو اندرون ملک الجھا رکھا ہے اور وہ جھنجھلاہٹ میں امریکی میڈیا کو بھی رگڑا لگاتے رہتے ہیں۔ گزشتہ روز تو انہوں نے غصے کے عالم میں پریس کانفرنس ہی منسوخ کر دی۔ امریکہ میں صدارتی انتخاب سے پہلے رائے عامہ کے جو جائزے سامنے آتے ہیں ان میں ریاستوں کے رجحان پر خصوصی توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ریاستیں ری پبلکن پارٹی اور ڈیمو کریٹک پارٹی میں تقسیم ہوتی ہیں، تاہم ریاستوں کی ایک قسم وہ ہے جہاں ووٹرز تقسیم ہوتے ہیں ایسی ریاستوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جس پارٹی کی جانب رخ کر لیں وہ جیت جاتی ہے۔ ان ”سونگ سٹیٹس“ کے بارے میں رائے عامہ کے جائزے کہہ رہے ہیں کہ اب کی بار وہ ری پبلکن پارٹی کے خلاف جائیں گی۔ صدر ٹرمپ کو بھی اس کا اندازہ ہے اس لئے وہ صدارتی الیکشن سے پہلے کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جس سے انہیں جیت میں مدد ملے لیکن اندرون ملک کورونا کے اثرات کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

افغان امن عمل کی منزل ہر گزرتے دن کے ساتھ دور ہوتی جاتی ہے اور خدشہ یہ ہے کہ اگر امریکی فوجی واپس نہ گئے تو صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچے گا اس لئے امریکی نمائندہ خصوصی وقتاً فوقتاً افغان فریقوں کو یاد دلاتے رہتے ہیں کہ وہ جنگ روکیں اور بین الافغان مذاکرات شروع کریں اب رمضان کی رعایت سے بھی زلمے خلیل زاد نے افغان طالبان سے سیز فائر کی اپیل کی ہے جس کا انہیں مثبت جواب نہیں ملا، پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر جو کردار ادا کیا تھا امریکہ اس سے خوش تھا لیکن معاہدے کے باوجود امن کوششیں کامیاب ہوتی نظر نہیں آتیں حالانکہ ملک میں امن کی سب سے زیادہ ضرورت خود افغانوں کوہے۔ غیر ملکی افواج واپس جائیں گی تو وہ باہم مل کر اپنے ملک کی تعمیر نوشروع کر سکیں گے لیکن یہی وہ مشکل مرحلہ ہے جو آسانی سے سر نہیں ہو گا افغانستان میں بدامنی کا اثر براہِ راست پاکستان پر بھی پڑتا ہے اور پاکستانی فوج کی قربانیوں کے نتیجے میں جن علاقوں میں امن قائم ہو گیا تھا وہاں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ دہشت گردی کے مسلسل واقعات کی وجہ سے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کو اس جانب توجہ مرکوز کرنا پڑ رہی ہے۔ یہ دہشت گرد کون ہیں اور کہاں سے آتے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، جن قوتوں کو دوحہ معاہدہ پسند نہیں آیا تھا دہشٹ گردی میں ان کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، افغان حکومت کو گلہ ہے کہ اسے امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات سے دور رکھا، بھارت کو بھی قریب نہیں آنے دیا گیا اس لئے بھارت افغانستان میں اپنے قونصل خانوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کے منصوبے بناتا رہتا ہے۔ وارداتوں میں یہ تیزی اسی وجہ سے ہے،لیکن بھارت کو اس معاملے میں بھی منہ کی کھانا پڑے گی۔ بہتر ہے افغان انتظامیہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور اپنی تمام تر توانائیاں اپنے ملک میں امن قائم رکھنے پر خرچ کرے۔

افغانستان میں امن کے لئے دوحہ معاہدہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اگر معاہدے کے تمام فریق اسے کامیاب بنائیں تو یہ امن کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔ امریکہ اپنی افواج نکال لے گا اور افغان قوتیں اپنے معاملات خود اپنے ہاتھ میں لے کر امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی اگر ایسا نہ ہوا اور افغان پہلے کی طرح آپس میں لڑتے رہے تو امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوگا امریکہ کو تو اپنی افواج اس سرزمین سے واپس بلانی ہیں اور پوسٹ کورونا امریکہ میں تمام وسائل معیشت کی بحالی کے لئے وقف ہو جائیں گے اس وقت خلائی تحقیق کے ادارے ناسا کو ضرورت کے تحت وینٹی لیٹر بنانے پڑ رہے ہیں اور جنرل موٹرز جیسا ادارہ بھی کاروں کی بجائے یہی کام کر رہا ہے۔ اس لئے افغانستان پر ڈالروں کا ہُن پہلے کی طرح نہیں برستا رہے گا۔ بہتر ہے افغان انتظامیہ ابھی سے آنے والے حالات کا ادراک کرلے ورنہ افغان عوام کے مسائل بڑھتے رہیں گے اور امن قائم نہیں ہو سکے گا۔ افغانستان میں امن ہی افغانوں کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔

مزید :

رائے -اداریہ -