طبی عملے کو اضافی تنخواہ، اچھا فیصلہ، مگر؟

طبی عملے کو اضافی تنخواہ، اچھا فیصلہ، مگر؟

  

وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ صوبے میں کورونا سے متاثر مریضوں کا علاج کرنے والے تمام طبی عملے کو اس وبا کے ختم ہونے تک اضافی تنخواہ دی جائے گی۔ صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ صائب اور اچھا ہے۔ اس کی تعریف کی جانا چاہیے۔یہ طبی عملہ کورونا کے مریضوں کی خدمت اور کورونا جیسی متعدی وبا سے دوچار ہے اور اپنے فرائض انجام دیتا چلا جا رہا ہے۔ حالانکہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق طبی عملے کے درجنوں افراد خود اس وبا سے متاثر ہو چکے اور تین چار نے شہادت کا درجہ بھی پایا ہے۔ ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈیکل اور دیگر طبی تکنیکی عملے کا جذبہ خدمت قابل تعریف و تحسین ہے اور اس عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کی جرات کو قوم کا سلام ہے۔ یہ حضرات اپنے گھروں اور خاندانوں کو چھوڑ کر مریضوں کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہیں ان کی جتنی حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے، اس لئے اضافی تنخواہ کا فیصلہ بھی بہتر ہے، تاہم اس سے بھی زیادہ ضرورت یہ ہے کہ خود ان معالجین کی صحت بچائی جائے اور ان کی حفاظت کی جائے کہ اگر یہ نہ ہوئے تو وبا کو سنبھالنا ممکن نہ ہوگا، اس حوالے سے یہ امر تکلیف دہ ہے کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس کے تحت ملک کے مرکزی شہروں میں دھڑنا جاری ہے۔ یہ حضرات اپنی ڈیوٹی انجام دیتے اور باری باری دھرنا کیمپ میں آتے ہیں۔ یہ حضرات و خواتین طبی عملے کے لئے مکمل حفاظتی آلات و سامان کا مطالبہ کررہے ہیں، ان کی طرف سے حکومتی دعوے کی نفی کی جا رہی ہے کہ سارے طبی عملے کو سامان مہیا کر دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ طبی عملے کے ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے اور اکثریت خطرے سے دوچار ہے یہ بالکل جائز مطالبہ ہے،جہاں اضافی تنخواہ سے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے،وہاں ان کا جانی تحفظ اور صحت بچانا بھی اولین ترجیح ہونا چاہیے کہ اگر یہی متاثر ہوئے تو علاج کون کرے گا۔حکومت کو ”انا“ کا مسئلہ بنائے بغیر احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کرکے ان کی ضروریات پوری کرنا چاہئیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -