کرونا اور مسائل کا گھورکھ دھندہ

کرونا اور مسائل کا گھورکھ دھندہ
کرونا اور مسائل کا گھورکھ دھندہ

  

میری ایک عزیزہ نے اپنا مکان کسی سکول کو کرائے پر دیا ہوا ہے۔ چونکہ وہ بیوہ ہے اس لئے اس کی گزر بسر اسی کرائے پر ہے۔کرونا کی آمد پر حکومت نے عوام کی ریلیف کے جو اقدام کئے اس میں مالک مکان خواتین و حضرات کو کرایہ داروں سے ابتلا کے اس دور میں کرایہ لینے سے روک دیا ہے۔ اس سے نوے فیصد کرایہ داروں کو یقیناً فائدہ ہوا ہے۔ مگر وہ دس فیصد لوگ جو کرایہ دینے کی پوزیشن میں بھی تھے، انہوں نے بھی کرایہ روک لیا ہے وہ کیوں دیں جب نوے فیصد نہیں دیتے۔ یوں وہ لوگ جن کی گزر بسر کرائے کی آمدن پر تھی،شدید مشکل کا شکار ہیں۔ اسی مشکل کی وجہ سے میری اس عزیزہ نے سکول والوں سے رابطہ کیا۔مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ سکول والوں نے کھلم کھلا انکار ہی نہیں کیا بلکہ حکو مت کی ہدایات کا حوالہ دے کر کہا کہ پلیز اب دوبارہ مانگ کر نہ خود شرمندہ ہوں نہ ہمیں شرمندہ کریں۔

سکول والوں کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چھٹیوں سے قبل ہم کچھ ماہ کی فیس وصول کرنے جا رہے تھے کہ کرونا کی آمد ہو گئی۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ صرف چار فیصد بچوں نے فیس جمع کرائی ہے۔ بقیہ چھیانوے فیصد سے ہم نے خود رابطہ کیا ہے۔ تقریباً ساٹھ فیصد نے کھلم کھلا انکار کر دیا ہے کہ ان حالات میں وہ فیس جمع کرانے کی پوزیشن میں نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ صورت حال پتہ نہیں کب تک چلے۔کیسے حالات ہوں جو تھوڑے بہت پیسے ہمارے پاس ہیں ان کو فیسوں پر کیوں ضائع کریں۔اس وبا سے بچ گئے تو سکول کا سوچیں گے۔ جو چھتیس فیصد والدین جنہوں نے گول مول جواب دیا ہے کہتے ہیں کہ حکومت نے بیس فیصد فیس کم کر دی ہے۔ اس لئے کم فیس کا نیا چالان بھیج دیں۔ سوچیں گے۔ مگر یہ تو بتائیں کہ اگر کچھ ماہ یہی صورت رہی توسکول کی بات علیحدہ، ہم ذاتی طور پر دیوالیہ ہو جائیں گے اور پھر ہم کیا کریں گے۔ سکول والے ان سوالوں کا کیا جواب دیں، پریشانی ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے۔

ایک چھوٹے پرائیویٹ سکول میں کچھ ٹیچر براجمان تھیں۔کہہ رہی تھیں کہ موجودہ حالات میں ہمیں گھر میں ٹھہرنا چائیے تھا مگر سکول آ نا پڑا۔ تنخواہ وصول کرنی ہے۔ ان کی سکول مالک سے تکرار جاری تھی کہ گھر میں راشن اور خرچ نہیں،انہیں فوراً اس ماہ کی تنخواہ دی جائے۔ سکول مالک کا کہنا تھا کہ بس فیس آنے کی دیر ہے، میرے گھر میں بھی راشن ختم ہے، اکھٹے ڈالیں گے۔ سب ایک دوسرے کی مجبوری سمجھ رہے ہیں۔ کسی کا حالات پر بس نہیں۔ لیکن اگر فیس نہیں آتی تو سرمایہ دار سکول مالک تو بہت سیانا ہوتا ہے وہ سب ٹیچرز کو دلیری سے فارغ کرے گا اور کوئی اسے پوچھ نہیں سکے گا۔ چھوٹے سے پرائیویٹ سکول کا مالک مجبور ہو گا۔ وہ حکومت کے ڈر سے کسی ٹیچر کو نہ بھی نکالے تو بھی ٹیچر کی تنخواہ کہاں سے آئے گی۔ یہ سب معمہ ہے جس کا حل کسی کے پاس نہیں۔ ماسوائے ٹی وی پر بیٹھ کر بغیر کسی چیز کو جانے اور سمجھے ماہرانہ تبصرے کرنے والے ارسطو حضرات کے۔ لیکن سچی بات ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اپنی اپنی جگہ مجبور ہیں۔لاک ڈاؤن سو فیصد بھی ختم کر دیا جائے تو بھی اس ہراس کی فضا میں کاموں کی صورت حال بہت اچھی ہونے میں اک مدت درکار ہو گی۔

سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو پارٹ ٹائم پڑھاتے ہیں۔ حکومت نے آن لائن کلاسیں شروع کر دی ہیں۔یہ لوگ پوری طرح ان کلاسوں میں بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ مگر اس سے پہلا سمیسٹر، جو وہ لوگ پڑھا چکے ہیں، کے واجبات کی ادائیگی کی کوئی صورت اس وقت نظر نہیں آرہی۔ نہ کوئی وائس چانسلر اور نہ ہی کوئی ڈائریکٹر کسی سے ملنے کو تیار ہے جس کو وہ اپنی مجبوریاں بتا سکیں۔ سرکاری اور بڑی پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو تو کسی مالی بحران کا سامنا نہیں،وہاں صرف نالائق اور نااہل قیادت، جو حکمرانو ں کو خوش کرنے کے سوا کچھ نہیں جانتی، کی وجہ سے جز وقتی اساتذہ کو اس مشکل کا سامنا ہے۔ پرائیویٹ سکولوں کی صورت حال بھی بد تر ہے۔ ان سکولوں میں زیادہ سٹاف خواتین کا ہے جو معاشی مجبوریوں کے سبب بہت تھوڑی تنخواہ پر کام کرتی ہیں۔ اب مالکان وہ معمولی تنخواہ بھی نہیں دے رہے۔کچھ سکول مالکان کی کی مجبوریاں ہیں اور کچھ کی نیت میں فتور۔ کام کرنے والی خواتین اساتذہ تو موجودہ حالات میں بہت مجبور نظر آتی ہیں۔

حکومت کو چائیے کہ اس صورت حال کا نوٹس لے۔ تمام تعلیمی اداروں کو پابند کیا جائے کہ تمام اساتذہ چاہے وہ کل وقتی ہوں یا جز وقتی کے کام کا معاوضہ ان کے گھروں میں پہنچائیں تاکہ موجودہ حالات میں وہ کسی طرح کی مالی مشکلات سے بچ سکیں۔ہائر ایجوکیشن کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ یونیورسٹیوں کی حد تک اس چیز کا جائزہ لے۔ ایک اور سنگین شکایت یہ ہے کہ بعض سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے جز وقتی اساتذہ کو بہت معمولی مشاہرہ دیتے ہیں۔ اس کو پور ی طر ح دیکھنے ا ور اداروں کے درمیان تفاوت ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن جس کا کام ایسی چیزیں دیکھنا ہے اپنے فرائض میں پوری طرح ناکام ہے۔اسے متحرک کر نے کی بھی ضرورت ہے۔ویسے مجھے وہاں کام کرنے والوں کی صلاحیت کا اندازہ ہے ان کی استعداد ہی نہیں کہ خود کچھ سوچیں اور اس پرعمل کرائیں لیکن حکومت اگر ہدایت دے تو شاید اس مردہ ادارے کے جسم میں کچھ ہلچل نظرآنے لگے۔

تعلیمی دنیا مکمل تبا ہی کی طرف گامزن ہے۔ بہت سے اداروں نے آن لائن کلاسز شروع کی ہیں لیکن زیادہ تر اساتذہ آن لائن کلچر سے واقف ہی نہیں۔ پڑھانا کیسے ہے اور بچوں کو کس طرح اس میں شامل کرنا ہے، بہت کم لوگ سمجھتے ہیں۔ہر ٹیچر خانہ پری تو کر لے گا مگر بچے کچھ حاصل نہیں کر پائیں گے۔ آن لائن تعلیم کی ٹریننگ دی ہی نہیں گئی۔ ہمارے فون کیمرے اگر اچھا رزلٹ دیتے ہیں تو آواز کا پرابلم آتا ہے۔ لیپ ٹاپ میں آواز بہتر ہے تو تصویر بہتر نہیں۔ جو اچھے سوفٹ ویر یا ایپ موجود ہیں وہ ماہانہ معقول پیسے لیتے ہیں صرف پیسے دے کر ہی ان پر مکمل کام کیا جا سکتا ہے۔ان ساری مشکلات کے باوجود آن لائن کلاسز ہو سکتی ہیں مگر اساتذہ کو کوئی گائڈ کرنے والا تو ہو۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آن لائن پڑھایا ہوا نوے فیصد ضائع ہو جائے گا۔ بچوں کو یہ سمسٹر دوبارہ پڑھانا پڑے گا۔ پرائیویٹ ادارے تو فیس لے کر ڈگریاں دے دیں گے مگر تعلیم کا مقصد پورا نہیں ہو گا۔ حکومتی ماہرین تعلیم مستقل قریب کا سوچیں کہ کس طرح بچوں کا تعلیمی سال کم سے کم ضائع ہو اور اس کے بعد وہ صحیح معنوں میں کچھ حاصل بھی کر سکیں۔

مزید :

رائے -کالم -