سیلونوں کا استثنیٖ

سیلونوں کا استثنیٖ
سیلونوں کا استثنیٖ

  

سنتے آئے ہیں کہ حرکت میں برکت ہے لیکن ان دنوں حکم ہے کہ’ایسی کوئی حرکت نہ کی جائے‘ کہ قانون حرکت میں آجائے مثلا غیر ضروری گھر سے نہ نکلا جائے وغیرہ وغیرہ یوں تو ہماری حرکتوں سے لوگ ہمیشہ سے تنگ رہے ہیں جیسے گھر والوں کو ہم سے شکائیت ہے کہ ہم حرکت نہیں کرتے گھر بیٹھے بے پر کی اڑاتے رہتے ہیں۔ مفت میں حکم چلاتے ہیں۔کوئی کام نہیں کرتے بس ہاتھ میں قلم تھامے سوچوں میں گم رہتے ہیں انہیں کیا خبر کہ ہمارے خیالات کی اڑانیں کیسی تیز ہیں ہم ایسے ایسے مضامین باندھنے والے ہیں کہ علم و ادب میں تہلکہ مچادیں اور یہ مضامین یونیورسٹیز میں پڑھائے جائیں گے اور ہم شہرت کے ساتویں آسمان تک جا پہنچیں گے اور پیسہ؟ وہ تو پیچھے پیچھے بھاگے گا، گھر والوں کو تو صرف دو وقت کی روٹی کی فکر ہے جبکہ ہم عزتوں اور شہرتوں میں دوام حاصل کرنا چاہتے ہیں بھئی سچ ہے کسی شاعر ادیب کی تو گھر والے بھی عزت نہیں کرتے لیکن انہیں معلوم نہیں ایک د ن ہم بام عروج پر پہنچنے والے ہیں ہم جو اچھوتے خیالوں کے محل تعمیر کررہے ہیں انکے آگے تاج محل کی بھی کیا حیثیت؟ ٹھیک ہے ابھی کوئی ہمارے ہنر کی قدر نہیں کررہا ہمارے فن کی داد نہیں دے رہا۔لیکن ہمارے فن کو سخن شناس سمجھ سکتے ہیں یہ تو شکر ہے ہماری بیگم صابرہ ہے۔

شاکرہ ہے۔ ارے صاحب دو نہیں ایک ہی بیگم ہے مطلب وہی صابرہ ہے وہی شاکرہ ہے ویسے بھی بیگم کو اور کیا چاہئے؟دوسرے شوہروں کی طرح ادھر ادھر نہیں بھٹکتے عزت سے گھر پڑے رہتے ہیں دیکھئے ناں! ہمیں گھر رہنے کی عادت تھی سو ہم گھر پڑے رہنے پر بے زار نہیں اور جو دن بھر پھرتے رہتے تھے اب گھروں میں رہنے کی تنبیہہ کی جاتی ہے تو انہیں کسی کروٹ چین نہیں کہا جارہا ہے محدود رہیں محفوظ رہیں۔ہم تو ہمیشہ سے اسی پر عمل پیراہیں کہ محدود رہیں محفوظ رہیں، تعلقات محدود رکھیں۔ میل جول کم رکھیں۔ آمد ورفت کم کم ہو۔لیکن لوگ ہمیں طعنے دیتے رہے جلی کٹی سناتی رہے ہم کہیں آتے جاتے نہیں۔لوگوں سے کم ملتے ہیں محدود زندگی گذار رہے ہیں۔تنہا رہتے ہیں تنہائی پسند ہیں۔خیالوں میں کھوئے رہتے ہیں ہمارے فلسفے کو تو لوگ اب سمجھے ہیں اور حکومت نے بھی ہمارے نظریات کی تائیدکر دی ہے دیکھئے ہم جتنے کسی سے ملیں گے اتنے ہی اس سے شکوے بڑھیں گے جتنے تعلقات بڑھائیں گے اتنا وبال ہوگا جتنا میل جول رکھیں گے اتنے ہی ناز اٹھانا پڑیں گے راز چھپانا پڑیں گے۔

ٹی وی چینلز دیکھئے اخبارات اٹھائیے ہر جگہ گھر رہنے کی تلقین کی جارہی ہے اورہم گھر رہتے تھے تو لوگ نقطہ چینی کرتے تھے اور جو لوگ اب گھر رہ رہے ہیں انکی تعریف کی جارہی ہے صاحب لوگوں کی بھی سمجھ نہیں آتی کبھی گھر رہنے پر داد و تحسین سے نوازتے ہیں تو کبھی گھر رہنے پر ہدف تنقید پہ رکھتے ہیں سنتے ہیں ان دنوں لاک ڈاؤن کی وجہ سے حکومت دیہاڑی داروں کو ماہانہ معاوضہ دے گی گھر گھر راشن پہنچائے گی ویسے میں سوچتا ہوں یہاں تو سب دیہاڑی دار ہیں کیا افسر کیا ملازم سب دیہاڑیاں لگاتے ہیں ٹھیکیدار ٹھیکوں میں دیہاڑیاں لگاتا ہے۔ پولیس افسر مقدمات میں دیہاڑی لگاتے ہیں۔ پٹواری دیہاڑیاں لگاتے ہیں۔ سیاستدان سیاست میں دیہاڑی لگاتا ہے یونین کونسلز میں دیہاڑیاں لگ رہی ہیں۔ تعلیمی اداروں۔واپڈا۔پی آئی اے۔کسٹم۔انٹی کرپشن سمیت کہاں کہاں دیہاڑیاں نہیں لگ رہیں پھر بھی دیہاڑی داروں کو حکومت ماہانہ رقم اداکرے گی خدشہ ہے کہیں ایسے ہی دیہاڑی دار،یہاں بھی دیہاڑیاں لگانا نہ شروع کر دیں خیر عین ممکن تو یہی ہے۔

سفر کو وسیلہ ظفر کہا گیا ہے لیکن ان دنوں سفر نہیں حضر میں کامیابی ہے۔سفر کی صعوبتیں اور حضر میں کیا کیا راحتیں ہیں اور اب تو راحتیں ہی راحتیں ہیں ہر کوئی سفر سے پرہیز اور حضر کا مشورہ دے رہا ہے قیام گاہوں میں قیام پذیر لوگ قیام کے لطف سے حظ اٹھا رہے ہیں کچھ سرکاری ملازم تو ’لڈیاں‘ ڈال رہے ہیں وہ دفاتر میں روز کے جھنجھٹ سے آزاد ہیں مجبور لوگ ان سے ٹیلی فونک رابطہ کر لیتے ہیں اور وہ گھر بیٹھے ان سے عہد و پیماں کررہے ہیں سرکار سے الگ تنخواہ پائیں گے اور مجبور وں سے دعاؤں کے ’نذرانے‘ الگ ’وصول‘ کریں گے گویا اب ’حضر وجہ ظفر ہے‘ اور’سفر؟ وجہ درد سر درد کمر ہے‘۔لاک ڈااؤن میں جہاں کاروبار مارکیٹس دکانیں بند ہیں تو وہاں سیلون بند ہونے سے خواتین کے حسن ذوق پر کاری ضرب پڑی ہے یہ بیوٹی پارلر یہ باربر شاپس ہی تو نسوانی حسن کا بھرم رکھے ہوئے تھے اب تو گھر میں خواتین بھی خواتین کو غور کرنے سے پہچانتی ہیں جیسے جون ایلیا نے کہا تھا

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت۔غور کرنے پہ یاد آتی ہے

زلفوں کی طوالت حسن کی علامت سمجھی جاتی تھی اب گیسو تراش دراز زلفوں کی طولانی سے نپٹتے ہیں اب لڑکیوں کے بال لڑکوں کے بالوں سے تجاوز کر جائیں تو اسے ناجائز تجاوزات سمجھا جاتا ہے جیسے شہر کی تجاوزات سے انتظامیہ دودوہاتھ کرتی ہے ایسے لڑکیاں اپنے بالوں سے چار چار ہاتھ کرتی ہیں دو اپنے اور دو گیسو تراش کے لہذا حکومت نے آج کل جہاں میڈیکل سٹورز کو پابندیوں سے مسنثنی رکھا ہے وہاں سیلون۔ بیوٹی پارلر وغیرہ کو بھی استثنی حاصل ہونا چاہئے تاکہ خواتین کی عزت نفس پر چوٹ نہ پڑے ۔

مزید :

رائے -کالم -