اینٹی کرونا وائرس ویکسین کی تیاری!

اینٹی کرونا وائرس ویکسین کی تیاری!
اینٹی کرونا وائرس ویکسین کی تیاری!

  

کرونا وائرس کو کرۂ ارض پر حملہ آور ہوئے چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے۔ لیکن اب بھی اس کی شدت کم نہیں ہو رہی۔ اموات کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ ہمارے نیوز چینلوں پر دنیا کے بڑے بڑے ممالک کے نام لے لے کر ان میں کرونا کا شکار ہونے والوں کی تعداد، اس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد اور مرنے والوں کی تعداد بتائی جا رہی ہے۔ جو کچھ آپریشن کنٹرول سنٹر سے بتایا جا رہا ہے، وہی کچھ ہر گھنٹے بعد نیوز بلیٹنوں میں اُگل دیا جاتا ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ بھی روزانہ پردہ ہائے سکرین پر نمودار ہوتے ہیں اور موصول شدہ تعداد کی تکرار کرکے چمپت ہو جاتے ہیں۔ وفاقی کابینہ کا روزانہ اجلاس بھی ہوتا ہے۔ اراکینِ کابینہ کی تصویریں بار بار دکھائی جاتی ہیں اور رہی سہی کسر فردوس عاشق اعوان صاحبہ پوری کر دیتی ہیں۔ اپوزیشن بے بس ہے۔ لیکن اس نے چونکہ اپوزیشن ہی کرنی ہوتی ہے اس لئے انتہا درجے کے لولے لنگڑے اعتراضات اٹھا کر اپنے کلیجے ٹھنڈے کر لئے جاتے ہیں۔ نیوز چینلوں کے نیٹ ورک چونکہ ہر صوبے میں پھیلے ہوئے ہیں، اس لئے ان کی طرف سے موصول ویڈیو فوٹیج دکھا کر سمجھ لیا جاتا ہے کہ آل پاکستان کوریج کا اہتمام کر لیا گیا ہے۔

کسی چینل پر کوئی ایسا پروگرام نشر نہیں ہوتا کہ جس میں بتایا جائے کہ کورونا وبا کو روکنے کے لئے بھی کوئی اساسی کوششیں ہو رہی ہیں یا نہیں …… کیا کسی ویکسین کی تیاری کی طرف بھی کوئی پیشرفت ہمارے ہاں ہو رہی ہے، کیا ترقی یافتہ ممالک کے سائنس دانوں اور وبائی امراض کے ماہرین سے بھی کوئی رابطہ کیا جا رہا ہے اور کیا ان ممالک میں کوئی ایسا ٹیکہ ایجاد کر لیا گیا ہے جس کے لگانے سے یہ وائرس ختم ہو جائے گا؟…… کیا میڈیکل جوہری سائنس دانوں نے کرونا وائرس کا کوئی ایسا کاؤنٹر وائرس بھی تیار کرنے کا سوچا ہے جو اس وبا کو چپ چاپ اسی سکیل، رفتار اور انداز سے ختم دے گا کہ جس سکیل، رفتار اور انداز سے یہ وائرس بنی نوعِ انسان پر حملہ آور ہوا ہے؟…… ہاں البتہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور چین میں کرونا وائرس کا انجکشن ڈویلپ کرنے کی طرف سفر کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ بعض خبروں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی ڈاکٹروں اور سائنس دانوں نے ایک ویکسین ایجاد کر لی تھی جو کامیاب نہیں ہوئی۔

چین کی ایک بڑی فارما سیوٹیکل کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک ایسی موثر ویکسین تیار کر لی ہے جس پر تجربات کئے جا رہے ہیں۔ AFP (ایجنسی فرانس پریس) کے مطابق ایک ماہ پہلے اس چینی کمپنی نے یہ ویکسین 8بندروں پر آزمائی۔ ان کو چار چار کے دو گروپوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک گروپ میں یہ انجکشن لگا کر تین ہفتوں تک انتظار کیا گیا۔ یہ 21،22دن وہ مدت ہوتی ہے جب کسی ویکسین کے اثرات انسانوں یا جانوروں کے اعضائے رئیسہ (دل، دماغ، جگر، گردے، پھیپھڑے وغیرہ) پر اپنے اثرات ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد بندروں کے اس گروپ کو کورونا وائرس کے سامنے نمودار (Exposed) کیا گیا تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ کورونا وائرس ان بندروں کے اعضائے رئیسہ پر حملہ آور ہوا ہے یا نہیں ہوا…… معلوم ہوا کہ یہ وائرس ان بندروں پر حملہ آور نہیں ہوا۔ سات روز تک انتظار کیا گیا اور معلوم ہوا کہ بندروں کے پھیپھڑوں پر بالخصوص اس وائرس نے کوئی اثر نہیں کیا۔

اس کے ساتھ ہی چار بندروں پر مشتمل ایک اور گروپ میں یہی ویکسین انجیکٹ کی گئی لیکن اس کی مقدار پہلے گروپ سے کم رکھی گئی۔ معلوم ہوا کہ اس دوسرے گروپ میں بھی کورونا نے کوئی خاص اور قابلِ تشویش اثرات مرتب نہیں کئے۔ ان تجربات کی کامیابی کے بعد اس فارماسیوٹیکل کمپنی نے اسی ویکسین کو انسانوں پر بھی آزمایا اور 19اپریل کو انسانوں پر تجربے کی تفاصیل دنیا بھر کے وبائی امراض کے ماہرین کے سامنے بھی رکھ دی گئی ہیں۔ چینی ماہرین اور دنیا کے دوسرے ماہرین اب اس انتظار میں ہیں کہ معلوم کیا جائے کہ اس ویکسین کے اثرات انسانوں پر کس طرح مرتب ہوتے ہیں۔ کیا ان کا اندرونی نظامِ مزاحمت (امیون سسٹم) اس ویکسین کو برداشت کرتا ہے یا نہیں۔ اگر کرتا ہے تو کس شدت سے کرتا ہے اور اگر نہیں کرتا تو اس کی شدت، کم شدت یا عدم شدت کی شرحِ اثر کیا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ ویکسین کامیاب ہو گئی تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ لیکن کہا جا رہا ہے کہ انسانوں پر تجربات کا یہ دورانیہ، بندروں پر تجربات کے دورانیے کی نسبت بہت زیادہ ہوگا۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس ویکسین کی سو فیصد کامیابی ستمبر 2020ء سے پہلے منظرِ عام پر نہیں آ سکے گی…… خدا کرے یہ تجربہ کامیاب ہو لیکن اگر کامیاب ہو بھی جائے تو مئی تا ستمبر کے پانچ ماہ میں یہ کورونا دنیا کی آبادی پر کیا غضب ڈھائے گا، اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ چار پانچ روز پہلے رشین ٹی وی (RT) پر ایک خبر وائرل ہوئی تھی کہ امریکہ میں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران اموات کی تعداد 3176 ہے…… اتوار 26اپریل کو بھی یہ تعداد مغربی میڈیا کے مطابق 2500سے زیادہ تھی۔ جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو ٹی وی پر جو گلوبل خبریں آ رہی ہیں، ان کے مطابق کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2لاکھ سے تجاوز ہو چکی ہے اور جو خلق خدا اس کا شکار ہو چکی ہے اور جو ہسپتالوں میں زیر علاج ہے اس کی تعداد 30لاکھ سے زیادہ ہے اور ان اعداد و شمار میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرینِ شماریات اندازہ لگا رہے ہیں کہ آنے والے ایام میں مرنے والوں کی تعداد 30لاکھ سے بڑھ جائے گی…… اور یہ آنے والے ایام زیادہ دور نہیں …… بالفرض اگر ستمبر تک کوئی کامیاب ویکسین منظر عام پر آتی بھی ہے تو اس وقت تک مرنے والوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ سکتی ہے…… اور یہ وہی تعداد ہے جو اپریل کے اوائل میں دی نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں بتائی گئی تھی، جس کا تعلق صرف انڈیا سے تھا اور پیشگوئی کی گئی تھی کہ صرف انڈیا میں مرنے والوں کی تعداد 5سے 7کروڑ تک چلی جائے گی…… آج پورے انڈیا میں اموات کی تعداد 825بتائی جا رہی ہے لیکن اس وائرس کی ہلاکت آفرینی کا اندازہ لگایئے کہ یہ سینکڑوں سے ہزاروں اور پھر ہزاروں سے لاکھوں اور کروڑوں تک کتنی عجلت سے پہنچتی ہے۔

فرض کیجئے کہ اگر چین یہ ویکسین ستمبر تک تیار بھی کر لیتا ہے تو اس کی عالمی مانگ کیسے پوری کر سکے گا؟ عالمی آبادی سات ارب سے زیادہ ہے۔ اول تو یہ ویکسین اتنی زیادہ مقدار میں بیک وقت تیار ہی نہیں کی جا سکے گی اور تیار کرنے کے امکانات اگر روشن بھی ہوئے تو اس کو دنیا بھر کے ملکوں میں لے جانا اور اس کو انجیکٹ کرنے کے لئے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی فراہمی کیسے ممکن ہو سکے گی؟…… یہ بھی دھیان میں رکھئے کہ امریکہ آج دنیا کی واحد سپرپاور ہے لیکن آج تک جو خبریں مل چکی ہیں ان کے مطابق کورونا وائرس سے اموات کے سلسلے میں بھی امریکہ ”سپرپاور“ ہے۔ ہر روز اگر 2500 امریکی جان کی بازی ہار دیں تو 35کروڑ کی آبادی کا یہ ملک کتنے ماہ میں کھنڈر میں تبدیل ہو جائے گا؟

میں اگلے روز فارن میڈیا پر ایک پروگرام دیکھ اور سن رہا تھا۔اس پروگرام میں ہماری طرح یہ رَٹ نہیں لگائی جا رہی تھی کہ کتنے لوگ کس صوبے میں کورونا کا شکار ہوئے ہیں، کتنے صحت یاب ہو کر گھروں کو واپس جا چکے ہیں، کتنے کرٹیکل ہیں، کتنے آئسولیشن وارڈوں میں ہیں اور کتنے جنرل میڈیکل وارڈوں میں داخل ہیں۔ ان لایعنی شماریات کے علی الرغم اس پروگرام میں مختلف شعبوں کے ڈاکٹروں کو اکٹھاکیا گیا تھا اور ملک بھر سے اس وائرس کے بارے میں مختلف طرح کے سوال پوچھے جا رہے تھے اور پھر ان سوالوں کے تفصیلی جواب بھی نشر کئے جا رہے تھے۔

ہمارے ہاں کوئی ڈاکٹر صاحب ٹی وی پر لایا بھی جاتا ہے تو اس سے گھسے پٹے التجایانہ لہجے میں وہی باتیں بار بار دہرائی جاتی ہیں جو زندگی کے دوسرے شعبوں سے متعلق ماہرین اور اہم شخصیات سکرین کی زینت بن کر بتاتے رہتے ہیں اور جو صرف اور صرف دو نکات پر مرکوز ہوتی ہیں …… یعنی ایک یہ کہ جو محدود رہے گا، وہی محفوظ رہے گا…… اور دوسرے یہ کہ سماجی فاصلے پر عمل کیجئے…… اور بس…… لیکن اِدھر ایک طرف یہ سندیسے دہرائے جا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف ملک کے بڑے بڑے شہروں میں ”سماجی فاصلوں“ کی پابندیوں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہوتی ہیں …… سڑکوں اور بازاروں پر رش، دکانیں کھلی ہوئی، موٹرسائیکلوں پر ننھے بچوں اور خواتین کو لے کر گھروں سے باہر نکلنا تاکہ ”ہوا خوری“ کے مزے لوٹے جا سکیں، مسجدوں میں تراویح کی نمازوں کا اجتماع اور اس میں اگرچہ فاصلے کی پابندی دکھائی جاتی ہے لیکن وسیع و عریض صحنوں میں سینکڑوں نمازی اکٹھے ہوں تو پھر ہجوم تو بن جاتا ہے۔ گھروں میں نماز ادا کرنے میں کیا قباحت اور کیا مجبوری ہے اس کا جواب دینی شعائر کے ان جانثاروں اور بزعمِ خویش ٹھیکے داروں سے پوچھئے کہ اگر مکہ مدینہ کی مساجد بند ہیں تو ہماری مساجد کیوں کھلی ہیں؟…… یہ قصور اس امام مسجد کا نہیں جو امامت کروا رہا ہے، نہ ہی اس قرآن خواں کا ہے جو ہر روز تراویح میں ایک پارہ مکمل کرکے آخرِ رمضان میں ختم قرآن کی تقریب کا امیدوار اور کسی مالی منفعت کا طلبگار ہوتا ہے!…… اللہ معاف کرے اگر زندگی اور موت کا سوال ہو تو کیا شعائرِ دینی کی متابعت اور کن فرائض، واجبات اور نوافل کی پابندیاں؟

میں ایک غیر ملکی ٹیلی ویژن چینل کے ایک پروگرام کا ذکر کر رہا تھا…… اس میں مختلف لوگوں نے جو سوال پوچھے، ان کا خلاصہ یہ تھا:

1۔ میڈیا میں جو خوف زدہ کرنے والے پروگرام آن ائر کئے جاتے ہیں، ان کو سن اور دیکھ کر نہ رات کو نیند آتی ہے نہ دن کو…… کیا کریں؟

2۔کیا کھانے میں کچا سبز سلاد کھایا جا سکتا ہے؟…… اسے کتنی بار کس قسم کے محلول یا سادہ پانی سے دھویا جائے؟

3۔عام ماسک اور قیمتی ماسک کے درمیان کیا صرف قیمت کا فرق ہی یا اور کچھ بھی ہے؟

4۔جس شخص کو کوروناوائرس کا اٹیک ہو جائے اور وہ صحت یاب ہو کر گھر چلا جائے تو کیا اس پر دوبارہ یہ وائرس حملہ کر سکتا ہے؟

5۔تنہائی کے عذاب سے بچنے کے طریقے کیا ہیں اور ان سے انسانی نفسیات پر جو اثرات مرتب ہو رہے ہیں ان کا مداوا کیا ہے؟

6۔کیا سماجی فاصلے کے تناظر میں اپنے ساتھی کے ساتھ سیکس انجوائے کی جا سکتی ہے؟

یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا اور چونکہ انگلش میں تھا اس لئے بعض پروفیشنل اصطلاحات جو ڈاکٹروں نے بتائیں ان کی تفہیم میرے سر کے اوپر سے گزر گئی…… لیکن میں سوچ رہا تھا کہ اس قسم کے پروگرام ہمارے کسی چینل / چینلوں پر بھی نشر کیوں نہیں ہو سکتے۔

مزید :

رائے -کالم -