کنویں کا مینڈک دنیا بارے رائے قائم نہیں کر سکتا

کنویں کا مینڈک دنیا بارے رائے قائم نہیں کر سکتا
 کنویں کا مینڈک دنیا بارے رائے قائم نہیں کر سکتا

  

کنویں کا مینڈک کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو کنویں کی منڈیر کے باہر کی دنیا بارے رائے قائم نہیں کر سکتا۔ چین کے شہر شنگھائی میں جولائی 2013 کی اس روشن مگر انتہائی تلاطم خیز صبح کی نا خوشگوار یاد ذہن کے کسی تاریک گوشے میں مدفون تھی جسے یہ کمبخت ٹی وی اکھاڑ کر باہر لے آیا اور خواہ مخواہ ہی منہ کا سارا ذائقہ کڑوا کر دیا۔ محض منہ کا ذائقہ ہی نہیں بدلا، بلکہ کل رات ہی گلا پھاڑ پھاڑ کر بیٹے کو دیا جانے والا وہ سارا لیکچر بھی جعلی لگنے لگا جو اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرنے بارے تھا۔ ٹی وی پر کورونا وائرس کے مریضوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد کی خبر کے ساتھ عوام سے گھروں کے اندر رہنے اور ہرممکن اتحاد کی اپیل چل رہی تھی اور ساتھ ہی یہ رپورٹ بھی کہ چین، جاپان اور جنوبی کوریا نے اپنے بے مثل ڈسپلن سے اس موذی وبا پر قابو پالیا ہے۔ ساتھ ہی دکھائی جانے والی فوٹیج میں ہمارے بہادر اور شیردل شہری بزدلی کا درس دینے والی ان ساری اپیلوں اور رپورٹوں کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے بازاروں اور چوراہوں پر کھوے سے کھوا اچھال کر ان اقوام کے ڈسپلن پر دو حرف بھیج رہے تھے۔

اس موئے ڈسپلن کے لفظ نے ہی مجھے وہ صبح یاد کرا دی جب شنگھائی کے پانچ ستارہ ہوٹل کے بریک فاسٹ لاؤنج میں داخل ہوتے ہی میری نگاہ ان درجن بھر لوگوں پر پڑی جو ایک بڑی میز کے گرد بیٹھے منتظر نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ لاؤنچ کے داخلی دروازے پر ناشتے کے اوقات 7 بجے تا 10 بجے درج تھے اور ابھی سات بجنیمیں پورے پندرہ منٹ باقی تھے۔ یہ شنگھائی میں میری پہلی صبح تھی اور میں تقریبا چالیس منٹ ہوٹل کے اردگرد کی سڑکیں ناپنے اور شنگھائی کے مرکزی اسکوائر کا نظارہ کرنے کے بعد کمرے میں جانے کے بجائے سیدھا ہی اس ڈائیننگ لاؤنج میں آ گیا تھا۔ نگاہیں ملتے ہی چپٹی ناک اور ڈوبی آنکھوں والے اس گروپ نے باجماعت مسکراتے ہوئے اس انداز میں مجھے خوش آمدید کہا گویا وہ میرے ہی انتظار میں یہاں بیٹھے تھے۔ میں نے بھی ان کی پر خلوص مسکراہٹوں کے جواب میں ہیلو ہائے کیا اور ابتدائی سلام دعا کے بعد میں اسی میز کی ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا اور سلسلہ جنبانی شروع ہوگیا۔ دوران تعارف پتہ چلا کہ یہ جاپان کی کچھ یونیورسٹیوں کے پروفیسرز ہیں جو ایک وفد کی شکل میں بیجنگ اور شنگھائی کی یونیورسٹیوں کے دورے پر ہیں۔

اڑے ہوئے سفید بالوں والا پروفیسر گروپ لیڈر تھا اور زیادہ تر وہی گفتگو کر رہا تھا۔ پروفیسر ہینا کو یونیورسٹی آف ٹوکیو کے شعبہ بزنس کے ڈین تھے اور ان کے وفد میں جاپان کی مشہور زمانہ اوساکا یونیورسٹی اور کیوشو یونیورسٹی سمیت دیگر یونیورسٹیوں کے اساتذہ شامل تھے۔ میں پچھلے چار دنوں سے انجنیرنگ،توانائی، مالیات ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر سے متعلق چین کے سرکاری اور نجی شعبے کے دیوہیکل اداروں کے سربراہان اور فیصلہ سازوں سے ہمکلام تھا حتی کہ تین سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر سفر کرنے والی بلٹ ٹرین میں بیجنگ سے شنگھائی کا پندرہ سو کلومیٹر کا سفر پانچ گھنٹے میں طے کرتے ہوئے بھی ہمارا ٹرین پارلر کانفرنس روم بنا رہا تھا کہ اس سفر میں بھی تقریبا پانچ اداروں کے وفود سے مذاکرات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مگر ایک استاد سے گفتگو کا اپنا ہی سرور اور الگ ہی چاشنی ہوتی ہے یا شاید مجھے ہی محسوس ہوتی ہے۔ پروفیسر ہیناکو امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی سے ایم ایس اور پی ایچ ڈی کرنے کے باعث انگریزی میں کمال کی فصاحت اور بلاغت رکھتا تھا اور اس کے منہ سے نکلتے انگریزی الفاظ موتیوں کی طرح محسوس ہوتے تھے۔

آمد کی وجہ پوچھنے پر میں نے اسے بتایا کہ میں وزیراعظم پاکستان کے اس وفد کا حصہ ہوں جو حکومت سنبھالنے کے محض تین ہفتے کے اندر چین کا دورہ کر رہا ہے اور گو کہ سی پیک اور انفراسٹرکچر بھی ہمارے بنیادی مقاصد میں شامل ہیں مگر ہمارا فوری مسئلہ توانائی کا شدید بحران اور شدید نوعیت کے اندھیرے ہیں۔ ایک خاتون پروفیسر کے سوال پر میں نے بتایا کہ ہماری بجلی کی پیداواری صلاحیت ہماری ضرورت کا محض 70 فیصد ہے۔ پروفیسر ہیناکو نے میری اس بات پر اثبات میں زور زور سے گردن ہلائی اور اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرکے کچھ غیر مانوس قسم کی آوازیں نکالتے ہوئے مجھے ترحم آمیز نظروں سے دیکھا۔ پھر وہ انگریزی میں مجھ سے مخاطب ہوا اور کہا کہ جاپان نے بھی اس مسئلہ پر بڑی شدید پریشانی دیکھی ہے۔ مارچ 2011 میں جب ریکٹر سکیل پر نو کی شدت کا زلزلہ ہمراہ سونامی آیا تھا تو اکثر بجلی گھر بند ہوگئے تھے جو بتدریج بحال ہوئے اور مکمل بحالی میں تقریبا دو سال لگے۔

یہ جان کر مجھے انتہائی خوشی ہوئی کہ چلو دنیا میں ایک ملک تو ایسا ہے جو ہماری لوڈشیڈنگ کی اذیت کو سمجھتا ہے لہذا میں نے اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی "پھر تو آپ نے بھی شدید لوڈشیڈنگ کا سامنا کیا ہو گا " کا جملہ پھینک دیا۔ پروفیسر نے حیران ہو کر مجھے دیکھا اور پوچھا یہ لوڈشیڈنگ کیا ہوتی ہے۔ یہ جان کر کہ اتنے بڑے پروفیسر کو لوڈشیڈنگ تک کا پتہ نہیں، میری انا کو ایک نا معلوم سی تسکین ملی اور میں نے لہک لہک کر اور چسکے لگا لگا کر انہیں بتانا شروع کیا کہ رسد اور طلب کے درمیان فرق کو ہم مختلف شہری اور دیہی علاقوں میں باری باری آٹھ آٹھ اور بارہ بارہ گھنٹے بجلی بند رکھ کر پورا کرتے ہیں اور اسی کو لوڈشیڈنگ کہا جاتا ہے۔ پروفیسرز احمقانہ انداز میں آنکھیں پھیلائے میرے اس لیکچر کو سن رہے تھے باالفاظ دیگر میری انا کو مزید تسکین پہنچا رہے تھے۔ جب میری بات ختم ہوئی تو بڑے پروفیسر صاحب نے فرمایا کہ ہمارے ملک میں پہلے کچھ ہفتوں کی ینگامی صورتحال کو چھوڑ کر ایک منٹ بھی بجلی بند نہیں ہوئی اور تقریبا" چالیس فیصد کمی کو جاپان نے بڑے نظم اور ترتیب سے بغیر بجلی بند کئے بتدریج پورا کیا ہے۔

اب حیران ہونے کی باری میری تھی۔ 30 فیصد کمی پر بارہ بارہ گھنٹے کی گرمی اور اندھیروں کا عذاب جھیلنے والا یہ کیسے یقین کرتا کہ چالیس فیصد کمی والے ملک میں لوڈ شیڈنگ کا نام و نشان تک نہیں تھا لیکن کنویں کا مینڈک اپنے اندازوں کی بنیاد بھی کنویں کے حالات پر ہی رکھتا ہے۔ میں نے پھٹتی ہوئی آنکھوں سے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہوا۔ پروفیسر نے کمال اطمینان سے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ کے سوال کا جواب زیادہ مشکل نہیں ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ ابتدائی بحالی کے بعد ہمارا منسٹر ٹیلیوڑن پر آیا اور اپنی منظم اور مربوط قوم سے درخواست کی کہ بجلی کا ہر صارف حالات کے پیش نظر اپنے استعمال کو 60 فیصد پر لے آئے مثلا" ایک ہزار یونٹ خرچ کرنے والا جاپانی اپنے خرچ کو 600 یونٹ پر لے آئے۔ پھر کچھ عرصے بعد جب بجلی کی پیداوار ستر فیصد پر آ گئی تو وزیر صاحب نے ستر فیصد کا اعلان کیا اور اسی طرح اسی اور نوے فیصد سے ہوتے ہوئے دو سال سے بہت کم عرصے میں ہم نے تمام بجلی گھروں کی مرمت و بحالی کرکے بجلی کی طلب کو پورا کر دیا۔

ایک زلزلہ مارچ 2011 میں جاپان میں آیا تھا اور ایک زلزلہ جولائی 2013 میں اس گفتگو کے دوران میری کرسی کے نیچے آیا جس کے آفٹر شاکس بہت دیر تک محسوس ہوتے رہے۔ ناشتے کے دوران عظیم قوم کے جید اور خوش اخلاق اساتذہ کی شگفتہ گفتگو جاری رہی، مگر اتحاد اور تنظیم کے علمبردار عظیم قائد کی منتشر اور خانماں برباد قوم کا یہ بدقسمت نمائندہ ندامت کے سونامی کے ان آفٹر شاکس کے زیر اثر اپنی پلیٹ پر سر جھکائے چھری کانٹے سے کھیلتا رہا اور آج بھی اپریل 2020 کی اس صبح کورونا کے بارے میں اس ٹی وی فوٹیج سے جولائی 2013 جیسا سونامی درپیش ہے۔ کنویں کا مینڈک کتنا بھی ذہین کیوں نہ ہو کنویں کی منڈیر سے باہر کی دنیا کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کر سکتا۔

مزید :

رائے -کالم -