پروڈیوسرکی تاریخی موضوع پر ڈرامہ بنانے کی منصوبہ بندی

پروڈیوسرکی تاریخی موضوع پر ڈرامہ بنانے کی منصوبہ بندی

  

لاہور(فلم رپورٹر)ترکش ڈرامے ”ارطغل غازی“کی پاکستان میں شاندار کامیابی سے متاثر ہوکر کئی پروڈیوسر تاریخی موضوع پر ڈرامہ بنانے کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر یہ ڈرامہ پہلی بار اردو ڈبنگ کے ساتھ پی ٹی وی پر دکھایا جارہا ہے اور اس کی پہلی قسط نے ہی ہلچل مچا دی تھی جس کے ساتھ ادبی و ثقافتی حلقوں میں یہ بحث بھی شروع ہوگئی کہ ہمارے ملک میں ایسے ڈرامے کیوں نہیں بنائے جاتے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ اس سلسلہ میں ہمایوں سعید اور خلیل الرحمنٰ قمر کے درمیان ابتدائی بات چیت بھی ہوگئی ہے کیونکہ دونوں کافی عرصہ سے ایسا پراجیکٹ بنانے کے خواہش مند ہیں۔

دوسری طرف اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خلیل الرحمنٰ قمر کا کہنا ہے میں اس کامیابی پر ترکی والوں کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے یہ طمانچہ مارا ہے،ہمیں شرم آنی چاہیئے کہ ہم نے اپنے ہیروز کو کتابوں میں بند کرکے رکھا ہوا ہے۔ہمارے پاس صرف وسائل کی کمی ہے ورنہ فنکار تو ہمارے ہاں بھی بہت اچھے اچھے موجود ہیں۔میں یمایوں سعید کو پچھلے 12 سال سے کہہ رہا ہوں تاریخی موضوع پر ڈرامہ بنایا جائے۔خلیل الرحمٰن قمر نے مزید کہا کہ ہم سے ہماری زبان چھین لی گئی ہے اور ہم اس وقت تک سنبھل نہیں پائیں گے جب تک جسم کی غلامی کے ساتھ ساتھ زبان کی غلامی سے آزاد نہیں ہوں گے۔جو لوگ دس سالوں سے ڈرامہ بنارہے ہیں میں نے ان سے کئی بار کہا کہ تم لوگوں نے تاریخ پر میرا قلم نہیں دیکھا۔میں نے 1935 کے واقعات بارے ایک ڈرامہ لکھا تھا جو اگر بن جاتا تو پاکستان میں رجحان ساز ہوتا۔خلیل الرحمٰن قمر نے مزید کہا ہمیں جان بوجھ کر گھسے پٹے موضوعات دیئے گئے۔

مزید :

کلچر -