بیروز گاروں، بجلی بلوں کیلئے 125ارب کا پیکیج منظور، آج سے ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن شروع، کورونا وائرس مزید 22افراد کی جان لے گیا 670نئے کیسز رپورٹ، متاثرین 14060ہو گئے

      بیروز گاروں، بجلی بلوں کیلئے 125ارب کا پیکیج منظور، آج سے ملک بھر میں ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کورونا وباء کے باعث چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کے 3 ماہ کے بجلی بل ادائیگی کی منظوری دیدی،تنخواہ کیلئے نجی اداروں کو قرض کی عدم ادائیگی پر نقصانات میں 30 فیصد نقصان حکومت برداشت کریگی،پاک ایران بارڈر پر باڑ لگانے کیلئے تین ارب روپے کی ضمنی گرانٹ بھی منظور کرلی گئی۔ پیر کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کے 3 ماہ کے بجلی بل ادائیگی کیلئے 50 ارب 69 کروڑ روپے مختص کرنے کی منظوری دیدی۔چھوٹا کاروبار اور صنعتی امداد پیکیج کے تک 95 فیصد کمرشل صارفین کو بجلی بل ادائیگی میں ریلیف فراہم کیا جائیگا، پانچ کلو واٹ سے 70 کلو واٹ لوڈ استعمال کرنے والے 72 فیصد صنعتی صارفین کو امداد فراہم کی جائیگی،سکیم کے تحت کمرشل صارفین کو ایک لاکھ اور صنعتی صارفین کو ساڑھے چار لاکھ روپے تین ماہ کیلئے امداد فراہم کی جائیگی۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اسکیم کیلئے ڈھائی ارب روپے مختص کرنے کی منظوری کمیٹی نے زرعی شعبے زرعی ٹیوب ویلوں ٹرانسپورٹرز اور مائیکرو فنانس سیکٹر کیلئے اس طرح کی اسکیم تیار کرنے کی ہدایت کر دی۔کمیٹی نے سٹیٹ بینک کو کاروباری شعبہ کو ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کی اسکیم میں کسی مسائل کے باعث قرض ادائیگی میں مشکلات آئیں تو حکومت کو اصل رقم کا تیس فیصد تک نقصان برداشت کرنا ہو گا،کمیٹی نے اقتصادی امور ڈویڑن کو جی ٹونٹی کی طرف سے قرضوں کی ادائیگی میں ری شیڈولنگ کیلئے مذاکرات کی اجازت دی تاہم ای اے ڈی کو معاہدہ کرنے سے پہلے کمیٹی سے پیشگی منظوری حاصل کرنا ہو گی،کمیٹی نے پاک ایران بارڈر پر باڑ کی تعمیر کیلئے تین ارب روپے کی اضافی ضمنی گرانٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی۔فاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ صنعت،کاروبار اور ملازمتوں سے متعلق ای سی سی نے دو پیکیج منظورکیے ہیں جو(آج) وفاقی کابینہ میں منظوری کیلئے پیش کیے جائیں گے،چھوٹے کاروبار والوں کے 3 ماہ بجلی کا بل حکومت اداکریگی، اس طرح 80 فی صد صنعتیں بجلی بل ادائیگی کے سلسلے میں مستفید ہوں گی،کورونا وباء کے باعث بے روزگار ہونے والوں کیلئے 75 ارب روپے کا پیکیج منظور کیا گیا ہے،ملازمت کھو دینے والے افراد کو 12 ہزار روپے فراہم کریں گے،متاثرہ لوگ خودکو پورٹل پر رجسٹرڈ کرائیں،منظور کئے گئے پیکیج کااطلاق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرپر بھی ہوگا۔ پیر کو وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چھوٹے کاروباروالوں کیلئے امدادی پیکیج کا اجرا کررہے ہیں،40سے60لاکھ افراد میں احساس کفالت پروگرام کے تحت رقم تقسیم کریں گے۔حماد اظہر نے کہاکہ کم آمدنی والیدیہاڑی دار افراد رجسٹریشن کراسکیں گے،امدادی پیکیج کیلئے75ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،یہ پیکیج کل منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیاجائیگا۔حماد اظہر نے کہاکہ صنعت،کاروبار، ملازمتوں سے متعلق دوپیکیج ای سی سی نے منظور کیے ہیں،وزارت صنعت اور احساس پروگرام مل کرپورٹ کااجرا کریں گے۔حماد اظہر نے کہاکہ پیکج کے تحت چھوٹے کاروبار والوں کا تین ماہ کا بل حکو مت دیگی،پیکیج کااطلاق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرپر بھی ہوگا۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کا چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی بحالی پروگرام بھی امدادی پیکیج منظور کیا گیا ہے،اس پروگرام سے 35 لاکھ کاروبار مستفید ہوسکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس پیکیج کے تحت 50 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں،اگلے تین ماہ تک بجلی کا بل حکومت ادا کرے گی۔انہوں نے کہاکہ پانچ کلو واٹ اور 70 کلو واٹ کے کمرشل میٹرز کے صارفین اس سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔حماد اظہر نے کہاکہ پچھلے سال کا مئی جون اور جولائی کے بلز میں یہ رقم لوڈ کردیا جائے گا،یہ رقم چھ ماہ تک بجلی کے بلوں میں شامل رہے گی،32 لاکھ کمرشل اور 4 لاکھ چھوٹی صنعتوں کو فائدہ ہوسکے گا،کراچی کے چھوٹے دکانداروں کو بھی اس کا فائدہ ہوگا،وزارت خزانہ ان اداروں کو فنڈز فراہم کرے گی۔، اس پیکیج سے 35 لاکھ افراد کو فائدہ ہوگا جن میں چھوٹی دکانیں، درزی، مارکیٹیں اور چھوٹی صنعتیں شامل ہیں۔ اس پالیسی سے 5 کلو واٹ کمرشل کنشکن والے کاروبار اور 70 کلو واٹ والے صنعتی کنکشن مستفید ہوں گے، اس سے ملک کے 95 فیصد کاروباروں اور 80 فی صد صنعتوں کو فائدہ ہوگا، ان کاروباروں کے پچھلے سال مئی، جون اور جولائی کے بجلی کے بلز کی جتنی مجموعی رقم بنتی تھی، اتنی رقم ان کے مئی کے بلز میں لوڈ کردی جائے گی، تاکہ وہ بجلی استعمال کرسکیں اور انہیں بلز نہ ادا کرنے پڑیں، یہ رقم ان کے اکاؤنٹ میں صرف تین ماہ کے لیے نہیں بلکہ 6 ماہ تک موجود رہے گی کیونکہ کاروبار تو ابھی بند پڑے ہیں، جب بھی کاروبار شروع ہوگا وہ اس رقم سے فائدہ اٹھاسکیں گے، 32 لاکھ کمرشل کنکشن اور 4 لاکھ چھوٹی صنعتیں مستفید ہوں گی، اس پیکیج کا حجم 50 ارب روپے ہے جو آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور کراچی میں کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی لاگو ہوگا، وزارت خزانہ ان محکموں کو ادائیگی کرے گی۔ وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ایک اور اہم پیکج کی منظوری دی ہے،وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے چھوٹے تاجروں کے لیے 50 ارب روپے کے وزیراعظم چھوٹا کاروبار امدادی پیکج جبکہ ملازمت سے نکالے جانے والے افراد اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے 75 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کردیا۔ جس سے پورے پاکستان میں 35 لاکھ کاروبار مستفید ہوں گے، اس پروگرام کا نام وزیراعظم کا چھوٹا کاروبار امدادی پیکج ہے۔مذکورہ پیکج کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ چھوٹے تاجر جب بھی اپنے کاروبار کا بنیادی سلسلہ دوبارہ شروع کریں تو ان کے اگلے 3 ماہ کا بل حکومت پاکستان ادا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کو ایسے نافذ العمل لائیں کہ جتنے لوگوں اور کمپنیوں کا 5 کلو واٹ تک کا کمرشل کنیکشن ہے، جو پورے پاکستان کے کمرشل کنیکشنز کا 95 فیصد بنتا ہے اور 70 کلو واٹ صنعتی کنیکشن رکھنے والے، جو تمام انڈسٹریل کنیکشنز کا 80 فیصد بنتا ہے وہ اس پالیسی سے مستفید ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے بل کا تخمینہ گزشتہ برس مئی، جون اور جولائی کے مہینے میں بجلی کے بل کا مجموعی حجم ملا کر اتنی رقم بل میں شامل کردی جائے گی تاکہ بجلی استعمال ہونے پر بل ادا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ رقم صرف 3 ماہ کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی جو 6 ماہ تک بل میں شامل رہے گی تاکہ جب بھی کاروبار کا سلسلہ شروع ہو یہ رقم استعمال میں لائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 32 لاکھ کمرشل کنیکشنز اور ساڑھے 3 سے 4 لاکھ چھوٹے تاجر اس پیکج سے مستفید ہوسکیں گے۔

امدادی پیکیج

اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور، مظفر آباد، گلگت بلتستان (سٹاف رپورٹرز، بیورورپورٹس، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک میں کورونا وائرس سے مزید 22 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 299 ہو گئی جبکہ نئے کیسز سامنے آنے سے مصدقہ مریضوں کی تعداد 14060 تک جا پہنچی ہے۔اب تک سب سے زیادہ اموا ت خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 104 افراد انتقال کر چکے ہیں،جبکہ سندھ میں 85 اور پنجاب سندھ میں 91 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستا ن میں 13، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں تین، تین افراد اس مہلک وائرس کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پیر کے روز ملک بھر سے کورونا کے مزید 739 کیسز سامنے آئے اور 22 اموات بھی رپورٹ ہوئیں جن میں سندھ سے 341 کیسز 4 ہلاکتیں، خیبر پختونخوا سے 120 کیسز 6 ہلاکتیں، پنجاب 194 کیسز 10ہلاکتیں، اسلام آباد سے 10 کیسز، گلگت بلتستان سے 2 کیسز جبکہ بلوچستان سے 72 کیسز اور 2 ہلاکتیں سامنے آئیں۔صوبے میں گزشتہ روزکورونا کے مزید 341 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 4 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ نے کی۔سندھ میں نئے کیسز کے بعد کورونا میں مبتلا افراد کی مجموعی تعداد 4956 ہوگئی اور اموات 85 تک جا پہنچی ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ کورونا کے 3946 مریض زیرعلاج ہیں جن میں سے 24 کی حالت خراب ہے۔ صو با ئی حکومت کے ترجمان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 53 افراد صحت یاب ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونیوالوں کی تعداد 925 ہوگئی ہے۔پنجاب سے کورونا کے مزید 194 مریض سامنے آئے اور 10 ہلاکتیں بھی ہوئیں۔صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق پنجاب میں کورونا کے نئے کیسز کے بعد مجموعی مریضوں کی تعداد 5640 اور ہلاکتیں 91 ہوگئی ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ 1306 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں کورونا وائرس کے مزید 10 کیسز سامنے آئے جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی۔نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 245 ہوگئی ہے جبکہ شہر میں اب تک وائرس سے 3 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔بلوچستان میں کورونا سے مزید 2 اموات سامنے آئیں جس کی تصدیق صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے کی گئی اور اس طرح صوبے میں مجموعی ہلاکتیں 13 ہوگئیں۔صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق بلوچستان میں پیر کو کورونا کے مزید 72 مریض سامنے آئے جس کے بعد وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 853 ہوگئی۔صوبائی محکمہ صحت کے مطابق بلوچستان میں اب تک کورونا کے 177 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔خیبر پختونخوا میں پیر کو کورونا وائرس کے 120 نئے کیسز اور 6 اموات بھی سامنے آئیں۔ مزید 6 افراد کی ہلاکت کے بعد صوبے میں اموات کی تعداد 104 ہوگئی۔صوبائی وزارت صحت کے مطابق پشاور میں 4، مالاکنڈ اور باجوڈ میں ایک ایک شخص کورونا سے جاں بحق ہوا۔ صوبے میں مزید 120 نئے کیسز کی تصدیق کے بعد کورونا مریضوں کی مجموعی تعداد 1984 ہوگئی ہے۔خیبرپختونخوا میں اب تک 533 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب ہوچکے ہیں۔گلگت بلتستان میں پیر کو مزید 2 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 320 ہوگئی ہے۔محکمہ صحت کے مطابق مزید 3 افراد کے صحت یاب ہونے کے بعد اب تک 222 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔گلگت بلتستان میں اب تک کورونا وائرس سے 3 افراد کا انتقال ہوا ہے۔آزاد کشمیر میں پیر کو کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا البتہ اتوار کو مزید 4 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 59 ہوگئی ہے۔ادھرکراچی کے علاقے لانڈھی کے رہائشی کورونا مشتبہ مریض نے ہسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی۔ ڈاکٹروں کے مطابق خود کشی کرنے والا شخص نشہ کا عادی اور ذہنی مریض تھا۔ متاثرہ شخص کو فوری زخمی حالت میں ایمرجنسی لے جایا گیا جہاں وہ دوران علاج انتقال کر گیا۔ کورونا کے مشتبہ مریض نے آئسولیشن وارڈ کی کھڑی توڑ کر چھلانگ لگائی تھی۔ اسے کل ہی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ترجمان حکومت بلوچستان کے مطابق دو روز کے دوران 72 مقامی افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی، صوبے میں 151 زائرین کیساتھ کل متاثرہ افراد کی تعداد 853 ہو گئی ہے۔ متاثرہ افراد میں 64 کا تعلق کوئٹہ، 6 پشین، 1 مستونگ اور 1 کا تعلق زیارت سے ہے۔وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کی صورت حال کے پیش نظر آج سے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کی منظوری آ گئی ہے جس کے بعد آج سے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ہوگا۔نیب آرڈیننس ترمیمی بل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن سے کچھ مشاورت ہوئی تھی، اب مشاورت سے نیا نیب آرڈیننس لائیں گے۔

پاکستان کورونا

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 29 لاکھ 94ہزار 958ہو چکی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 2 لاکھ 6 ہزار 997 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 19 لاکھ 9 ہزار 6 مریض اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بیشتر کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 8 لاکھ78 ہزار 955 مریض اس بیماری سے نجات پا کر اسپتالوں سے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔امریکی میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ناصرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 55 ہزار 415 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 87 ہزار 322ہو چکی ہے۔امریکا کے اسپتالوں میں 8 لاکھ 13 ہزار 126 کورونا مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 1 لاکھ 18 ہزار 781 کورونا مریض اب تک شفا یاب ہو چکے ہیں۔اسپین میں کورونا کے اب تک 2 لاکھ 26 ہزار 629 مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں جب کہ اس وباء سے اموات 23 ہزار 190 ہو چکی ہیں۔اٹلی میں کورونا وائرس کی وباء سے مجموعی اموات 26 ہزار 644 ہو چکی ہیں، جہاں اس وائرس کے اب تک کل کیسز 1 لاکھ 97 ہزار 675 رپورٹ ہوئے ہیں۔فرانس میں کورونا وائرس کے باعث مجموعی ہلاکتیں 22 ہزار 856 ہوگئیں جبکہ کورونا کیسز 1 لاکھ 62ہزار 100 ہو گئے۔جرمنی میں کورونا سے کْل اموات کی تعداد 5 ہزار 976 ہو گئی جبکہ کورونا کے کیسز 1 لاکھ 57 ہزار 770 ہو گئے۔برطانیہ میں کورونا سے اموات کی تعداد 20 ہزار 732 ہوگئی جبکہ کورونا کے کیسز کی تعداد 1 لاکھ 52 ہزار 840 ہو گئی۔ترکی میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار 805 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 10 ہزار 130 ہو گئی۔ایران میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 5 ہزار 710ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 90 ہزار 481 ہو گئے۔چین جہاں دنیا میں کورونا کا پہلا کیس سامنے ا?یا وہاں اس وائرس سے کل ہلاکتیں 4 ہزار 633 ہو گئی ہیں جبکہ کْل کورونا کیسز 82 ہزار 830 ہو گئے۔کورنا وائرس سے روس میں کل اموات747 ہو گئیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 80 ہزار 949 ہو چکی ہے۔سعودی عرب میں کورونا وائرس سے اب تک کل اموات 139 رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 17 ہزار 522 تک جا پہنچی ہے۔ترکی میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس سے مزید 106 افراد جان کی بازی ہار گئے اور حکام نے 2861 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کی وزارت صحت نے بتایاکہ ملک میں اب کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2706 ہوگئی ہے اور اس وقت اس مہلک وَبا سے متاثرہ کل کیسوں کی تعداد 107770 ہوچکی ہے۔دوسری طرف برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور اسپین میں کورونا سے یومیہ ہلاکتوں میں واضح کمی ہوئی ہے۔ برطانیہ میں مزید 413 افراد کورونا سے ہلاک ہو گئے جبکہ اسپین میں 288 اور اٹلی میں مزید 260 افراد ہلاک ہوئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس میں 242 افراد ہلاک ہوئے جو ایک روز پہلے کے مقابلے میں ایک تہائی کم تھے۔ فرانس میں کورونا وائرس سے اب تک 22 ہزار 856 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار 732 تک جا پہنچی ہے۔اٹلی میں 260 افراد ہلاک ہوئے اور یہ تعداد پچھلے ایک ماہ میں سب سے کم ہے، اٹلی میں 26 ہزار 856 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ تعداد امریکا کے بعد سب سے زیادہ ہے، اٹلی اپنی چھ فی صد آبادی کا کورونا ٹیسٹ کر چکا ہے۔روس میں مریضوں کی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کر گئی لیکن روس میں شرح اموات بڑی حد تک قابو میں ہے۔ کویت کی وزارتِ صحت نے کرونا وائرس کے 183 نئے کیسوں اور ایک موت کی تصدیق کی ہے۔اس ننھی خلیجی ریاست میں اس مہلک وبا کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 3057 ہوگئی ہے۔امریکا میں کورونا مریضوں کی تعداد دس لاکھ کے قریب پہنچ گئی جبکہ 55 ہزار کے قریب افراد جان سے جا چکے،۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا میں کورونا مریضوں کی تعداد اب تک نو لاکھ 76 ہزار سے زائد ہو چکی ہے، نیویارک میں دو لاکھ 93 ہزار افراد میں کورونا وائرس پایا گیا ہے یوں صرف ریاست نیویارک کے ایک اعشاریہ پانچ فی صد باشندے کورونا کا شکار ہو چکے ہیں۔نیویارک میں اب تک 8 لاکھ 5 ہزار ٹیسٹ ہو چکے ہیں جو ریاست کی کل آبادی میں سے چار اعشاریہ ایک فی صد کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔نیویارک کے گورنر نے دواخانوں اور فارمیسی میں بھی کورونا ٹیسٹ کی اجازت دے دی ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ اب ٹیسٹوں کی تعداد میں اور اضافہ ہوگا۔امریکا اب تک 53 لاکھ 81 ہزار افراد کا کورونا ٹیسٹ کر چکا ہے۔

عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -