یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افرا د پریشان اور کسمپرسی کا شکار ہیں: میئر کراچی

  یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افرا د پریشان اور کسمپرسی کا شکار ہیں: میئر ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی وسیم اختر نے آل سٹی تاجر اتحاد کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد پریشان اور کسمپرسی کا شکار ہیں حکومت فوری طور پر ان مزدوروں اور محنت کشوں کے لئے پیکیج کا اعلان کرے، میئر کراچی سے ملنے والے وفد کی قیادت چیئرمین آل سٹی تاجر اتحاد حکیم شاہ کررہے تھے، ڈپٹی میئرکراچی سید ارشد حسن، سینئر ڈائریکٹر کو آرڈینیشن مسعود عالم، ڈائریکٹر فنانس محمد عمران، سینئر ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ بشیر صدیقی اور دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ کے ایم سی کی 43 مارکیٹوں کی 7500 دکانوں کا دو ماہ کا کرایہ رواں مہینے نہ لینے کا اعلان کیا ہے یہ کرایہ اگلے مالی سال کے چار مہینوں میں اقساط کی صورت میں وصول کیا جائے گا، جس کا تاجروں اور اسمال ٹریڈرز کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ کے ایم سی ان دکانوں سے ماہانہ 66لاکھ 66 ہزار روپے اور کم و بیش سالانہ 8 کروڑ روپے کرائے کی مد میں وصول کئے جاتے ہیں اور یہ رقم ان مارکیٹوں کی تز ئین وآرائش اور تعمیر و مرمت پر خرچ کی جاتی ہے، میئر کراچی نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے خبر دار کیا ہے کہ مئی کا مہینہ کورونا وائرس کے حوالے سے سخت ثابت ہوسکتا ہے جبکہ عالمی اور مقامی ماہرین بھی اس سے آگاہ کررہے ہیں، یہ بات سب تسلیم کرتے ہیں کہ اس ہولناک بیماری کا مقابلہ صرف احتیاط سے ہی ممکن ہے لیکن دوسری جانب یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اسمال ٹریڈرز اور چھوٹے دکاندار وں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے ہیں، لوگ فاقہ کشی کا شکار ہو رہے ہیں، اگر حکومت نے اس کا تدارک نہ کیا تو کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطر ناک نتائج سامنے آسکتے ہیں، انہوں نے کہاکہ پوری دنیا ایک خطر ناک راستے پر کھڑی ہے جس کی بنیادی وجہ کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ معیشت کی تباہی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ آل سٹی تاجر اتحاد کے مطالبات کو درست سمجھتے ہیں اور حکومت سے ایک بار پھر کہتا ہوں کہ بیان بازی کے بجائے حقیقی اقدامات کئے جائیں، انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک اور عید کے حوالے سے جو کاروبار کو عروج حاصل ہوتا تھا وہ بھی اس مرتبہ لاک ڈاؤن کے باعث شدید متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے کئی معا شی اور سماجی مسائل جنم لے رہے ہیں، وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کے باعث ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کردی ہے لیکن شہریوں کو کسی قسم کا کوئی پیکیج نہیں دیا گیا، انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں تعلیم کا تناسب انتہائی کم ہونے کے باعث آن لائن کاروبار نہیں چل سکتا، کروڑوں افراد آن لائن خریدو فروخت کے عمل سے واقف ہی نہیں ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروز گاری میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے کاروباربند ہوگئے ہیں لہٰذا لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے اگر یہی صورتحال جاری رہی تو مزید 10 فیصد آبادی خطہ غربت سے نیچے چلی جائے گی اور کم و بیش 30 لاکھ افراد ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، آل سٹی تاجر اتحاد کے چیئرمین حکیم شاہ نے اس موقع پر میئر کراچی کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اسمال ٹریڈرز اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمی وباء نے کاروبار پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں اور اس سے نکلنے کے لئے ہمیں شدید جدوجہد کی ضرورت ہوگی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -