تاجروں کو ایس او پیز کے ساتھ کاروبا ر کی اجازت دی جائے: حافظ نعیم الرحمن

تاجروں کو ایس او پیز کے ساتھ کاروبا ر کی اجازت دی جائے: حافظ نعیم الرحمن

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے کاروبار بند ہے لیکن حکومت نے کاروبار کھولنے کا عندیہ تو دیا لیکن تاحال کوئی ٹھوس فیصلہ اور اقدامات نہیں کرسکی،تاجروں نے آن لائن کاروبار کو مسترد کردیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور تاجروں کے درمیان 19اپریل کو ہونے والے مذاکرات میں جو ایس او پیز طے کی گئیں تھیں کے مطابق کراچی میں کاروبار کو کھولنے کی اجازت دی جائے۔ حکومت تاجروں کا مسئلہ حل کرے، جب ملک کے دیگر صوبوں میں ایس اوپیز کے ساتھ کاروبار کھل سکتے ہیں تو کراچی میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا،کراچی میں کاروبار کا حجم ملک کے کسی بھی شہر سے زیادہ ہے اور ملکی معیشت میں اس کا کردار بہت اہم اور کلیدی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تاجروں کو ایس او پیز کے ساتھ کاروبار کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث پیداہونے والے مسائل کو حل کرے،موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ختم کی جائے، پولیس کے رویے کی شکایات دور کی جائیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ لاک ڈاؤن کے دوران شہر میں اور بھی بہت سے مسائل پیدا ہورہے ہیں اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے عوامی شکایات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،شہریوں کو گھروں تک محدود رکھنے اور شہر کے اندر سفر پر پابندیوں کے لیے اہم سڑکوں اور شاہراؤں پر روکاوٹیں لگائی گئی ہیں جہاں ایسے افراد کو بھی روکا جارہا ہے جن کو لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ قراردیا گیا ہے بالخصوص ڈاکڑوں، پیرا میڈیکل اسٹاف، صحافیوں اور لاک ڈاؤن میں شہریوں کی خدمت میں مصروف این جی اوز کے وہ رضاکارشامل ہیں جن کی ایمرجنسی ڈیوٹی لگائی گئی ہے، ان کو نہ روکا جائے۔علاوہ ازیں ڈبل سواری پر پابندی سے خواتین کو استثنیٰ تو دیدیاگیاہے مگر ڈبل سواری کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ عمومی طور پر پولیس کا رویہ اور سلوک انتہائی نامناسب دیکھنے میں آرہا ہے۔کراچی میں تعینات بہت سے پولیس افسران اور اہلکار کراچی کے مسائل اور مزاج سے ناواقف ہیں اس لیے ان کے رویے شہریوں میں اشتعال پیدا کرتے ہیں،حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ لاک ڈاؤن کی پابندیوں پر عمل کرنا ہر شہری کا فرض ہے تاہم حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ان پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والے حقیقی مسائل کو حل کرے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -