رحیم یار خان: قرنطینہ میں موجود افراد سے ناروا سلوک کا انکشاف

  رحیم یار خان: قرنطینہ میں موجود افراد سے ناروا سلوک کا انکشاف

  

رحیم یار خان (بیورورپورٹ)کورونا وائرس کو شکست دینے میں کامیاب ہونے والے افراد کو گھروں کیلیے روانہ کرنے کیلیے شیخ خلیفہ قرنطینہ سینٹر میں ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کی آمد کا سن کر قرنطینہ سینٹر میں موجود افراد نے سی او ہیلتھ ڈاکٹر سخاوت رندھاوا کو ڈی سی رحیم یارخان سے ملاقات کرنے اور شکائیت لگانے کا کہا جس پر سی او ہیلتھ نے ڈی سی رحیم یارخان کو ماموں بنا کر واپس بھیجوا دیا، ڈپٹی کمشنر علی شہزاد اور اسٹنت کمشنر ریاست علی کے واپس جاتے ہی قرنطینہ سینٹر سے صحت(بقیہ نمبر37صفحہ7پر)

یاب افراد کو گھروں کیلیے روانہ کرنے پر باہر نکالا گیا،میڈیا نمائندگان کو دیکھتے ہی سینٹر میں موجود افراد پھٹ پڑے،ناقص انتظامات، سی او ہیلتھ سمیت عملہ کی بدسلوکیاں بیاں کرنے لگے جس پر موقع پر موجود ڈاکٹر نے زبردستی قرنطینہ سینٹر کے باہر موجود افراد جس میں خواتین اور مرد شامل تھے اْنہیں فوری واپس اندر بھیجوا کر گیٹ بند کروادیا اور تھانہ بی ڈویڑن کی پولیس کو موقع پر بلا لیا گیا، باوثوق زرائع کے مطابق رحیم یارخان شیخ خلیفہ قرنطینہ سینٹر میں موجود افراد کو دو ماہ سے رکھا گیا تھا،جن میں مرد خواتین شامل ہیں جن کیساتھ محکمہ ہیلتھ کے سی او سخاوت رندھاوا اور عملہ بدسلوکی سے پیش آتا تھا، گذشتہ روز ڈپٹی کمشنر کی آمد کی اطلاعات موصول ہونے پر قرنطینہ سینٹر میں موجود شخص نے سی او ہیلتھ کی شکائیت لگانے کا کہ دیا جس پر سی او ہیلتھ نے موقع پر آئے ڈپٹی کمشنر کو یہ کہ کر ماموں بنا دیا کہ قرنطینہ سینٹر کے تمام افراد کہتے ہم نے جانا ہے جس پر مسئلہ بن جائے گا،آپ واپس چلے اور ڈی سی کو اپنے ساتھ لے گئے بعدازاں دو منٹ بعد ہی قرنطینہ سینٹر میں موجود افراد کو باہر نکال کر گھروں کیلیے روانہ کیاجا رہاتھا جس پر میڈیا نمائندگان کو دیکھ کر مریض پھٹ پڑے،قرنطینہ سینٹر میں موجود ایک شخص نے بتایا کہ ہمیں دو ماہ سے یہاں رکھاہوا ہے،اور ہمارے ساتھ مْسلسل بدسلوکی سے پیش آیا جاتا ہے،جب بھی کوئی وزیر یا آفیسر موقع پر آئے ہیں سی او ہیلتھ نے ہم سے انہیں دور رکھا تاکہ ان قرنطینہ سینٹر میں ہونے والے ظلم و ستم کی خبر نہ مل سکے۔

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -