4 بجے دکانوں کی بندش سے خریداری پر قدغن لگانے کے مترادف ہے،سرحد چیمبر

  4 بجے دکانوں کی بندش سے خریداری پر قدغن لگانے کے مترادف ہے،سرحد چیمبر

  

پشاور (سٹی رپورٹر)سر حد چیمبر آف کا مر س اینڈ انڈ سٹری کے صدر ا نجینئر مقصو د ا نور پرویز نے کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں شام 4بجے سے بند کرنے کے فیصلے کو تاجر برادری کے معاشی قتل اور روزہ داروں کی خریداری پر قدغن لگانے کا ظالمانہ اقدام قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ضلعی انتظامیہ اور تاجروں کے درمیان مشاورت سے دکانیں کھلی رکھنے کے لئے اوقات کار مقرر کیا جائے تاکہ کورونا لاک ڈاؤن سے متاثرہ تاجروں کو مزید نقصانات سے بچایا جاسکے۔ سر حد چیمبر آف کا مر س اینڈ انڈ سٹری کے صدر ا نجینئر مقصو د ا نور پرویزنے گذشتہ روز ایک اجلاس کی صدر ات کرتے ہو ئے کہا ہے کہ تا جر بر داری پہلے ہی سے کور ونا لا ک ڈا ون کی و جہ سے کا فی مشکلات کا سا منا کر رہی ہے اورحکو مت کی جا نب تاجروں کوصبح سے چاربجے تک دکانیں بندکرنے کے فیصلے کے بعد انکی مشکلات میں مزید اضافہ ہو ا ہے جو کہ سر اسر زیا دتی اور کسی صو رت بھی قا بل قبو ل نہیں ہے۔ حکو مت ایک مربو ط ایس او پیز کے تحت مر حلہ وار با زاروں، ما رکیٹیوں اور دکانوں کو کھلنے کی اجا زت دیں کیو نکہ تا جر برادری اور کار وبار مزید لاک ڈاون کے متحمل نہیں ہے۔انھو ں نے اس با ت پر زور دیا حکو مت کے تما م متعلقہ ما تحت اداروں فیصلوں کو نا فذ العمل کرنے قبل سر حد چیمبر، تا جر ایسوسی ایشنز اور با زار و دکانداروں کی یوینز کو ا عتما د میں لیں تا کہ حکو مت اور تا جر وں کے درمیان کسی قسم کی خلیج نہ پید ا ہو اور فیصلو ں کو من و عن نا فذ کرنا بھی ممکن بنایا جاسکے۔اجلا س میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر غضنفر بلور‘ سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر شاہد حسین اور نائب صدر عبدالجلیل جان،سرحد چیمبر کے سابق صدور ریاض ارشد‘ حاجی محمد افضل‘ عدیل رؤف‘ انجمن تاجران پشاورکے چیئرمین شوکت علی خان بھی موجود تھے۔ سر حد چیمبر کے صدر ا نجینئر مقصو د ا نور پرویز نے کہا ہے کہ رمضان کے مہینے میں شام چاربجے کے بعدہی شہری سوداسلف کیلئے بازاروں کارخ کرتے ہیں لیکن حکومت نے چاربجے کے بعدہرقسم کی دکانیں مکمل طورپربندرکھنے کااعلان کرکے دکانداروں کے ساتھ ساتھ شہریوں کوبھی مایوس کردیاہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سی این جی اسٹیشنز کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے لئے واضح نوٹیفیکیشن جاری کیاگیا ہے تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سی این جی اسٹیشنز کو بے جا بند کرنا حکومتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کی جانب سے سی این جی اسٹیشنز کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کیلئے جاری کردہ نوٹیفیکیشن پر فوری طور پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -