اے این پی کسی صورت اٹھارویں آئینی ترمیم میں ردوبدل برداشت نہیں کریگی، اسفند یارولی

اے این پی کسی صورت اٹھارویں آئینی ترمیم میں ردوبدل برداشت نہیں کریگی، اسفند ...

  

 پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کو چھیڑنے سے خطرہ صرف کپتان اینڈ کمپنی کو نہیں بلکہ پورے پاکستان کو ہوگا،اے این پی کسی صورت اٹھارویں آئینی ترمیم میں ردوبدل برداشت نہیں کریگی بلکہ این ایف سی ایوارڈ میں بھی اگر صوبوں کے حصے سے کٹوتی ہوتی ہے تو یہ بھی اٹھارویں آئینی ترمیم پر حملہ تصور ہوگا اور اے این پی اُس صورت میں بھی کسی کو یہ اختیار نہیں دیگی کہ وہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کریں۔ باچا خان مرکز پشاور سے جاری اپنے بیان میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ 25اپریل کو آٹا چینی چور کمیشن کا فیصلہ آنا تھا لیکن اپنوں کے کارناموں پر کچھ دن مزید پردہ ڈالنے کیلئے اٹھارویں ترمیم میں ردوبدل کا شوشہ چھوڑا گیا،کپتان یاد رکھیں کہ اُس کے زوال کے دن شروع ہوچکے ہیں،اب وہ اگر چاہے بھی تو آٹا چینی چور کمیشن سے اپنے انوسٹرز نہیں بچا سکتے، کپتان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو کچھ ماہ تک کپتان کسی کے آشیرباد سے اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ کررہا تھا۔ اے این پی سربراہ اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ میں ردوبدل یا اُس کا خاتمہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں،اٹھارواں آئینی ترمیم ان آئین کا حصہ بن چکی ہے،تین ووٹوں کی اکثریت والی سرکار کی کیا مجال ہوسکتی ہے کہ وہ تاریخی اٹھارویں آئینی ترمیم کو چھیڑیں؟اگر کپتان نے واقعی اٹھارویں آئینی ترمیم میں ردوبدل کا سوچا بھی تو یہ سودا اُس کیلئے بہت مہنگا ثابت ہوگا کیونکہ اُس کو پھر پاکستان میں سر چھپانے کیلئے چھت بھی میسر نہیں ہوگی،اٹھارویں آئینی ترمیم میں چھیڑ چھاڑ پاکستان کے آنے والے نسلوں سے زیادتی کے مترادف ہے۔ اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پاکستان میں مضبوط مرکز کی سیاست ایک بار ناکام ہوچکی ہے،اگر اٹھارواں آئینی ترمیم ہوتا تو مشرقی پاکستان کبھی بھی بنگلہ دیش نہ بنتا۔ اٹھارواں آئینی ترمیم پاکستان کے حفاظت اور اتحاد کا ضامن ہے،اگر اٹھارویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی بھی قدم اُٹھایا گیا تو یہ پاکستان کے خلاف سازش تصورہوگی،عوامی نیشنل پارٹی اٹھارویں ترمیم کے دفاع میں ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ پارلیمان کی بالادستی اور صوبوں کی خودمختاری ہماری اولین سیاسی ترجیح ہے۔اے این پی سربراہ نے کہا کہ اس وبائی صورتحال میں بھی کپتان کے ایسے اقدامات پاکستان کے ساتھ ظلم کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں،کپتان کو ہوش کے ناخن لینے ہونگے کہ اُس کے ایسے ایک عمل سے کس قدر طوفان اُٹھ سکتا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -