فاقوں سے بیوی، بچوں کے چہری زردے جسم پر ارزہ، امداد نہ راشن، غریب مزدور نے قبر میں پناہ ڈھونڈلی

فاقوں سے بیوی، بچوں کے چہری زردے جسم پر ارزہ، امداد نہ راشن، غریب مزدور نے ...

  

کوٹ ادو، مظفر گڑھ،(تحصیل رپورٹر، نامہ نگار، نمائندہ پاکستان)حکومتی امداد ملی نہ ہی راشن، 6 بچوں کے باپ نے لاک ڈاؤن کے باعث بھوک اور غربت سے تنگ آکر موت کا گلے لگالیا، بچوں کی طرف سے پانی پی کر روزہ رکھنے پر بیروزگار شخص نے دل برداشتہ ہوکر گندم کی (بقیہ نمبر11صفحہ6پر)

گولیاں کھاکر زندگی کا خاتمہ کرلیا،پوسٹمارٹم کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی گئی۔ تفصیل کے مطابق کوٹ ادو وارڈ نمبر14محلہ بیری والا کے رہائشی اللہ ڈیوایا چانڈیہ مرحوم کا بیٹا نذیر حسین چانڈیہ جو کہ پرائیویٹ لیب ٹیکنیشن تھا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی روز سے بے روز گار تھا، 45سالہ نذیر حسین غربت اور بیروزگاری کے باعث بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے پریشان تھا اور بچیوں کو بھوک اور پانی سے روزہ رکھتے دیکھ کر نذیر احمد نے گزشتہ روز 2بجے دن گندم میں رکھنے والی گولیاں کھاکر زندگی کا خاتمہ کرلیا، خودکشی کرنیوالینذیرحسین کی بیوہ کے مطابق ایک ماہ سے کام بند تھا،حکومت کی جانب سے امداد رقم12ہزار روپے بھی نہ ملی جس کی وجہ سے دل برداشتہ ہوکر خود کشی کی ہے، جبکہ متوفی نذیرحسین کی بچیوں کے مطابق گھر بھی کرایہ کا ہے ابو سے ہماری بھوک برداشت نہ ہوئی اور گھر کھانے کو کچھ نہیں تھا ابو لاک ڈاؤن کی وجہ سے پریشان تھے جسکی وجہ سے گولیاں کھالیں، پوسٹمارٹم نہ کرانے کے لیے اہلخانہ نے احتجاج کیا جس پر پولیس نے اہلخانہ کو مجسٹریٹ کو درخواست دینے کے لیے مذاکرات کیے،مجسٹریٹ کو درخواست دینے پر انہوں نے درخواست کارج کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم جاری کیا،پوسٹمارٹم کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی گئی،دوسری طرف نذیر حسین کی خود کشی کی خبر پورے شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی اور ہر آنکھ اشکبار تھی،نذیر حسین جو کہ کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر تھا اور ایک سال پہلے اپنا مکان فروخت کرکے اپنی 2بیٹیوں کی شادی کر دی تھی جبکہ 3بیٹیاں ابھی کنواری تھیں اور ایک چھوٹا بیٹا بھی تھا۔

خود کشی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -