وفاق کی جانب سے فنڈز میں کٹوتی، ریونیو بھی کم جمع ہوا ہے: ناصر حسین شاہ

وفاق کی جانب سے فنڈز میں کٹوتی، ریونیو بھی کم جمع ہوا ہے: ناصر حسین شاہ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز میں کٹوتی ہوئی ہے، ہماری اپنی ریونیو بھی کم جمع ہوئی ہے اور کورونا وائرس کے باعث مزید کم ہونے کا امکان ہے،کورونا وائرس کے پیش نظرمعاشی مشکلات درپیش ہیں۔ سندھ کابینہ کے اراکین نے جون 2020 تک تنخواہیں نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔سندکابینہ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ناصرشاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کابینہ نے تین ماہ کی تنخواہیں نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں ٹڈی دل سے نقصانات کا بھی اندیشہ ہے،وفاق نیٹڈی دل کے حوالے سے اسپرے کا کہا تھا جس پر عمل نہیں ہوا۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صوبے میں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔سندھ حکومت نے کابینہ اجلاس میں کورونا آرڈیننس 2020 کو منظور کرکے اسے گورنر کو بھیجنے کی منظوری دیدی، آرڈیننس میں نجی اسکولوں کی فیسوں میں 20 فیصد کمی سمیت کسی ادارے سے ملازم کو نہ نکالنے اور تنخواہ دینے کو یقینی بنانے کے نکات بھی شامل ہیں۔ آرڈیننس کے تحت ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اورتمام کمشنرز کو مجسٹریٹ کے اختیارات دیئے گئے ہیں، یہ پاور سی آر پی سی میں ترمیم کرنے کے بعد ڈیلیگیٹ کئے گئے ہیں۔آرڈیننس کا نام سندھ کووڈ 19 ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس 2020 رکھا گیا ہے اور اس کے مطابق نجی اسکولوں کی فیسوں میں 20 فیصد کمی کی اصولی منظوری دی گئی ہے، فیس میں رعایت اپریل اور مئی 2020 کے لیے ہوگی۔آرڈیننس کیمتن میں کہا گیا ہے کہ کوئی ملازم نوکری سے نکالا نہیں جائے گا، نجی سیکٹرمیں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہ دینے کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔آجر کو فائدہ دینے کیلئے آرڈیننس میں کچھ کٹوتی کی بھی اجازت دی گئی ہے، تنخواہ کیسلیب نوٹیفائی ہونگے۔آرڈیننس شیڈول ٹو کے تحت بجلی کے بل میں رعایت دی گئی ہے، رہائشی علاقوں کے پانی کے ماہوار بل میں بڑی رعایت دی گئی ہے جبکہ گیس کھپت اور گھروں کے کرایوں میں بھی رعایت دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ اور ارکان سندھ اسمبلی ایک ماہ کی تنخواہ کورونا ایمرجنسی فنڈ میں دے چکے ہیں۔ترجمان حکومت سندھ مرتضی وہاب نے کہاکہ فوڈ ایکٹ کے تحت کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہیبین الصوبائی نقل وحرکت کوروکاجائے گا،کورونا آرڈیننس کی منظوری دی گئی ہے کورونا پھیلانے پر زیادہ سے زیادہ دس لاکھ جرمانے کی منظوری دی گئی ہے،گورنرکی منظوری کے بعد نافذالعمل ہوگا آرڈیننس کے تحت قیمتوں میں اضافے اورذخیرہ اندوزی کوروکنے کے لئے دس لاکھ تک جرمانہ کیا جاسکے گا۔انہوں نے کہاکہ 26 فروری کے بعد لوگ مالی طورپرپریشان ہیں،پچاس ہزارتک کرایہ موخرکیا گیا ہے،بیوہ اور معزورمالک مکان کو چھوٹ دی گئی ہے،گھریلو پانی کے بل نہ لینے کی ہدایات دی جاچکی ہیں،محکمہ محنت نے ایس اوپی جاری کیا ہے کہ کوئی کسی کونوکری سے نہیں نکالاجائے گا پچاس ہزارماہانہ تنخواہ لینے والوں کومکمل تنخواہ جبکہ زیادہ اماؤنٹ والے کی تنخواہ میں کٹوتی کی جاسکے گی,تعلیمی اداروں کوبیس فیصد فیسز میں رعایت دینی پڑیگی،26فروری سے اسکولز بند ہیں،اسکولز کے پانی بجلی کے اخراجات کم ہیں،تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی فیصلہ کیا ہے،اسی فیصد اسکولوں نے حکومتی احکامات کومانا ہے ان کے شکرگزرہیں،جنہوں نے عمل نہیں کیا ان سے مودبانہ گذارش ہے کہ وہ بھی عمل کریں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلی سندھ کی اپیل پر کئی مالک مکان نے کرایہ داروں کورعایت دی،جوکرایہ دارکرایہ دے سکتے ہیں وہ اداکرسکتے ہیں،کورونا کیسوں میں اضافہ اس لئے ہواہے کہ لوگوں نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی ہے،لوگ اگراپنے آپ کوآئیسولیٹ رکھیں گے تو بہتر ہے۔ہمیں خوشی نہیں ہے لاک ڈاؤن لگانیکی،عوامی بھلائی اورمفاد کے لئے ایسا کیا گیا,سندھ کے عوام کے فیصلے کو وفاق عزت دے،وفاق بجلی گیس کی مد میں پورے پاکستان کورلیف دے,اللہ کرے وبا کا خاتمہ ہو،ہم بھی چاہتے ہیں دوکانیں کھلیں،آن لائن کاروبارکی اجازت تاجربرادری نے خود مانگی تھی۔مرتضی وہاب نے کہاکہ سندھ کے گورنرہمارے صوبے کے گورنرہیں،امید ہے آرڈیننس پر دستخط کریں گے،سندھ حکومت سب سے زیادہ متحرک رہی،دنیا نے تعریف کی کسی نے آٹھ توکسی نے بارہ ارب کی بات کیوفاقی وزرا نے پریس کانفرنس کی الزامات لگائے،تاجروں سے ہم نے یاکسی افسرنے پیسے مانگے ثبوت دیں،صنعتوں کووزیراعظم نے کھولا ہم نے تونہیں کہا کہ وزیراعظم نے پیسے لئے،ہم بھی الزمات لگاسکتے ہیں،چاہتے تھے پولیس سے انکوائری کروائیں،ہم نے ایف آئی اے سے انکوائری کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہاکہ تنقید صرف سندھ حکومت اورپیپلزپارٹی پرکی جاتی ہے،حکومت کوتوٹیکس کلیکشن کا نقصان ہورہا ہے،ڈبل سواری پرپابندی عوام کی بھلائی کے لئے لگائی گئی ہے,ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کراچی میں ٹیسٹنگ کی سہولیات زیادہ ہیں اس لئیکیسز زیادہ ظاہر ہوتے ہیں سندھ کے دیگراضلاع میں جس میں علامتیں ظاہرہوتی ہیں اس کے ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -