بیروز گاروں، بجلی بلوں کیلئے 125ارب کا پیکیج منظور، آج سے ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن شروع، کورونا وائرس مزید 15افراد کی جان لے گیا581نئے کیسز رپورٹ، متاثرین 13943ہو گئے

بیروز گاروں، بجلی بلوں کیلئے 125ارب کا پیکیج منظور، آج سے ملک بھر میں سمارٹ ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کورونا وباء کے باعث چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کے 3 ماہ کے بجلی بل ادائیگی کی منظوری دیدی،تنخواہ کیلئے نجی اداروں کو قرض کی عدم ادائیگی پر نقصانات میں 30 فیصد نقصان حکومت برداشت کریگی،پاک ایران بارڈر پر باڑ لگانے کیلئے تین ارب روپے کی ضمنی گرانٹ بھی منظور کرلی گئی۔ پیر کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں کے 3 ماہ کے بجلی بل ادائیگی کیلئے 50 ارب 69 کروڑ روپے مختص کرنے کی منظوری دیدی۔چھوٹا کاروبار اور صنعتی امداد پیکیج کے تک 95 فیصد کمرشل صارفین کو بجلی بل ادائیگی میں ریلیف فراہم کیا جائیگا، پانچ کلو واٹ سے 70 کلو واٹ لوڈ استعمال کرنے والے 72 فیصد صنعتی صارفین کو امداد فراہم کی جائیگی،سکیم کے تحت کمرشل صارفین کو ایک لاکھ اور صنعتی صارفین کو ساڑھے چار لاکھ روپے تین ماہ کیلئے امداد فراہم کی جائیگی۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اسکیم کیلئے ڈھائی ارب روپے مختص کرنے کی منظوری کمیٹی نے زرعی شعبے زرعی ٹیوب ویلوں ٹرانسپورٹرز اور مائیکرو فنانس سیکٹر کیلئے اس طرح کی اسکیم تیار کرنے کی ہدایت کر دی۔کمیٹی نے سٹیٹ بینک کو کاروباری شعبہ کو ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کی اسکیم میں کسی مسائل کے باعث قرض ادائیگی میں مشکلات آئیں تو حکومت کو اصل رقم کا تیس فیصد تک نقصان برداشت کرنا ہو گا،کمیٹی نے اقتصادی امور ڈویڑن کو جی ٹونٹی کی طرف سے قرضوں کی ادائیگی میں ری شیڈولنگ کیلئے مذاکرات کی اجازت دی تاہم ای اے ڈی کو معاہدہ کرنے سے پہلے کمیٹی سے پیشگی منظوری حاصل کرنا ہو گی،کمیٹی نے پاک ایران بارڈر پر باڑ کی تعمیر کیلئے تین ارب روپے کی اضافی ضمنی گرانٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی۔فاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ صنعت،کاروبار اور ملازمتوں سے متعلق ای سی سی نے دو پیکیج منظورکیے ہیں جو(آج) وفاقی کابینہ میں منظوری کیلئے پیش کیے جائیں گے،چھوٹے کاروبار والوں کے 3 ماہ بجلی کا بل حکومت اداکریگی، اس طرح 80 فی صد صنعتیں بجلی بل ادائیگی کے سلسلے میں مستفید ہوں گی،کورونا وباء کے باعث بے روزگار ہونے والوں کیلئے 75 ارب روپے کا پیکیج منظور کیا گیا ہے،ملازمت کھو دینے والے افراد کو 12 ہزار روپے فراہم کریں گے،متاثرہ لوگ خودکو پورٹل پر رجسٹرڈ کرائیں،منظور کئے گئے پیکیج کااطلاق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرپر بھی ہوگا۔ پیر کو وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چھوٹے کاروباروالوں کیلئے امدادی پیکیج کا اجرا کررہے ہیں،40سے60لاکھ افراد میں احساس کفالت پروگرام کے تحت رقم تقسیم کریں گے۔حماد اظہر نے کہاکہ کم آمدنی والیدیہاڑی دار افراد رجسٹریشن کراسکیں گے،امدادی پیکیج کیلئے75ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،یہ پیکیج کل منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیاجائیگا۔حماد اظہر نے کہاکہ صنعت،کاروبار، ملازمتوں سے متعلق دوپیکیج ای سی سی نے منظور کیے ہیں،وزارت صنعت اور احساس پروگرام مل کرپورٹ کااجرا کریں گے۔حماد اظہر نے کہاکہ پیکج کے تحت چھوٹے کاروبار والوں کا تین ماہ کا بل حکو مت دیگی،پیکیج کااطلاق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرپر بھی ہوگا۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کا چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی بحالی پروگرام بھی امدادی پیکیج منظور کیا گیا ہے،اس پروگرام سے 35 لاکھ کاروبار مستفید ہوسکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس پیکیج کے تحت 50 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں،اگلے تین ماہ تک بجلی کا بل حکومت ادا کرے گی۔انہوں نے کہاکہ پانچ کلو واٹ اور 70 کلو واٹ کے کمرشل میٹرز کے صارفین اس سے فائدہ اٹھاسکیں گے۔حماد اظہر نے کہاکہ پچھلے سال کا مئی جون اور جولائی کے بلز میں یہ رقم لوڈ کردیا جائے گا،یہ رقم چھ ماہ تک بجلی کے بلوں میں شامل رہے گی،32 لاکھ کمرشل اور 4 لاکھ چھوٹی صنعتوں کو فائدہ ہوسکے گا،کراچی کے چھوٹے دکانداروں کو بھی اس کا فائدہ ہوگا،وزارت خزانہ ان اداروں کو فنڈز فراہم کرے گی۔، اس پیکیج سے 35 لاکھ افراد کو فائدہ ہوگا جن میں چھوٹی دکانیں، درزی، مارکیٹیں اور چھوٹی صنعتیں شامل ہیں۔ اس پالیسی سے 5 کلو واٹ کمرشل کنشکن والے کاروبار اور 70 کلو واٹ والے صنعتی کنکشن مستفید ہوں گے، اس سے ملک کے 95 فیصد کاروباروں اور 80 فی صد صنعتوں کو فائدہ ہوگا، ان کاروباروں کے پچھلے سال مئی، جون اور جولائی کے بجلی کے بلز کی جتنی مجموعی رقم بنتی تھی، اتنی رقم ان کے مئی کے بلز میں لوڈ کردی جائے گی، تاکہ وہ بجلی استعمال کرسکیں اور انہیں بلز نہ ادا کرنے پڑیں، یہ رقم ان کے اکاؤنٹ میں صرف تین ماہ کے لیے نہیں بلکہ 6 ماہ تک موجود رہے گی کیونکہ کاروبار تو ابھی بند پڑے ہیں، جب بھی کاروبار شروع ہوگا وہ اس رقم سے فائدہ اٹھاسکیں گے، 32 لاکھ کمرشل کنکشن اور 4 لاکھ چھوٹی صنعتیں مستفید ہوں گی، اس پیکیج کا حجم 50 ارب روپے ہے جو آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور کراچی میں کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی لاگو ہوگا، وزارت خزانہ ان محکموں کو ادائیگی کرے گی۔ وفاقی وزیر صنعت حماد اظہر نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ایک اور اہم پیکج کی منظوری دی ہے،وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے چھوٹے تاجروں کے لیے 50 ارب روپے کے وزیراعظم چھوٹا کاروبار امدادی پیکج جبکہ ملازمت سے نکالے جانے والے افراد اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے 75 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کردیا۔ جس سے پورے پاکستان میں 35 لاکھ کاروبار مستفید ہوں گے، اس پروگرام کا نام وزیراعظم کا چھوٹا کاروبار امدادی پیکج ہے۔مذکورہ پیکج کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ چھوٹے تاجر جب بھی اپنے کاروبار کا بنیادی سلسلہ دوبارہ شروع کریں تو ان کے اگلے 3 ماہ کا بل حکومت پاکستان ادا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کو ایسے نافذ العمل لائیں کہ جتنے لوگوں اور کمپنیوں کا 5 کلو واٹ تک کا کمرشل کنیکشن ہے، جو پورے پاکستان کے کمرشل کنیکشنز کا 95 فیصد بنتا ہے اور 70 کلو واٹ صنعتی کنیکشن رکھنے والے، جو تمام انڈسٹریل کنیکشنز کا 80 فیصد بنتا ہے وہ اس پالیسی سے مستفید ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے بل کا تخمینہ گزشتہ برس مئی، جون اور جولائی کے مہینے میں بجلی کے بل کا مجموعی حجم ملا کر اتنی رقم بل میں شامل کردی جائے گی تاکہ بجلی استعمال ہونے پر بل ادا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ رقم صرف 3 ماہ کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی جو 6 ماہ تک بل میں شامل رہے گی تاکہ جب بھی کاروبار کا سلسلہ شروع ہو یہ رقم استعمال میں لائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 32 لاکھ کمرشل کنیکشنز اور ساڑھے 3 سے 4 لاکھ چھوٹے تاجر اس پیکج سے مستفید ہوسکیں گے۔

امدادی پیکیج

لاہوراسلام آباد،کراچی،کوئٹہ، پشاور (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا کا پھیلاؤ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا، آئے روز ہلاکتیں اور مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں وبا میں مبتلا مریضوں کی تعداد 13943 جبکہ ہلاکتیں 292 ہو چکی ہیں۔اب تک ملک بھر میں 150756 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 6391 لوگوں کا ٹیسٹ کیا گیا، ان میں سے 581 افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا جبکہ 15 اموات رپورٹ ہوئیں۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 3029 افراد کورونا مرض سے مکمل صحتیاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔ صوبہ پنجاب کی صورتحال سب سے خطرناک ہے جہاں کے مریضوں کی تعداد دیگر صوبوں سے زیادہ ہے۔صوبہ پنجاب میں اس وقت 5526 افراد اس موذی مرض میں مبتلا ہو کر ہسپتالوں میں زیر علاج ہے۔ دیگر صوبوں کی بات کی جائے تو صوبہ سندھ میں 4996، اسلام آباد میں 245، صوبہ بلوچستان میں 781، خیبر پختونخوا میں 1984، آزاد کشمیر میں 59 جبکہ گلگت بلتستان کے 318 کنفرم کیس ہیں۔اموات کے لحاظ سے صوبہ خیبر پختونخوا کی صورتحال کشیدہ ہے جہاں 104 افراد اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ صوبہ سندھ میں 85، صوبہ پنجاب میں 84، اسلام آباد میں 3، صوبہ بلوچستان میں 13 اور گلگت بلتستان میں اب تک 3 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔ادھر پنجاب سے کورونا وائرس کے 80 نئے کیس آنے کے بعد مریضوں کی کل تعداد 5526 ہو چکی ہے۔ 768 زائرین سینٹرز، 1923 رائے ونڈ سے منسلک افراد، 86 قیدیوں، 2749 عام شہریوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ کیمپ جیل لاہور میں 59، سیالکوٹ 3، گوجرانوالہ 7، ڈی جی خان 9،جہلم میں 3، بھکر 2، فیصل آباد، قصور اور حافظ آباد میں ایک ایک قیدی کورونا کا شکار ہوا۔ڈی جی خان 221 زائرین، ملتان 457، فیصل آباد 23 اور گوجرانوالہ میں 42 مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی، رائے ونڈ مرکز میں 815، شیخوپورہ 12، منڈی بہاؤالدین 33، سرگودھا 145، میانوالی 7، وہاڑی 46، راولپنڈی 30، اٹک 16، جہلم میں 54 تبلیغی ارکان کورونا میں مبتلا ہوئے۔عام شہریوں میں سب سے زیادہ لاہور میں کورونا وائرس کے 1261 کنفرم مریض ہیں، ننکانہ 12، قصور 57، شیخوپورہ 19، راولپنڈی 294، جہلم 55، اٹک 19،چکوال 4، گوجرانوالہ 149، سیالکوٹ 106، نارووال 15، گجرات میں 225 شہریوں میں تصدیق ہوئی، ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق کورونا وائرس سے اب تک کل 84 اموات ہوئیں، 1183 افراد صحت یاب ہوئے جبکہ 22 مریض تشویشناک حالت میں ہیں۔میو ہسپتال میں کورونا کا ایک اور مریض جان کی بازی ہار گیامیو ہسپتال میں کورونا کا ایک اور مریض جان کی بازی ہار گیا ہے۔ 62 سالہ شخص بیگم پورہ کا رہائشی تھا۔ جاں بحق مریض سانس میں دشواری سمیت دیگر موذی امراض میں بھی مبتلا تھا۔ سی ای او میو ہسپتال ڈاکٹر اسد اسلم نے تصدیق کر دی ہے۔پی آئی اے کا خصوصی طیارہ 18 ٹن سامان لے کر نیواسلام آباد ایئر پورٹ پہنچا۔ چیئرمین این ڈی ایم محمد افضل اور این ڈی آر ایم ایف کے سربراہ ندیم احمد نے سامان وصول کیا۔خریدے گئے طبی سامان میں 159 وینٹی لیٹرز اور 15 ایکسرے مشین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 200 تھرمل گنز، ڈاکٹروں اور طبی عملہ کے لیے ذاتی حفاظتی اشیا بھی منگوائی گئی ہیں۔ 2 لاکھ 90ہزار سرجیکل ماسک اور 15ہزار حفاظتی سوٹ بھی سامان میں شامل ہیں۔ 30 ہزار دستانوں کے جوڑے اور 5 ہزار حفاظتی عینکیں بھی خریدی گئی ہیں۔کراچی کے علاقے لانڈھی کے رہائشی کورونا مشتبہ مریض نے ہسپتال کی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی۔ ڈاکٹروں کے مطابق خود کشی کرنے والا شخص نشہ کا عادی اور ذہنی مریض تھا۔ متاثرہ شخص کو فوری زخمی حالت میں ایمرجنسی لے جایا گیا جہاں وہ دوران علاج انتقال کر گیا۔ کورونا کے مشتبہ مریض نے آئسولیشن وارڈ کی کھڑی توڑ کر چھلانگ لگائی تھی۔ اسے کل ہی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ترجمان حکومت بلوچستان کے مطابق دو روز کے دوران 72 مقامی افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی، صوبے میں 151 زائرین کیساتھ کل متاثرہ افراد کی تعداد 853 ہو گئی ہے۔ متاثرہ افراد میں 64 کا تعلق کوئٹہ، 6 پشین، 1 مستونگ اور 1 کا تعلق زیارت سے ہے۔وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کی صورت حال کے پیش نظر آج سے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کی منظوری آ گئی ہے جس کے بعد آج سے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ہوگا۔ا۔نیب آرڈیننس ترمیمی بل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن سے کچھ مشاورت ہوئی تھی، اب مشاورت سے نیا نیب آرڈیننس لائیں گے۔

سمارٹ لاک ڈاؤن

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 29 لاکھ 94ہزار 958ہو چکی ہے جبکہ اس سے ہلاکتیں 2 لاکھ 6 ہزار 997 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 19 لاکھ 9 ہزار 6 مریض اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بیشتر کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 8 لاکھ78 ہزار 955 مریض اس بیماری سے نجات پا کر اسپتالوں سے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔امریکی میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا تاحال کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں ناصرف کورونا مریض بلکہ اس سے ہلاکتیں بھی دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہیں۔امریکا میں کورونا وائرس سے اب تک 55 ہزار 415 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 87 ہزار 322ہو چکی ہے۔امریکا کے اسپتالوں میں 8 لاکھ 13 ہزار 126 کورونا مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 1 لاکھ 18 ہزار 781 کورونا مریض اب تک شفا یاب ہو چکے ہیں۔اسپین میں کورونا کے اب تک 2 لاکھ 26 ہزار 629 مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں جب کہ اس وباء سے اموات 23 ہزار 190 ہو چکی ہیں۔اٹلی میں کورونا وائرس کی وباء سے مجموعی اموات 26 ہزار 644 ہو چکی ہیں، جہاں اس وائرس کے اب تک کل کیسز 1 لاکھ 97 ہزار 675 رپورٹ ہوئے ہیں۔فرانس میں کورونا وائرس کے باعث مجموعی ہلاکتیں 22 ہزار 856 ہوگئیں جبکہ کورونا کیسز 1 لاکھ 62ہزار 100 ہو گئے۔جرمنی میں کورونا سے کْل اموات کی تعداد 5 ہزار 976 ہو گئی جبکہ کورونا کے کیسز 1 لاکھ 57 ہزار 770 ہو گئے۔برطانیہ میں کورونا سے اموات کی تعداد 20 ہزار 732 ہوگئی جبکہ کورونا کے کیسز کی تعداد 1 لاکھ 52 ہزار 840 ہو گئی۔ترکی میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار 805 ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 1 لاکھ 10 ہزار 130 ہو گئی۔ایران میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 5 ہزار 710ہو گئی جبکہ کورونا کے کل کیسز 90 ہزار 481 ہو گئے۔چین جہاں دنیا میں کورونا کا پہلا کیس سامنے ا?یا وہاں اس وائرس سے کل ہلاکتیں 4 ہزار 633 ہو گئی ہیں جبکہ کْل کورونا کیسز 82 ہزار 830 ہو گئے۔کورنا وائرس سے روس میں کل اموات747 ہو گئیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 80 ہزار 949 ہو چکی ہے۔سعودی عرب میں کورونا وائرس سے اب تک کل اموات 139 رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ اس کے مریضوں کی تعداد 17 ہزار 522 تک جا پہنچی ہے۔ترکی میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس سے مزید 106 افراد جان کی بازی ہار گئے اور حکام نے 2861 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کی وزارت صحت نے بتایاکہ ملک میں اب کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 2706 ہوگئی ہے اور اس وقت اس مہلک وَبا سے متاثرہ کل کیسوں کی تعداد 107770 ہوچکی ہے۔دوسری طرف برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور اسپین میں کورونا سے یومیہ ہلاکتوں میں واضح کمی ہوئی ہے۔ برطانیہ میں مزید 413 افراد کورونا سے ہلاک ہو گئے جبکہ اسپین میں 288 اور اٹلی میں مزید 260 افراد ہلاک ہوئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس میں 242 افراد ہلاک ہوئے جو ایک روز پہلے کے مقابلے میں ایک تہائی کم تھے۔ فرانس میں کورونا وائرس سے اب تک 22 ہزار 856 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں ہلاکتوں کی تعداد 20 ہزار 732 تک جا پہنچی ہے۔اٹلی میں 260 افراد ہلاک ہوئے اور یہ تعداد پچھلے ایک ماہ میں سب سے کم ہے، اٹلی میں 26 ہزار 856 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ تعداد امریکا کے بعد سب سے زیادہ ہے، اٹلی اپنی چھ فی صد آبادی کا کورونا ٹیسٹ کر چکا ہے۔روس میں مریضوں کی تعداد 80 ہزار سے تجاوز کر گئی لیکن روس میں شرح اموات بڑی حد تک قابو میں ہے۔ کویت کی وزارتِ صحت نے کرونا وائرس کے 183 نئے کیسوں اور ایک موت کی تصدیق کی ہے۔اس ننھی خلیجی ریاست میں اس مہلک وبا کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 3057 ہوگئی ہے۔امریکا میں کورونا مریضوں کی تعداد دس لاکھ کے قریب پہنچ گئی جبکہ 55 ہزار کے قریب افراد جان سے جا چکے،۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا میں کورونا مریضوں کی تعداد اب تک نو لاکھ 76 ہزار سے زائد ہو چکی ہے، نیویارک میں دو لاکھ 93 ہزار افراد میں کورونا وائرس پایا گیا ہے یوں صرف ریاست نیویارک کے ایک اعشاریہ پانچ فی صد باشندے کورونا کا شکار ہو چکے ہیں۔نیویارک میں اب تک 8 لاکھ 5 ہزار ٹیسٹ ہو چکے ہیں جو ریاست کی کل آبادی میں سے چار اعشاریہ ایک فی صد کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔نیویارک کے گورنر نے دواخانوں اور فارمیسی میں بھی کورونا ٹیسٹ کی اجازت دے دی ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ اب ٹیسٹوں کی تعداد میں اور اضافہ ہوگا۔امریکا اب تک 53 لاکھ 81 ہزار افراد کا کورونا ٹیسٹ کر چکا ہے۔

عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -