قبائلی علاقوں میں تھری جی اور فور جی سروسز کی فراہمی کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا وزارت داخلہ کو ایک ہفتے میں تحریری جواب جمع کرانے کا حکم

قبائلی علاقوں میں تھری جی اور فور جی سروسز کی فراہمی کیس ،اسلام آباد ...
قبائلی علاقوں میں تھری جی اور فور جی سروسز کی فراہمی کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا وزارت داخلہ کو ایک ہفتے میں تحریری جواب جمع کرانے کا حکم

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے قبائلی علاقوں میں آن لائن کلاسز کےلئے تھری جی اور فور جی سروسز کی فراہمی کے کیس میں وزارت داخلہ کو ایک ہفتے میں تحریری جواب جمع کرانے کاحکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں قبائلی علاقوں میں آن لائن کلاسز کےلئے تھری جی اور فور جی سروسز کی فراہمی کے کیس کی سماعت ہوئی، ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے کہاکہ پیراوائز کمنٹس کیلئے وقت درکار ہے ،پی ٹی اے نے حکومت کو لکھا ہے کہ اس بارے میں پالیسی واضح کریں،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ عدالت پہلے بھی کہہ چکی کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، فاٹا ایک جنگ کی کیفیت سے گزرا ہے چیزیں معمول پر آتے وقت تو لگے گا ۔

وکیل درخواست گزارنے کہاکہ ڈی سی باجوڑ کے کہنے پر انٹرنیٹ سروسز دو سے تین دن میں فراہم کر دی گئی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ باجوڑ کا معاملہ اور ہے حالات کی وجہ سے چیزیں بہت خراب ہوئیں،عدالت کے ایک حکم سے سب ایک دم ٹھیک نہیں ہو جائے گا ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ وفاقی حکومت نے انکار نہیں کیا ، تو جس کا کام ہے اس کو کرنے دیا جائے ،وفاقی حکومت نے تو وقت مانگا ہے تو انتظار کر لینا چاہئے، حکومت کو 2 نہیں ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں عدالت کو مطمئن کریں ، ہو سکتا ہے لائسنسی اس علاقے میں نہ جانا چاہیں ، وفاقی حکومت انکار نہیں کر رہی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 11 مئی تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -