زبان کا سینیٹائزر کب ایجاد ہو گا ؟

زبان کا سینیٹائزر کب ایجاد ہو گا ؟
زبان کا سینیٹائزر کب ایجاد ہو گا ؟

  

کورونا وائرس چین سے شروع ہوا  اور پھر دنیا بھر میں پھیل گیا ۔ اس جان لیوا وائرس سے  ایک لاکھ سے زائد افراد اپنی  جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔

کورونا وائرس سے بچائو کے لئے ہمیں  بہت سی حفاظتی تدابیر بھی معلوم ہوئیں  جیسا کہ صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا  ، ننزلہ زکام اور کھانسی کی صورت میں  سماجی دوری اختیار کر لینا ، گھروں پر رہنا  اور سب سے بڑھ کر  ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال ۔

یعنی ہاتھوں کو بار بار دھونا ، اگرچہ کہ ہمارے دین میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے اور بار بار ہاتھ دھونے کی تلقین کی گئی ہے ۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ  اس وائرس کے  تیزی سے پھیلائو  کے بعد ہم ہاتھ بار بار دھونے کی ہدایت پر عمل کرنا شروع ہو گئے ہیں ۔

اتنا خوف ہمیں اپنے خدا کا نہیں ، اپنے معبود کا نہیں  جتنا ڈر ہمیں کورونا کا ہے ۔ کورونا سے بچائو کے لئے ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال  میڈیا پر بار بارہاتھ دھونے کی ہدایات جاری ہونے کے بعد بڑھتا گیا ۔

اس بات سے قطع نظر کہ  کون کون سے ہینڈ سینیٹائزر معیاری قرار دئیے گئے اور کن کو ناکارہ اور نقصان دہ قرار دیا گیا ۔ اس بات کو بھی بھول جائیں  کہ کن کن کمپنیوں کو فائدہ ہوا اور کن کو ٹھیکے ملے ۔ بات صرف یہ ہے  کہ اب رمضان  الکریم  کا بھی آغاز ہو گیا ۔

کورونا کے نام پر راشن کی تقسیم کے حوالے سے بہت بے ضابطیگیاں  بھی ہوئیں  اور یہ کھاتہ اب لمبا چلنے والا ہے لہذا اسکو بھی چھوڑ دیتے ہیں ۔۔ آج موضوع یہ ہے کہ ہم ظاہری حسن کی تو بہت پروا کرتے ہیں ، آرائش و زیبائش کی اشیا کا استعمال کرتے ہیں ، ہاتھوں کی صفائی ستھرائی کا بھی آج کل خیال رکھ رہے ہیں ۔ لیکن زبان ہماری نہ گالیوں سے بچی ہے نہ  کوسنوں سے محفوظ ۔

بلکہ رمضان کا بہانہ بنا کر سڑکوں پر لڑائیاں ہو رہی ہیں  اور ساتھ ہی ساتھ مغلظات بکی جا رہی ہیں ۔ لاک ڈائون سے لوگوں کے کاروبار بند ہو گئے ، سب کا غصہ بجا بھی ہے  ، پولیس ہے تو وہ پریشان کہ کہاں کہاں راشن تقسیم کرے اور کہاں کہاں اپنے گھر کے لئے بھی اسی راشن میں سے بچا لے ۔

بڑے تاجر ہیں  تو وہ متفکر ہیں  کہ کیا کریں ، وہ اپنی زبان کی طاقت استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ  نوکریوں سے برطرفی  کا حق بھی استعمال کر رہے ہیں ۔ جیلوں میں جا کر حکومت کو دھمکایا بھی جا رہا ہے ۔حکومت ابھی تک سمارٹ لاک ڈائون اور لاک ڈائون کے فیصلوں میں الجھی ہوئی ہے ، عوام کے پیسے سے ہی امدادی رقوم تقسیم کی جا رہی ہیں  اور کہا جا رہا ہے کہ واہ بھئی واہ ہماری حکومتوں کی خیر ، حکمرانوں کا اقبال بلند ہو ۔  

راشن تقسیم کرنے والے میڈیا کو ڈھونڈ رہے ہیں کہ چند تصویریں ہی بنوا لیں ،  میڈٰیا والے بے روزگار اور جو ہیں وہ حفاظتی لباس کی تلاش میں سرگرداں اور راشن لینے والے کئی افراد ایسے ہیں  جن کے پاس راشن کی فراوانی ہے تو وہ  اسے اٹھا کر پرچون کی دکان پر فروخت کرنے آ گئے ہیں اور مطالبہ یہ کیا جا رہا ہے کہ راشن کی جگہ انھیں  شمپئیو  ، صابن  اور دیگر لگژری آئیٹم دے دئیے جائیں ۔

ان سب جگہوں پر  تلخ جملے بولنے والوں  اور دل شکنی کرنے والے افراد کی کمی نہیں ۔ سب ہی اس وبا سے پریشان ہیں لیکن  زبان کی آلودگی تو اس وائرس سے پہلے بھی موجود تھی ہے اور رہے گی ۔

جو کچھ نہیں کر سکتا  وہ اپنے رتبے اور عہدے کا خیال اور اگلے بندے کا لحاظ کئے بغیر بے ادبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  سوشل میڈیا پر گالم گلوچ میں مصروف ہے کیونکہ خالی دماغ شیطان کا گھر ہے اور ایسے شیطان رمضان میں بھی قید نہیں ہوتے ۔

سوچنے کی بات صرف اتنی سی ہے کہ ہمارے دین نے تو اس شخص کو مسلمان ہی قرار نہیں دیا جس کے ہاتھ اور زبان کے شر سے  دوسرے مسلمان محفوظ نہیں۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلے تولو اور پھر بولو ، کیونکہ زبان کا وزن بہت ہی ہلکا ہوتا ہے لیکن اسکی ضرب بہت کاری ہوتی ہے اور بہت ہی کم لوگ یہ وزن برداشت کر پاتے ہیں ۔

آج صرف یہ سوچئیے کہ  جس طرح ہاتھ دھونے کے لئے سینی ٹائزر ایجاد ہوا ہے  کیا ہم زبان کی پاکیزگی کے لئے  اسکا سینی ٹائزر خود سے نہیں بنا سکتے ، کیا ہم اپنے رویوں کو بہتر بنا کر  زبان سے لگنے والے زخموں سے دوسروں کو بچا نہیں سکتے ۔کیا ہم غیبت سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے ؟  کیا ہم طعنہ زنی سے بچ نہیں سکتے ؟ کیا ہم سوشل میڈٰیا پر تحریر کی صورت میں  گندی زبان کے استعمال کو روک نہیں سکتے ؟ یہ سب طریقہ علاج اگر ہم اختیار کریں تو یہی ہماری زبان کا سینی ٹائزر کہلائے گا ۔۔

کیونکہ زبان اگر آلودہ ہے تو اسکا یہ وائرس تو کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ 

 ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -