کتنے فیصد پاکستانی اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس کا خطرہ دراصل مبالغہ آرائی ہے؟ تازہ سروے میں حیران کن نتائج سامنے آگئے

کتنے فیصد پاکستانی اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس کا خطرہ دراصل مبالغہ ...
کتنے فیصد پاکستانی اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس کا خطرہ دراصل مبالغہ آرائی ہے؟ تازہ سروے میں حیران کن نتائج سامنے آگئے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان میں کوروناوائرس سے 300سے زائد ہلاکتوں اور چودہ ہزار سے زائد مریضوں کے باوجود پاکستانیوں کی کثیر تعداد کورونا وائرس کے خطرے کی شدت کو حقیقی نہیں سمجھتی۔

گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان کے ایک حالیہ سروے کے مطابق مارچ کے بعد ہر پانچ میں سے تین پاکستانیوں کو لگتا ہے کہ کوروناوائرس کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاگیاہے۔

سروے میں ملک بھر سے شماریاتی طور پر منتخب خواتین و حضرات سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ "برائے مہربانی بتائیں کہ آپ مندرجہ ذیل عبارتوں سے کس حد تک متفق یا غیر متفق ہیں کہ کورونا وائرس کا خطرہ اتنا نہیں ہے جتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیاگیاہے؟"

گیلپ اینڈ گیلانی سروے کے مطابق باسٹھ فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ اس بات سے متفق ہیں کہ کورونا وائرس کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاگیاہے۔ جبکہ اڑتیس فیصد نے کہا کہ وہ اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ کورونا وائرس کا خطرہ بڑھا چڑھا کر پیش کیاگیاہے بلکہ یہ اتنا ہی خطرناک ہے۔

رپورٹ میں صوبوں کے نتائج میں فرق بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں سے ہر چار میں سے تین جواب دہندگان کے مطابق کورونا کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاگیاہے۔

کل جواب دہندگان میں سے پنجاب سے اٹھاون فیصد، سندھ سے چوہتر فیصد، خیبرپختونخوا سے ستاون اور بلوچستان سے اناسی فیصد جوابدہندگان کے مطابق کورونا وائرس کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاگیاہے۔

مزید :

قومی -کورونا وائرس -