پاکستان میں کورونا وائرس پر قابو پانے میں کتنا عرصہ لگے گا؟ مصنوعی ذہانت کی مددسے تیارکردہ تحقیق جاری

پاکستان میں کورونا وائرس پر قابو پانے میں کتنا عرصہ لگے گا؟ مصنوعی ذہانت کی ...
پاکستان میں کورونا وائرس پر قابو پانے میں کتنا عرصہ لگے گا؟ مصنوعی ذہانت کی مددسے تیارکردہ تحقیق جاری

  

سنگاپور(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی  کورونا وبا پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کوششوں کے کامیاب ہونے میں کم از کم ڈیڑھ ماہ لگیں گے۔

سنگاپور کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن(SUTD) نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ڈیٹا کے تجزیے سے دنیا بھر کے ممالک میں کووڈ 19 کی وبا کے خاتمے کے وقت کی پیشگوئی کی ہے۔

یونیورسٹی نے پیشگوئی یا یوں کہہ لیں کہ تخمینہ لگایا ہے کہ پاکستان میں اس وبا پر 8 جون تک 97 فیصد قابو پالیا جائے گا۔

ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں یہ وبا 27 اپریل سے عروج پر پہنچنا شروع ہوگی، جس کے بعد کیسز کی شرح میں بتدریج کمی آئے گی اور 9 جون تک اس پر 97 فیصد، 23 جون تک 99 فیصد اور یکم ستمبر تک سو فیصد قابو پایا جاسکتا ہے۔

تخمینے کو روزانہ نئے ڈیٹا کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے، یہ صرف تعلیمی اور تحقیقی مقاصد کے لیے ہے جس میں غلطی کا امکان موجود ہے۔

یونیورسٹی کے مطابق عالمی سطح پر اس وبا پر 29 مئی تک 97 فیصد قابو پایا جاسکتا ہے، یہ شرح 17 جون تک 99 فیصد اور 9 دسمبر میں سو فیصد تک پہنچے گی۔

اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ملک امریکا میں 11 مئی تک 97 فیصد قابو پایا جاسکتا ہے جبکہ سوفیصد کنٹرول 27 اگست تک ممکن ہوگا.

اٹلی میں 7 مئی، سعودی عرب میں 21 مئی، متحدہ عرب امارات میں 11 مئی، ترکی میں 16 مئی، برطانیہ میں 15 مئی، اٹلی میں 7 مئی، اسپین میں 3 مئی، جرمنی میں 2 مئی، فرانس میں 5 مئی، جاپان میں 18 مئی، ایران میں 19 مئی، انڈونیشیا میں 6 جون، ملائیشیا میں 6 مئی ، سنگاپور میں 4 جون اور بھارت میں 21 مئی تک اس وبا پر 97 فیصد تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

یہ اے آئی تجزیہ اور تخمینہ کس حد تک درست ثابت ہوتا ہے اس کا فیصلہ آئندہ چند دن میں ہوجائے گا۔

ڈاکٹروں نے بھی پاکستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے مئی کے مہینے کو بہت اہم قرار دیا ہے جس میں احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے سے کیسز کی تعداد میں بہت زیادہ اضافے کا امکان ہے۔

خیال رہے پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 14 ہزار سے بڑھ گئی ہے اور 5640 متاثرین کے ساتھ پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔

ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 308 ہے جبکہ 3271 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ اموات کے اعتبار سے خیبر پختونخوا بدستور سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل کا بھی کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد وہ خود ساختہ تنہائی میں چلے گئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اور سابقہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے سنیٹر مرزا محمد آفریدی بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر ملک بھر میں لاک ڈاؤن نو مئی تک بڑھا دیا ہے۔

مزید :

قومی -کورونا وائرس -