کورونا لاک ڈائون میں وہ کاروبار جس کی چاندی ہوگئی ، حکومتی مشینری بظاہر غیرفعال

کورونا لاک ڈائون میں وہ کاروبار جس کی چاندی ہوگئی ، حکومتی مشینری بظاہر ...
کورونا لاک ڈائون میں وہ کاروبار جس کی چاندی ہوگئی ، حکومتی مشینری بظاہر غیرفعال

  

لاہور (ویب ڈیسک) کورونا کے لاک ڈائون کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقہ پس کر رہ گیا تاہم پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے بعد ٹیکسیوں اور چھوٹی گاڑیوں کا کاروبار چمک اٹھا، ایک شہر سے دوسرے شہر گاڑیاں بغیر کسی روک ٹوک کے سفر کررہی ہیں۔

ایک سروے کے دوران معلوم ہوا کہ پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہونے کی وجہ سے فیکٹریوں، مختلف ہسپتالوں اور دیگر ایسے مقامات جہاں پر لاک ڈائون کے باوجود کام جاری ہے، کام کرنیوالے لوگ ان ٹیکسیوں اور چھوٹی گاڑیوں جو پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے باوجود چل رہی ہیں، کا سہارا لینے پر مجبور ہیں، ایسے میں ایک کار میں چار لوگ اور اے پی ویزمیں آٹھ سے دس لوگ سفر کررہے ہیں لیکن کاروں میں بھی دو افراد سے زائد کے سفر کرنے پر لگائی جانیوالی پابندی پر عمل درآمد یقینی نہیں بنایا جارہا، ایسے میں لاہور سمیت دیگر شہروں  کے داخلی راستوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کے کردار پربھی سوال اٹھ رہے ہیں۔

ٹیکسیوں میں سفر کرنیوالے افراد نے بتایا کہ جہاں ایک ہزار روپے عام دنوں میں کرایہ تھا، وہاں یہ ٹیکسیاں اڑھائی ہزار روپے وصول کرکے سروسز فراہم کررہی ہیں، ایک کار میں چار مسافر اور ایک ڈرائیور سوار ہوتا ہے ، پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جن لوگوں کی جیب انہیں اجازت دیتی تھی، انہوں نے بھی ٹیکسیاں خرید لیں اور ایک شہر سے دوسرے شہر کیلئے سروس فراہم کررہے ہیں۔ ایسے میں محکمہ صحت کے ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مسافروں کی ہسٹری کا ساتھی مسافر کو کچھ معلوم نہیں ہوتا، ان ٹیکسیوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دینا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ 

مزید :

بزنس -کورونا وائرس -