آئی سی سی اور میزبان آسٹریلیا ٹی 20 ورلڈکپ بارے میں خاموش مگر بھارت ہاتھ دھو کر ٹورنامنٹ کے پیچھے پڑ گیا

آئی سی سی اور میزبان آسٹریلیا ٹی 20 ورلڈکپ بارے میں خاموش مگر بھارت ہاتھ دھو ...
آئی سی سی اور میزبان آسٹریلیا ٹی 20 ورلڈکپ بارے میں خاموش مگر بھارت ہاتھ دھو کر ٹورنامنٹ کے پیچھے پڑ گیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) ہاتھ دھو کر ٹی 20 ورلڈکپ کے پیچھے پڑ گیا جس نے اکتوبر میں اس کے انعقاد کو ناقابل عمل قراردیتے ہوئے کئی سوال اٹھا دئیے ہیں اور آفیشل کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلے پر پہنے کیلئے کئی پہلوﺅں کو مدنظر رکھنا ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور میزبان آسٹریلیا نے رواں برس اکتوبر، نومبر میں شیڈول ٹی 20 ورلڈ کپ کے حوالے سے اپنے ہونٹ سختی سے بند کررکھے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں بھارتی بورڈ کی جانب سے ایونٹ کے حوالے سے مسلسل غیریقینی پھیلائی جارہی ہے، اب ایک آفیشل نے ایونٹ کے اکتوبر میں انعقاد کو ناقابل عمل قرار دیدیا ہے جس نے ایک بھارتی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ اکتوبر میں منعقد ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا، ہمیں مختلف پہلوﺅں کا جائزہ لینا ہوگا،فی الحال تو آپ یہ نہیں بتا سکتے کہ غیرملکی سفر کب محفوظ ہوگا، کوئی جون کی بات کررہا اور کوئی اس سے آگے کی تاریخ دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا تب تک کورونا وائرس مکمل طور پر کنٹرول ہوچکا ہوگا، اس کے علاوہ ایونٹ میں شریک لوگوں کی زندگی کی ضمانت کون دے گا، اگر آئی سی سی اور آسٹریلیا ایونٹ کے انعقاد کیلئے بضد ہیں تو پھر ذمہ داری کس کی ہوگی، کیا آسٹریلوی حکومت یہ خطرہ مول لے سکے گی، اگر آخری لمحات میں ایونٹ منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا تو میزبان حکومت کب تک منظوری دے گی، مہمان ٹیموں کی حکومتیں کیا اپنے کھلاڑیوں کو سفر کرنے دیںگی، صرف یہی نہیں اگر ایونٹ تماشائیوں کی موجودگی میں کرانے کا فیصلہ ہوتا ہے تو کیا شائقین سٹیڈیم کا رخ کرنے پر راضی ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر تماشائی سٹیڈیم کا رخ کرتے بھی ہیں تو کیا سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کیلئے 10 میں سے صرف ایک نشست کی ٹکٹ فروخت کی جائے گی؟ ان تمام چیزوں کو اگر مدنظر رکھا جائے تو اکتوبر میں ایونٹ کا انعقاد قابل عمل دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آسٹریلین آل راﺅنڈر گلین میکس ویل نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ تماشائیوں کے بغیر ورلڈکپ کے انعقاد کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

مزید :

کھیل -