موت سے آنکھیں ملانے کی ضرورت کیا ہے؟

موت سے آنکھیں ملانے کی ضرورت کیا ہے؟
موت سے آنکھیں ملانے کی ضرورت کیا ہے؟

  

مارچ 2020ء میں کروناوائرس کی پہلی لہر آئی،پاکستانیوں نے احتیاطی تدابیر اپنائیں کہ پوری دنیا نے پاکستان کے ان اقدامات کو سراہا، یہاں تک کہ ڈبلیو ایچ او نے پاکستان کو بہت احتیاط کرنے والی قوم پایا اور پاکستان کے لئے قابل تعریف کلمات کہے،اب جبکہ کروناکی تیسری لہر اپنے عروج پر ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد اس کا شکار ہو رہے ہیں۔یہ لہر پاکستان میں اپنی ہولناکیاں پھیلا رہی ہے۔ اس وقت بھی ہمیں پہلی لہر والی احتیاطی تدابیر اپنانا ہوں گی۔ کروناایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے کروناکیسزبڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اب تو صورتحال اس حد تک خطرناک ہوچکی ہے کہ ہسپتالوں کے آئی سی یوز بھر چکے ہیں اور مریضوں کی بڑی تعداد وینٹی لیٹرز پر جا رہی ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ زیادہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وینٹی لیٹرز کی بھی کمی ہوگئی ہے جبکہ آکسیجن کی طلب بڑھنے سے بھی مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ میڈیا کے ساتھ ساتھ علما کرام سے بھی مدد  لینا ہو گی،کیونکہ ایسے معاملے میں مذہبی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ علما کرام بھی لوگوں کی ذہنیت بدلنے اور مثبت کردار ادا کرنے میں اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علما کرام کی جانب سے آگاہی پھیلانے سے بھی عوام اسے سنجیدہ لیں گے۔ یہاں پر ہمارے قومی ہیروز بھی اپنی خدمات اپنی قوم کے لئے دے سکتے ہیں۔

جو عوام تک اپنے پیغامات پہنچا سکتے ہیں۔حکومت کو بھی چاہیے کہ میڈیا سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کی بیٹھک بلائے اور انہیں اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی اپیل کرے۔ پاکستانی قوم پیار کی زبان زیادہ سمجھتی ہے لیکن کہیں نا کہیں سختی کرنا ضروری بھی ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ  سے ہماری سکیورٹی فورسز کو طلب کیا گیا ہے تاکہ کروناایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ کرونا وبا ایک خطرناک وائرس ہے جو ایک انسان سے دوسرے انسان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اگر کسی گھر کا ایک فرد بھی اس وائرس کا شکار ہوگیا تو پھر ایک کے بعد ایک شخص اس میں مبتلا ہو گا۔کورونا وبا کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لینا ہوگا کیونکہ اس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ یہ وبا بھی ایسے ہی ایک سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے، تیسرے سے چوتھے اور سینکڑوں، ہزاروں اور لاکھوں افراد تک پھیل چکی ہے۔حکومت مختلف آپشن پر غور کرے اور اس پر عوام کو اعتماد میں لیتے ہوئے سخت اقدامات کرے۔

اس وقت بھی ہمیں پہلے والا جذبہ چاہیے تاکہ اس تیسری لہر کو شکست دی جا سکے۔کئی ممالک میں کروناوائرس سے بچاؤ کے لئے اس ملک کے باشندوں کو فری ویکسین لگا دی گئی ہے۔ ہم 70سے شروع کرکے 60 اور 50سے نیچے آ رہے ہیں۔ ویکسین زیادہ سے زیادہ منگوا کر بلاتفریق شہریوں کو لگانی چاہیے۔ ہمیں فری کی ویکسین کا انتظار نہیں کرنا، اس پر فوری اقدامات کرتے ہوئے ویکسین کی خریداری کے لئے بجٹ مختص کرنا ہوگا۔اس وقت ہماری جانیں قیمتیں ہیں نا کہ پیسے!۔ کہتے ہیں ناں کہ جان ہے تو جہاں ہے۔ صحت کی اچھی سہولیات دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت عوام سے بھاری ٹیکسز وصول کرتی ہے، آئے روز کبھی آٹا، کبھی چینی، کبھی پٹرول، گیس اور پانی مہنگا کر دیا جاتا ہے۔ خدارا کچھ ایسی پالیسی اپنائیں کہ کروناسے بچا کے لئے ویکسین منگوائیں اور قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچائیں۔

 کورونا ویکسین ایک دن کے بچے سے لے کر بزرگوں تک کو لگنی چاہیے، بزرگوں کے ساتھ ساتھ ہماری نئی نسل بھی قیمتی ہے،ہمارا آنے والا مستقبل بھی بیش بہا قیمتی ہے جنہوں نے ڈاکٹری کی، انجینئرنگ کی اور اعلی تعلیم حاصل کیں۔موجودہ صورتحال میں بچے، بڑے اور بزرگ کروناوائرس میں مبتلا ہو رہے ہیں۔بڑے شہروں میں کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ہمارے ہسپتال بھر گئے ہیں، وہاں گنجائش ختم ہوگئی ہے، جو کہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔حکومت نے پہلے بھی کروناکے مریضوں کے لئے خصوصی ہسپتال بنائے تھے، اب بھی ایسے ہی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایس او پیز پر من و عن عمل درآمد کرنا ہوگا۔کرونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال میں حکومت کا فوج سے مدد لینا ایک احسن اقدام ہے کیونکہ فوج ہر مشکل گھڑی میں ہمیشہ اپنی قوم کے کام آئی ہے اور عوام بھی ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کی بات مانتے ہیں ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ 212کے مقابلے میں پاکستان کی شرح اموات بڑھ کر216تک پہنچ گئی ہے اور ہم آزمائش کی گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمارے فوجی دستے 16شہروں میں جہاں فوج کی ضرورت ہے سول انتظامیہ کی مدد کے لئے ملک کے طول و عرض میں پہنچ چکے ہیں تاکہ کرونا سے بچاؤ کے لیے اقدامات پر عمل کرایا جا سکے اگر ہم سختی سے عمل درآمد نہیں کریں گے اور بیماری تیزی سے پھیل جائے گی اور ہمارا پوری دنیا سے رابطہ کٹ جائے گا ہمیں پہلے کی طرح سختی سے ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ہے اور اپنے پیاروں کو اس مہلک وباء سے بچانا ہے۔ مجھے یہاں مشہور شاعر گلزار کی بہت پہلے وقتوں میں لکھی گئی نظم یاد آ گئی جو اس وقت صادق نظر آ رہی ہے۔

بے وجہ گھر سے نکلنے کی ضرورت کیا ہے 

موت سے آنکھیں ملانے کی ضرورت کیا ہے

 سب کو معلوم ہے باہر کی ہوا قاتل ہے 

یونہی قاتل سے الجھنے کی ضرورت کیا ہے 

ایک نعمت ہے زندگی اسے سنبھال کے رکھ 

قبرستاں کو سجانے کی ضرورت کیا ہے

مزید :

رائے -کالم -