حج مہنگا نہیں ہوا، روپیہ ٹکے ٹوکری ہو گیا ہے

حج مہنگا نہیں ہوا، روپیہ ٹکے ٹوکری ہو گیا ہے
حج مہنگا نہیں ہوا، روپیہ ٹکے ٹوکری ہو گیا ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملک بھر میں مہنگائی کا راج ہے جس سے  ہر کوئی مہنگائی مہنگائی کر رہا ہے،عالمی اقتصادی سروے بتاتا ہے کورونا کے بعد پوری دنیا کو اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے، پاکستان بھی ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں عام تو عام خواص بھی مہنگائی کی زد میں ہے۔ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے بعد حج کا سیزن آرہا ہے اس لئے مہنگا حج موضوع بنا ہوا ہے مخصوص لابی جو حج کے اہم ترین رکن کے فریضے کو غریب کو روٹی فراہم کرنے اور غریب بچیوں کی شادی کرانے سے جوڑتا ہے، زیادہ پراپیگنڈہ کر رہا ہے حج مہنگا کر دیا گیا ہے۔ سرکاری حج سکیم کے حاجی بھی پورے نہیں ہو سکے ہیں۔ حکومت سرکاری ریگولر اور سپانسر شپ سکیم کا  بچ جانے والا حج کوٹہ سعودی حکومت کو واپس کرنے کے لئے سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔اب سوال اٹھتا ہے کیا واقعی حج مہنگا ہو گیا ہے ایسا ہر گز نہیں ہوا ہے زمینی حقائق بتاتے ہیں حج2022ء کے مقابلے میں حج2023ء مہنگا نہیں ہوا ہے بلکہ سستا ہوا ہے۔البتہ پاکستانی روپیہ ٹکے ٹوکری ضرور ہوا ہے اعداد و شمار کو اگر دیکھا جائے تو حج2022ء میں پاکستانی روپیہ قدرے مستحکم تھا، سعودیہ کے ایک ریال کے بدلے50 روپے دینا پڑتے تھے اب اس وقت ڈالر اور ریال کی اڑان نے جہاں ہماری معیشت کا جنازہ نکالا ہے وہی پر ایک ریال 80ریال تک جا پہنچا ہے اس لئے حج کے خلاف مہم جوئی کرنے والی لابی کو زمینی حقائق کو سامنے رکھنا ہو گا اور حج جو اہم ترین رکن ہے صاحب استطاعت پر فرض ہے اس کے خلاف پراپیگنڈہ سے باہر رہنا ہو گا۔

میں رمضان المبارک کے15 دن حرمین شریفین میں گزارنے کے بعد چاند رات کو وطن واپس پہنچا ہوں، مکہ اور مدینہ میں رہتے ہوئے مجھے حج سے وابستہ شخصیات سے ملنے کا موقع ملا، ضیوف الرحمن سے محبت کرنے والے شہید جنونی مفتی عبدالشکور کی بڑی یاد آئی زیادہ دور کی بات نہیں، کورونا کے بعد اس شخص نے جس تیزی سے حجاج کرام کی خدمت اور رہنمائی کا بیڑا اٹھایا اور پھر تاریخ کا سستا ترین حج کرنے کے لئے دن رات ایک کیا اور پھر قوم نے دیکھا کہ ناممکن کو ممکن بنا کر حج 2023ء سستا رکھنے کے لئے لگ گیا۔واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ 11لاکھ75ہزار کے حج پیکیج کا اعلان اللہ کا بندہ خود نہیں کرنا چاہتا تھا اس کی بنیادی وجہ یہی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ میں کس طرح اتنا مہنگا پیکیج دے سکتا ہوں۔ مجھے یاد ہے اس نے حج2023ء سستا رکھنے کیلئے بار بار سعودیہ کے دورے کئے، پاکستان حج مشن کو مکاتب اور ٹرانسپورٹ و دیگر محکموں سے بارگیننگ کرنے کی ہدایت کی، اس کی ایک ہی خواہش تھی حج سستا ہو جائے۔ جب ان کی تمام کوششیں رائیگاں چلی گئی مجبوراً حج پیکیج دینا پڑا، بکنگ شروع ہو گئی، مردِ درویش آرام سے نہیں بیٹھا۔ وزارت خزانہ کے سر ہو گیا، ڈالر کی فراہمی کے ساتھ سبسڈی کی سمری لے کر کابینہ اور وزیراعظم کے سامنے پیش ہو گئے، دو دفعہ وزیر خزانہ کے ساتھ پریس کانفرنس کی اور حج اپریشن میں درییش مشکلات کا حل نکالا، اسحاق ڈار سے اعلان کروایا کہ ڈالر فراہم کریں گے۔ مدینہ منورہ میں مجھے ایک دوست بتا رہا تھا کہ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر مدینہ کو مجبور کیا، سرکاری حاجیوں کو مدینہ مرکزیہ میں ٹھہرانا ہے اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے جب تک ہیلٹن اورموون پک سرکاری حاجیوں کے لئے حاصل نہیں کر لیا، بات چل نکلی ہے تو مفتی عبدالشکور مرحوم کی محبت صرف سرکاری عازمین حج تک محدود نہیں تھی، پرائیویٹ سکیم کے حاجیوں اور پرائیویٹ سکیم کی نمائندہ ہوپ سے بھی ان کی محبت انمول نظر آئی۔ سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کے کوٹہ کی ففٹی ففٹی میں تقسیم ایچ سی ایف کے معاملات، ملٹی پل ویزہ کے معاملات سالہا سال سے کام کرنے والوں کے لئے پانچ سالہ لیٹر، درجنوں ایسے کام ہیں جو مفتی عبدالشکور کر گئے۔

ایک کام جو نہ ہو سکا وہ ہے2011ء میں سپریم کورٹ کے حکم پر کوٹہ حاصل کرنے والی96کمپنیوں کا واقفان حال کا کہنا ہے96کمپنیوں کا کوٹہ50سے بڑھا کر70یا80کرنے پر مفتی عبدالشکور راضی ہو گئے تھے مگر نام نہاد نمائندے جو الیکشن پر تو کوٹہ بڑھانے کا نعرہ لگا کر ووٹ لے لیتے ہیں عملاً رکاوٹ بنے ہمارے یہی دوست اگر مرحوم مفتی عبدالشکور کی رضا مندی کے بعد96کمپنیوں کا کوٹہ80 کرا لیتے تو96 خاندانوں کی دعائیں ہوپ کے حصے میں آتیں، عملاً ایسا نہیں ہو سکا۔ اب ردعمل میں جب ان کمپنیوں کی طرف سے سب کا کوٹہ برابر کرو کا نعرہ سامنے ہے تو سب غصے میں ہیں حالانکہ ان کے پاس اس کا جواب نہیں ہے جب قوائد، پیڈ آف کیپٹل، دفتر، عملہ ایس ای سی پی، ایف بی آر سب کچھ ایک جیسا ہے تو پھر کوٹہ کی تقسیم میں فرق کیوں۔ راقم اس حوالے سے درجنوں راز دِل میں محفوظ رکھے ہوئے ہے اب جبکہ2023ء میں درجنوں کمپنیوں کو50 کا مزید کوٹہ  مل چکا ہے تو50والوں کی تعداد500کو کراس کر رہی ہے۔ بات دوسری طرف نکل گئی بات کر رہا تھا حج مہنگا نہیں ہوا روپیہ ٹکے ٹوکری ہو گیا ہے۔ مکاتب کی فیسوں میں کمی ہوئی ہے، ٹرانسپورٹ کی فیسوں میں کمی ہوئی ہے مگر روپیہ77فیصد گر گیا ہے جس کی وجہ سے اب ریال کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستانی روپے کی بوری بھرنا پڑتی ہے۔ مرحوم مفتی عبدالشکور کو اللہ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے، حج ٹریڈ کی خوش قسمتی ہے مفتی عبدالشکور کے بعد ان کا جانشین طلحہ محمود بھی ان جیسا جذبہ رکھتا ہے،ان کی مصروفیت اور جنون مجھے سعودیہ میں دیکھنے کا موقع ملا سب سے بڑی بات طلحہ محمود کی شخصیت کی جو سامنے آئی ہے وہ ہے ان کی دبنگ شخصیات اور دو ٹوک موقف دوسری خوش آئند بات وفاقی سیکرٹری مذہبی امور آفتاب اکبر دورانی کا دوسرا حج آپریشن ہے انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے ان میں دو عملی نہیں ہے۔ وزارت کے تمام شعبوں ہوپ کے ساتھ ان کی کوآرڈی نیشن کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہوپ اور وزارت کو سرکاری سکیم کی طرح پرائیویٹ سکیم کی بکنگ کے لئے مربوط آگاہی مہم چلانا چاہئے تاکہ حج ٹریڈ کے خلاف مہم جوئی کرنے والوں کو منہ کی کھانا پڑے۔
مفتی عبدالشکور مرحوم کے اچانک چلے جانے سے اس لابی کو سخت نقصان کا سامنا ہے جس نے کوٹہ دلانے کے لئے کروڑوں روپے اکٹھے کر رکھے ہیں اتنا ہی عرض کروں گا وزارت نے جب بھی سپریم کورٹ کے احکامات کے برعکس حج کوٹہ کی تقسیم کا پنڈورا بکس کھولا، بدنامی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ وزارت اور ہوپ کے ذمہ داران کے لئے نیک خواہشات کے ساتھ حج آپریشن2023ء کی کامیابی کے لئے دعا گو ہوں۔

مزید :

رائے -کالم -