جسٹس مغل کا 8 رکنی کنبہ ایک کمرے میں 

جسٹس مغل کا 8 رکنی کنبہ ایک کمرے میں 
جسٹس مغل کا 8 رکنی کنبہ ایک کمرے میں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 ولی کامل جسٹس ڈاکٹر منیر احمد مغل مرحوم 4 کنال کا سرکاری بنگلہ چھوڑ کر بھاٹی گیٹ کے ایک سال خوردہ کمرے میں بیوی اور 6 بچوں کے ساتھ سالہا سال مقیم رہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے یہ جج بھاٹی گیٹ کی تنگ و تاریک گلی میں اپنے کنبے (کل آٹھ افراد) کے ساتھ تیسری منزل کے ایک کمرے میں مقیم رہے تو کیوں؟ کیا کوئی افتاد پڑی تھی ان پر؟ انہی کے بیٹے ڈاکٹر احمد منیر مغل نے بتایا کہ تقسیم ہند کے نتیجے میں ہمارے دادا محترم فیروز پور سے ہجرت کر کے لاہور آئے تو انہیں بھاٹی گیٹ کی اس تنگ گلی میں رہنے کو یہ ”مکان“ ملا تھا۔ مکان کی تفصیل یہ ہے۔ ایک طرف گلی میں 2 دکانیں تھیں جو اچھا پہلوان کے ساتھی جٹا پہلوان کے پاس تھیں آگے اندر کو ڈیڑھ کمرا تھا۔ ایک کمرے میں ہمارے دادا مرحوم رہتے تھے۔باقی آدھے کمرے کو بیٹھک کہہ لیجئے جو ضرورت پڑنے پر ”مہمان خانہ“ بنا لیا جاتا تھا۔

اوپر پہلی منزل پر جسٹس صاحب کے بھائی یعنی احمد کے چچا رہتے تھے، دوسری منزل پر ایک ہی بڑا کمرہ اور اس کے سامنے برآمدہ یا بالکونی تھی۔یہ مجہول سی روایت صرف احمد سے تھی لہٰذا میں نے  اس خبر واحد کی تائید و تصدیق انہی کے بھائی اور جسٹس صاحب کے دوسرے بیٹے سیشن جج عامر منیر مغل سے اپنے طور پر کرید کر کرانا چاہی، انہوں نے یوں بتایا: "اس ایک کمرے میں ابو, امی اور ہم بہن بھائی کل 8 افراد یوں رہے کہ رات کو کوئی باہر برآمدے میں سوتا تو کوئی اندر فرش پر،  ہجرت کے ایام مصائب میں ملی اس چھت سے دادا محترم کی ناقابل بیان لگاوٹ تھی، وہ اسے قطعاً چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے تھے اور ابو دادا کے سامنے یوں دست بستہ کھڑے ہوا کرتے تھے کہ گویا نماز کی نیت باندھ رکھی ہے، ابو کے لیے یہ تصور بھی محال تھا کہ وہ دادا کی خواہش کے برعکس 4 کنال کے بنگلے میں جائیں گے،یہی نہیں جناب، بات اس سے بھی آگے کی ہے، کہنے کو تو یہ معاملہ باپ بیٹے مابین تھا۔ عام معاشرتی پیمانوں پر ہم بچے اور ہماری والدہ بظاہر اس قضیے میں فریق نہیں تھے لیکن مجال ہے کہ ہم میں سے کسی ایک کے دل میں بھی ملال کا کبھی شائبہ تک آیا ہو،  بلکہ ہم سب تو اپنی زندگی کے انہی ایام کو حاصل زندگی سمجھتے ہیں کہ جب دادا ہمارے بڑے تھے"۔

استاد ولی اللہ ہو تو اس کی تجلیات شاگرد کو تا دم آخر اپنے حصار میں لیے رکھتی ہیں۔ مرحوم جسٹس صاحب نے دو میں سے ایک پی ایچ ڈی اپنے جیسے ایک اور ولی کامل ڈاکٹر عبدالواحد جے ہالے پوتہ کی نگرانی میں مکمل کی تھی۔ 70ء کی دہائی میں ادارہ تحقیقات اسلامی میں جسٹس صاحب نے چند سال انہی کی رفاقت میں کام بھی کیا۔ ادارے کے سربراہ ڈاکٹر ہالے پوتہ مرحوم کی عاجزی، انکسار، مروت، سخاوت اور للہیت کا میں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں خود مشاہدہ کیا۔ ڈاکٹر ہالے پوتہ اور ہماری عمروں میں دگنے سے زیادہ فرق تھا، لیکن ہم طلبا کا سامنا ہونے پر وہ سر جھکا کر جس عاجزی سے ہمیں سلام کرتے، وہ انہی کا خاصا تھا،ان کے ماتحت ملازمین بتایا کرتے تھے کہ وہ اپنی تنخواہ ڈرائیور، خادم، خانساماں جیسے چھوٹے ملازمین میں بانٹ کر خود قلیل سی رقم پر گزارا کرتے تھے۔

آئینی ادارے، ادارہ تحقیقات اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر ہالے پوتہ سرکاری کاموں کی انجام دہی کے لیے لاہور جاتے تو سرکاری عشرت کدے چنبہ ہاؤس میں نہیں ٹھہرتے تھے۔ وہ بھاٹی گیٹ کی تنگ و تاریک گلی میں واقع اسی مکان کے اس آدھے کمرے میں قیام کرتے جو جسٹس صاحب کے والد کے کمرے کے ساتھ دن کو بیٹھک اور رات کو ان کی خوابگاہ بنا لیا جاتا تھا۔ جٹا پہلوان کی دو دکانوں کے آگے پھاٹک تھا جس کے باہر لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس منیر احمد مغل مرحوم کی عالی شان سرکاری گاڑی کھڑی ہوتی تھی۔ احمد نے بتایا کہ ہمیں ابو کی سختی سے یہ ہدایت تھی کہ اگر دادا حکم دیں کہ پتھر مار کر گاڑی کی ونڈ اسکرین توڑ دو تو تم نے سوال نہیں کرنا کہ کیوں،بلکہ حکم کی پیروی میں گاڑی کو بہرحال توڑنا ہے، پھر میں جانوں اور سرکار جانے۔

ادارہ تحقیقات اسلامی کے روایت پسند ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے مرحوم جسٹس منیر احمد مغل کے ایصال ثواب کے لیے 22 اپریل کو ریفرنس منعقد کیا۔ ریفرنس میں مرحوم کے اہل خانہ، رفقائے کار اور میرے جیسے نیاز مندوں نے بھی اظہار خیال کیا۔ میں نے جب جسٹس مرحوم کا گاڑی توڑنے والا مذکورہ حکم بیان کیا تو ساتھ بیٹھے ان کے دوسرے بیٹے عامر منیر مغل سیشن جج نے اس پر یوں اضافہ کیا: "جناب, ابو کا یہ حکم بھی تھا کہ دادا کہیں کہ گاڑی کو آگ لگا دو تو تم نے گاڑی کو واقعی آگ لگانا ہوگی۔" احمد نے بتایا: "ابو کے ایک دوست ڈاکٹر حافظ احمد خان نے ایک دفعہ ان سے حسرت بھرا استفسار کیا: "جناب, کیا میں بھی کبھی حج کر پاؤں گا"؟ ابو محبت آمیز طیش میں آ کر جو بولے وہ نہ صرف پورا بلکہ حرف بہ حرف پورا ہوا". ابو نے احمد خان سے کہا تھا: احمد خان جاؤ، تم ایک نہیں 11 حج کرو گے". پھر ڈاکٹر احمد منیر مغل نے کلمہ طیبہ پڑھ کر بتایا: "انکل احمد خان نے واقعی پورے 11 حج کیے"۔

وفاقی شرعی عدالت کے جسٹس ڈاکٹر سید انور نے جسٹس مرحوم سے اپنی متعدد ملاقاتوں کا لذت بھرا نچوڑ ایک جملے میں سمو کر رکھ دیا۔کہنے لگے کہ جسٹس مغل مرحوم فرمایا کرتے تھے: 'ہم جج جس کرسی پر بیٹھتے ہیں وہ خدائی منصب ہے، لیکن یاد رکھنا، یہ منصب تو خدائی ہے، ہم خدا نہیں ہیں، کبھی خدا نہ بن جانا". جسٹس صاحب نے مزید بتایا کہ یہی بات اسلام آباد کے ایک اور جسٹس ریاض خان بھی اپنے انداز میں کہا کرتے تھے۔ جسٹس منیر احمد مغل مرحوم کے حوالے سے یہ ایمان افروز باتیں کہہ، سن اور لکھ کر ایمان میں ایک تازگی سی آگئی ہے۔

لیکن دل ڈوب بھی رہا ہے کہ ایام ماضی کی یہ باتیں جی لبھانے کو کافی ہیں۔ ذہن میں سوال ابل رہا ہے کہ کیا آج عدلیہ میں کوئی ایک جج بھی ایسا ہے جسے ہم جسٹس منیر مغل جیسا یا ان کا نعم البدل کہہ سکیں۔ کیا کسی کے پاس اس سوال کا جواب  ہے؟ میں نے سروے تو نہیں کیا لیکن اسی مذکورہ ریفرنس کے شرکا کے سامنے اپنا سوال یوں رکھا: "جسٹس منیر مغل کی طرح 4 کنال کا سرکاری بنگلہ چھوڑ کر اچھے پہلوان والی بوسیدہ گلی کے مکان کے ایک کمرے میں بیوی اور 6 بچوں کے ساتھ رہنے کے مماثل کیا کسی اور جج کی مثال موجود ہے"؟ پانچواں دن ہے ابھی تک کسی کا جواب نہیں آیا۔ اللہ کرے، یہ کچھ سن پڑھ کر جسٹس صاحب مرحوم کی پیروی میں کوئی ایک جج ہی ایسی سادہ زندگی گزارنا شروع کر دے۔ کاش ایسا ہو جائے۔ میری تحریروں کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -