آہ! علامہ پروفیسر محمد ابراہیم خادم قصوری(مرحوم)

آہ! علامہ پروفیسر محمد ابراہیم خادم قصوری(مرحوم)

  

مولانا محمد ابراہیم خادم قصوری(مرحوم) کا شمار عرب و عجم کے ان بلند پایہ علماءمیں ہوتا تھا،جن کا خطاب سننے کے لئے لوگ ہمیشہ بے تاب رہتے تھے۔اپنی پوری زندگی فرقہ واریت سے بالاتر رہے،جن کی خطابت منفرد انداز کی تھی۔موت ، قبر، احوال قیامت، توحید،شان صحابہ، فضائل اہل بیت ،خاص طور پر شان مصطفےٰ .... زندگی بھر یہی موضوع رہے۔

آپ کو ہمیشہ ایک ہی فکر تھی کہ پاکستان میں مکمل طور پر اسلام کا غلبہ ہو۔آپ کے عقیدت مندوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ جماعت اہل حدیث کے عظیم ستون تھے۔مولانا محمد ابراہم خادم قصوری ایک بے باک اور نڈر خطیب تھے۔آپ ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کے داعی رہے۔سیاسی لحاظ سے خاندانی مسلم لیگی تھے۔آپ سے بڑے بڑے سیاسی رہنما ہمیشہ رابطے میں رہتے تھے۔ جرائد و رسائل میں آپ کے مضامین و خبریں شائع ہوتی رہتی تھیں۔عربی،فارسی، اردو، پنجابی اور میواتی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ راجپوت گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔

تحریک نظام مصطفےٰ ،تحریک ختم نبوت اور دھرنا مار تحریک میں پسِ دیوار زنداں رہے۔مرحوم ڈگری کالج حجرہ شاہ مقیم میں اٹھارہویں گریڈ کے پروفیسر تھے ،جہاں پر ہزاروں طلباءآپ کے شاگرد ہونے پر ناز کرتے ہیں۔آپ کی تقاریر میں تحقیقی رنگ غالب رہتا تھا ۔آپ نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی۔ آپ نے اسلامی ممالک، بالخصوص سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، مصر، مسقط اور عراق کے متعدد تبلیغی اور مطالعاتی دورے کئے۔آپ متعدد کتابوں کے مصنف تھے،جن میں قابل ذکر کتابیں(مسک المدینہ، کنزمکہ اور مسک المختوم )شامل ہیں۔

تحریک پاکستان کے وقت آپ کے دادا،دادی اور پورا گھرانہ ہندوﺅں ،سکھوں اور بلوائیوں کے ہاتھوں شہید ہوگیا۔آپ شروع ہی سے مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی مرکزی کابینہ کے ممبر چلے آ رہے تھے۔سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔آپ نے آزاد حیثیت سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا،جس میں جیت آپ کا مقدر نہ تھی۔عرصہ چالیس سال سے ملک و ملت کی خدمت کرنے والا یہ آفتاب و مہتاب مورخہ 14 اگست 2012ءبروزمنگل دن 11:30بجے طویل علالت کے بعد لاہور سروسز ہسپتال میں تقریباً چھپن سال کی عمر پا کر اس فانی دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا(انا للہ و انالیہ راجعون) مزے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ آپ کا ماہ رمضان کے آخری عشرے چھبیسواں روزہ اور ستائیسویں رات کو نماز جنازہ ہوا۔آپ کی نماز جنازہ مرکزی جمعیت اہلحدیث صوبہ پنجاب کے امیر مولانا عبدالستار حامد صاحب نے درد دل سے پڑھائی۔نما ز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت فرمائی اور ہر آنکھ اشک بار تھی،جس میں مذہبی، سیاسی، سماجی سب لوگ شامل تھے۔ 

مزید :

کالم -