جاوید ہاشمی کی سیاست کے مختلف رنگ

جاوید ہاشمی کی سیاست کے مختلف رنگ

  

ستر کی دہائی میں سقوط ڈھاکہ کے بعد نظریہ ¿ ضرورت کے تحت ذوالفقار علی بھٹو بذریعہ سول مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بقیہ پاکستان کے سربراہ بن گئے۔ کچھ عبرتناک شکست اور کچھ غلام مصطفی کھر اور ٹیلنٹڈ کزن ممتاز بھٹو کے فاشسٹ جمہوری ماڈل نے پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاسی قیادت پر ایک سکوت طاری کر دیا تھا، ایسے میں بنگلہ دیش نا منظور کے نام پر نوجوانوں میں ایک توانا تحریک کا آغاز ہوا۔ اس تحریک کا قائد ملک بھر میں نوجوانوں کا سب سے مقبول قائد جاوید ہاشمی تھا گورنمنٹ کالج ملتان سے طلبہ سیاست کا آغاز کرنے والا جاوید ہاشمی پیپلز پارٹی کے دھونس اور دھاندلی کے تمام حربے ناکام بنا کر طلبہ یونین کا صدر منتخب ہوا تھا۔ اس مہم میں لگنے والا نعرہ ”ایک بہادر آدمی، ہاشمی ہاشمی“ اب ملک بھر میں گونج رہا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے پورے دور حکومت میں جاوید ہاشمی بھٹو کی نام نہاد جمہوری حکومت کے سامنے ڈٹا رہا اور سر بلند بھی ٹھہرا۔ ملک کے گوشے گوشے میں جاوید ہاشمی ایک بہادر آدمی کے طور پر اپنی شناخت رکھتا تھا ۔ ہر روز نئے مقدمے اور نئی حوالاتیں ہاشمی کے عزم و استقلال کو کم نہ کر سکیں۔ 1977 میں انتخابات میں دھاندلی اور پھر عوامی تحریک کے نتیجے میں بھٹو حکومت کا خاتمہ اور جنرل ضیاءکا مارشل لاءاس خطہ میں بڑی تبدیلیوں کا آغاز بنا۔ جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاءکی چھتری تلے اپنی پہلی کابینہ تشکیل دی تو اس میں جاوید ہاشمی کا نام بطور وفاقی وزیر شامل تھا۔ مارشل لاءکی چھتری تلے نوجوانی میں وفاقی وزارت نے ان سب سے بہادر آدمی کو مغلوب کر دیا آگے چل کر جاوید ہاشمی کو بھی اس غلط فیصلے کا احساس ہو گیا اور خود جاوید ہاشمی نے اپنی غلطی تسلیم بھی کر لی۔ بہادر آدمی کو ایسا ہی کرنا چاہئے تھا۔ 1997ءکے بلدیاتی انتخابات کے دوران ملتان میں ایک آزاد گروپ کی تشکیل اور پھر قریشی اور گیلانی گروپ کے اتحاد کے مقابلے میں کامیابی جاوید ہاشمی کا عملی سیاست میں شاندار آغاز تھا۔ 1985ءکی غیر جماعتی اسمبلی میں جاوید ہاشمی اہل اقتدار کے بجائے حزب اختلاف کے مختصر گروپ کا ممبر تھا۔ 1988ءمیں جنرل ضیاءکی حادثاتی موت پاکستان میں نئی سیاسی گروہ بندی میں جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ اور پھر نواز شریف کے ساتھ سیاسی راہ اختیار کی۔

مسلم لیگ اور نواز شریف کے ساتھ قریباً 25سال کا طویل سیاسی سفر جاوید ہاشمی کی سیاسی زندگی کا ناقابل فراموش حصہ ہے ۔ کس نے کس کا زیادہ خیال رکھا اور کس نے کس کے ساتھ وفا داری نبھائی؟ مختصر کہانی نہیں، لیکن یہ آج کا موضوع نہیں، ہاں اتنا ضرور ہے کہ یہ سارا تعلق یکطرفہ نہیں تھا۔ اگر جاوید ہاشمی نے اپنی بہترین صلاحیتیں مسلم لیگ اور نواز شریف کی محبت میں صرف کیں ، تو جواب میں بھی ایسی ہی محبت کا مظاہرہ کیا گیا۔ اگر جاوید ہاشمی نے پارٹی کے لئے قیدو بند کی سختیاں برداشت کیں، اپنے اہل خانہ سے جدائی برداشت کی اور طویل قید تنہائی میں بیماریوں کا سامنا کیا ، تو پارٹی نے بھی 1988ءمیں دو بار آبائی حلقے میں ناکامی ،1993ءاور 2002ءمیں شاہ محمود قریشی کے ہاتھوں شکست کے باوجود لاہور کے محفوظ حلقوں سے الیکشن میں کامیابی دلا کر جاوید ہاشمی کو عملی سیاست میں زندہ رکھا۔ 2008ء کے انتخابات میں ایک بار پھر مسلم لیگ کو اندازہ تھا کہ جاوید ہاشمی اپنے آبائی حلقے سے شاہ محمود قریشی کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوں گے، اس لئے پارٹی پالیسی کے برخلاف جاوید ہاشمی کو چار دیگر حلقوں سے پارٹی ٹکٹ پر انتخاب لڑایا۔ واضح رہے کہ پوری مسلم لیگ (ن) میں جاوید ہاشمی واحد امیدوار تھے جو چار حلقوں سے انتخاب لڑ رہے تھے اور ہرجگہ انتخابی مہم پارٹی کارکن پارٹی فنڈ سے چلا رہے تھے۔

انتخابات کے بعد ابتدائی دنوں میں ہی پارٹی میں کاسہ لیس اور ذاتی غلاموں کا گروپ جاوید ہاشمی اور میاں نواز شریف کے درمیان فاصلے قائم کرانے میں کامیاب ہو گیا۔ کاسہ لیسوں اور ذاتی غلاموں کا گروپ ہر پارٹی، چاہے چھوٹی ہو یا بڑی ہر جگہ موجود ہوتا ہے، پاکستان میں تو ویسے بھی سیاسی جماعتیں اپنی شناخت ہی اپنے اپنے سیاسی قائد کی ذات کے حوالے سے ہی رکھتی ہیں جاوید ہاشمی جیسے عملی تجربہ رکھنے والے سیاست دان کے لئے کوئی انہونی چیز نہیں تھی، لیکن اس بار جاوید ہاشمی کے اعصاب عمر کے ساتھ ساتھ اتنے کمزور ہو گئے یا پھر نواز شریف کی غیر موجودگی میں مسلم لیگ(ن) کی صدارت، اس دوران پرویز مشرف کی جانب سے دوران گرفتاری، جسمانی تشدد کے باوجود اپنی ثابت قدمی کو پارٹی میں تسلیم نہ کئے جانے کے غم نے جاوید ہاشمی کو اس قدر ذہنی دباﺅ کا شکار کر دیا، جس کے نتیجے میں ہر قسم کے مخالفین کا دلیری سے مقابلہ کرنے والا بہادر آدمی ٹوٹ پھوٹ کر خوفناک بیماری کا شکار ہو گیا۔

 بستر مرگ پر بیماری سے جنگ لڑتا ہوا جاوید ہاشمی ذہنی طور پر مکمل طور پر صحت مند تھا۔ اسے اس بات کا بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ اس عمر میں اس خوفناک بیماری کے جھٹکے کے باعث جسمانی طور پر وہ اب پہلے جیسی فعال سیاست کے قابل نہیں رہے گا۔ اسے اس بات کا بھی علم تھا کہ نتیجے میں پارٹی میں اپنے مخالفین سے اب مقابلہ کرنا اور مشکل ہو جائے گا ۔ان سب باتوں کے باوجود نواز شریف اور اپنے درمیان باہمی تعلق اور ذاتی احترام کے رشتے نے پارٹی چھوڑنے کے حوالے سے آخری فیصلہ تک پہنچنے کے لئے جاوید ہاشمی شدید ذہنی دباﺅ کا شکار رہا، مگر آخر کار دل و دماغ کی یہ لڑائی اپنے اختتام کو پہنچی۔ جاوید ہاشمی مسلم لیگ اور نواز شریف کو خیر باد کہہ کر تحریک انصاف کی نذر ہو گئے۔ یہ فیصلہ کتنا مشکل تھا اور ذہنی دباﺅ نے بہادر آدمی کو کتنا توڑ پھوڑ دیا، اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جاوید ہاشمی جس نئی پارٹی میں شامل ہو رہے تھے، وہاں ان کا سب سے بڑا سیاسی اور ذاتی مخالف شاہ محمود قریشی پہلے ہی سے موجود بھی تھا اور تنظیمی طور پر اپنی جگہ بھی بنا چکا تھا۔

حالات کے جبر اور اپنی سیاسی بقاءکی جنگ نے جاوید ہاشمی کو اپنے مقام و مرتبے سے نیچے آنے پر مجبور کر دیا انتہا یہ ہے کہ محض ایک ہفتے میں دوبار میڈیا کے سامنے آکر جاوید ہاشمی نے نواز شریف، شہباز شریف سے لے کر مسلم لیگ کی تمام قیادت پر ذاتی الزامات کے تابڑ توڑ حملے کئے۔ مسلم لیگ اور تحریک انصاف کی اس گھٹیا لڑائی اور لڑاکا عورتوں کی طرح بازاری زبان کے مقابلے میں کون سچا ہے اور کون جھوٹا؟ نہ مجھے اس سے غرض ہے اور نہ سروکار، کیونکہ اس طرح کے منظر پاکستانی سیاست میں کوئی نئی بات نہیں۔ ابھی حال ہی میں ذوالفقار مرزا بہ مقابلہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (نواز) بہ مقابلہ ایم کیو ایم میں عوام بازاری زبان اور گھٹیا الزامات کی لڑائی کا مظاہرہ دیکھ چکے ہیں۔ میرا غم تو اپنے ہیرو جاوید ہاشمی کے زوال پر ہے۔ جاوید ہاشمی کی دونوں حالیہ میڈیا کانفرنسوں میں اُن کے اردگرد سیاسی نومولود اور سیاسی پیداگیر براجمان تھے۔

 ہاشمی آج کل بہ لحاظ عہدہ تحریک انصاف کے مرکزی صدر ہیں، مگر عمران خان پر الزامات کی صفائی اور مسلم لیگ کی قیادت پر جوابی الزامات کی جنگ میں تحریک انصاف کی مرکزی قیادت غائب نظر آئی۔ سیاسی نومولودوں اور سیاسی پیدا گیروں کے درمیان بیٹھ کر بازاری اور گھٹیا زبان سے الزام اور جوابی الزام کی سیاست نے بہادر آدمی کو بہت چھوٹا کر دیا ہے۔ یہ بجا کہ سیاسی بقاءکی خاطر یہ مجبوری ہے اور سکہ رائج الوقت بھی ،مگر یہ ان لوگوں کی تو مجبوری ہو سکتی ہے جن کی شناخت ہی یہ ہو یا پھر انہیں اپنی شناخت کے لئے یہ سب کرنا ضروری ہو، جاوید ہاشمی کو شناخت کی مجبوری تو نہیں، مگر شاید اس بار یہ بہادر آدمی جسمانی بیماری اور ذہنی دباﺅ کے باعث کاسہ لیسوں اور ذاتی غلاموں کے ہاتھوں اتنا مجبور ہو گیا کہ بغاوت کے بجائے سیاسی غلامی کی راہ اختیار کر لی۔ ویسے ہاشمی صاحب بد زبانی اور بازاری زبان سے کبھی سیاسی قد میں اضافہ نہیں ہوتا ،اگر ایسا ہوتا تو فیصل رضا عابدی اور شیخ رشید آپ سے بڑے لیڈر ہوتے۔ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں ،آپ کو ٹوٹتے اور بکھرتے نہیں دیکھ سکتے۔     ٭

مزید :

کالم -