جموں کشمیر :سیاحوں کی آمد کا مطلب امن کی بحالی نہیں

جموں کشمیر :سیاحوں کی آمد کا مطلب امن کی بحالی نہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


سرینگر(آ ئی اےن پی )اندرونی سلامتی کے ایک سینئرآفیسر اور پالیسی ساز نے ”لاکھوں سیاحوں کی آمد کو کشمیر میں بحالی امن سے نہ جوڑنے کا مشورہ“دیتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ الیکشن میں حصہ لینے کے باوجود کشمیر ی انڈین سسٹم پر بھروسہ نہیں کرتے۔وادی میں شدید بھارت مخالف جذبات کا اعتراف کرتے ہوئے سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل ڈاکٹر این سی استھانہ نے کہا کہ سڑک حادثے میں کسی کی موت کے خلاف احتجاج کرنے والے بھی ہم کیا چاہتے آزادی کا نعرہ بلند کردیتے ہیں۔ مےڈ ےا رپورٹس کے مطابق مرکزی پولیس فورس ”سی آر پی ایف “ کے انسپکٹر جنرل (کوبرا ) ڈاکٹر این سی استھانہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں سیاحوںکی ا?مد کا یہ مطلب نہیں نکالا جانا چاہیے کہ کشمیر میں نارملسی آچکی ہے۔ انہوںنے کہا ہے کہ وادی میں شدت کے ساتھ بھارت مخالف جذبات پائے جاتے ہیں اور اس کا ثبوت تب ملتا ہے جب کسی بھی شہری ہلاکت کے خلاف لوگ سڑکوںپر آکر ”نعرہ تکبیر “ اللہ اکبر کے بعد ” ہم کیا چاہتے آزادی “ کا نعرہ بھی بلند کرتے ہیں۔ ڈاکٹر استھانہ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ تحریر کردہ ایک کتاب سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے نئی دہلی سے شائع ہونے والے ایک موقر انگریزی رسالے (تہلکہ ) کو بتایا ہے کہ مرکزی حکومت کو یہ سوچ کر نہیں چلنا چاہیے کہ لاکھوں کی تعداد میں سیاحوں کی آمد کا مطلب کشمیر میں بحال امن ہے۔ انہوںنے کہا ہے کہ انتخابات میں کشمیری بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور ہم اس کا غلط مطلب نکالتے ہیں۔ ڈاکٹر استھانہ کے بقول انتخابات میں حصہ لینے کے باوجود کشمیری بھارت پر اعتبار نہیں کرتے۔ انہوںنے کہا ہے کہ ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنا ہوگی کہ انتخابات میں حصہ لینے کے باوجود کشمیری انڈین سسٹم پر بھروسہ نہیں کرتے۔ انہوںنے کہا کہ لوگ اسلئے ووٹ ڈالتے ہیں تاکہ منتخب نمائندے ان کے روز مرہ مسائل اور مشکلات کا سدباب کریں

مزید :

عالمی منظر -